گھر میں باکسر عامر خان کی چلتی ہے یا اہلیہ فریال کی؟


عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کی اہلیہ فریال مخدوم کہتی ہیں کہ بہت سے دوسرے جوڑوں کی طرح ان دونوں میں بھی تکرار ہوتی رہتی ہے کہ بچوں کو کس نے سنبھالنا ہے اور برتن کس نے دھونے ہیں لیکن انہوں نے بتایا کہ گھر میں زیادہ ان ہی کی چلتی ہے کیوںکہ عامر خان ان کے گھر کا چوتھا بچہ ہیں جن کے مطالبات میرے ایک سالہ بچے سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ 34 سالہ عامر خان برطانیہ میں باکسنگ کا پاکستانی چہرہ ہیں جنہوں نے نہ صرف 2004 کے اولمپکس میں ملک کو چاندی کا تمغہ جیت کر دیا بلکہ دو مرتبہ عالمی چیمپیئن بھی بنے۔ اس کے علاوہ وہ ایک خیراتی تنظیم بھی چلاتے ہیں، اور باکسنگ کی ایک اکیڈمی بھی۔ عامر مشرق وسطیٰ میں باکسنگ کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے گورنروں میں بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب انکی اہلیہ فریال کا کاسمیٹکس کا اپنا ایک برانڈ چلاتی ہیں اور ایک جانی پہچانی انفلوئنسر بھی ہیں۔ جہاں تک عامر خان کا تعلق ہے تو ان کی زندگی میں صاف ظاہر ہے بہت گلیمر ہے۔ ان کا ایک گھر دبئی میں ہے جہاں وہ چھٹیاں گزارتے ہیں، وہ ہر وقت ڈیزائنر کپڑوں میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں، لیکن بچوں کی نیپی بدلتے وقت وہ پریشان ہو جاتے ہیں اور اپنی اہلیہ سے تکرار بھی کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ انہیں گھر کے کوڑا کرکٹ والے پلاسٹک کے تھیلے بھی اٹھا کر گھر کے باہر پڑے ڈراموں میں رکھنا پڑتے ہیں لیکن یہ کام بھی وہ خوشدلی سے نہیں کرتے۔ عامر خان بتاتے ہیں کہ کوڑا پھینکتے وقت بھی پہلے انہیں چیک کرنا پڑتا ہے کہ سیاہ ڈرم میں کون سا کوڑا ڈالنا ہے، ری سائیکلنگ والے بِن میں کیا جاتا ہے اور کھانے کی بچی کچھی چیزیں کس ڈبے میں ڈالنی ہیں۔ دوسری جانب فریال بتاتی ہیں کہ گھر میں ان ہی کی چلتی ہے اور ان کی نظر میں ’عامر گھر کا چوتھا بچہ ہیں کیوں کہ ان کے مطالبات میرے ایک سالہ بچے سے بھی زیادہ ہیں۔‘
بہت سے دوسرے جوڑوں کی طرح ان دونوں میں بھی تکرار ہوتی رہتی ہے۔ یاد رہے کہ پچھلی مرتبہ انکی آپسی تکرار اتنی بڑھی کہ دونوں کی علیحدگی ہوگئی اور بات طلاق تک پہنچ گئی تھی لیکن پھر دونوں نے بچوں کی خاطر سمجھوتہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ فریال کہتی ہیں کہ میں محض عامر خان کی بیوی نہیں ہوں، میری ایک اپنی زندگی اور اپنا کیریئر بھی ہے۔ عامر اور فریال نے دبئی میں ایک پرتعیش گھر بھی خرید رکھا ہے، جس کے بارے میں عامر نے بتایا کہ یہ ان کے مشرق وسطیٰ میں عالمی باکسنگ چیمپئن شِپ کے صدر بننے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جب اس گھر کی خریداری کی خبریں منظر عام پر آئیں تو جوڑے کو ذرائع ابلاغ میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ جب دنیا ایک عالمی وبا سے گزر رہی ہے تو عامر اور فریال کو زیب نہیں دیتا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی دولت کی یوں نمائش کرتے پھریں۔
لیکن عامر اس تنقید سے زیادہ پریشان نہیں ہوتے۔ انہوں نے ایک برطانوی روزنامے میں شائع ہونے والی ایک تصویر کے بارے میں بتایا کہ جس بہت مہنگی کار کے پاس وہ کھڑے ہوئے ہیں وہ ان کی ملکیت نہیں تھی بلکہ انہوں نے محض یہ کہا تھا کہ یہ کار انہیں پسند ہے۔ عامر خان نے بتایا کہ میں نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے بہت محنت کی ہے۔
لہکن شہرت اور دولت کے ناز نخروں کے باوجود عامر کے دل میں اپنے آبائی شہر بولٹن کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے بتایا کہ میرے دوست اب بھی وہی ہیں جو میرے ہائی اسکول میں تھے، میں بالکل بھی نہیں بدلا، میں نے خود کو ہمیشہ اصلی رکھا ہے۔
دوسری جانب فریال کا تعلق نیویارک سے ہے اور جب انہوں نے 2013 میں عامر سے شادی کی تو وہ بھی قانون کی تعلیم چھوڑ کر عامر کے ساتھ بولٹن آ گئیں۔ 2017 میں جھگڑے کے بعد وہ ایک دوسرے سے عارضی طور پر علیحدہ ہو گئے تھے۔ اس دوران فریال نے عامر کو برا بھلا بھی کہا تھا کیوں کہ فریال پر الزام تھا کہ ان کے باکسر اینتھونی جوشوا کے ساتھ خفیہ تعلقات ہیں۔ جہاں تک جوشوا کا تعلق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ فریال سے کبھی ’مِلے تک نہیں ہیں۔‘ اس حوالے سے فریال کا کہنا تھا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ میرے اور عامر کے درمیان کیا مسئلے تھے، لیکن اس وقت بہت دُکھ ہوتا ہے جب لوگ جوشوا کا ذکر لے کر بیٹھ جاتے ہیں، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب آپ زندگی کے اُس دور کو پیچھے چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے عامر کہتے ہیں کہ ہم سب نے غلطیاں کی ہیں۔ لیکن اب میں ایک اچھے مقام پر ہوں اور میں لوگوں کو دکھانا چاہتا ہوں کہ آپ ایسے مسلوں نکل کر آگے کا سفرکرتے ہیں۔ فریال بتاتی ہیں کہ مجھے عامر سے علیحدگی کے بعد بہت نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی لوگ مجھے کہتے تھے کہ تم اچھی مسلمان ہو، کبھی کہتے تم بری مسلمان ہو، کبھی میرے لباس پر تنقید، کبھی میری شادی پر، کبھی کہتے تھے کہ تمہاری کوئی وقعت نہیں، اور کبھی کہا جاتا کہ تم بہت مطلبی ہو۔
عامر کے مطابق جب آپ ایک عوامی شخصیت ہوتے ہیں تو آپ کو ایسی باتیں سننا پڑتی ہیں۔ ایسے میں آپ کو کُھل کے بات کرنی پڑتی ہے۔ آپ لوگوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں کیا سوچنا چاہیے۔

یاد رہے کہ عامر خان کا آخری مقابلہ جولائی 2019 میں بِلّی ڈِب کے ساتھ ہوا تھا جس میں فتح کے بعد ان کے ریکارڈ کے مطابق عامر پروفیشل باکسنگ کے 39 مقابلوں میں سے 34 جیت چکے تھے۔ عامر کہتے ہیں کہ اگر میری زندگی سے باکسنگ ختم ہوگئی تو میں گُم ہو جاؤں گا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ بطور باکسر ان کی زندگی ختم نہیں ہوئی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک دو مرتبہ پھر رِنگ میں اتروں، مقابلہ کروں اور پھر جیت کے بعد باکسنگ کو خیرباد کہہ دوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button