میشا شفیع علی ظفر کے خلاف گواہ پیش کرنے میں ناکام


وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے لاہور سینٹرل کی خصوصی عدالت کو پیش کردہ چالان میں بتایا ہے کہ گلوکارہ میشا شفیع گلوکار علی ظفر پر لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزام سے متعلق کوئی بھی گواہ پیش کرنے میں ناکام رہیں۔
چنانچہ اب اس بات کا قوی امکان ہے کہ عدالت دس اپریل کو اس کیس کا فیصلہ سنا دے گی۔
ایف آئی اے کی جانب سے خصوصی ٹرائل عدالت میں پیش کیے گئے حتمی چالان میں میشا شفیع سمیت 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ دیگر شخصیات میں معروف اداکارہ عفت عمر، ماہم جاوید، لینا غنی، حسیمس زمان، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حمنہ رضا اور علی گل پیر شامل ہیں۔ ایف آئی اے نے ابتدائی طور پر خصوصی عدالت میں دسمبر 2020 میں عبوری چالان پیش کیا تھا، بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے میشا شفیع سمیت تمام افراد کے خلاف حتمی چالان بھی پیش کر دیا تھا۔ ایف آئی اے کے چالان میں بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے طلب کرنے پر گلوکارہ نے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کروایا تھا مگر وہ اپنے الزام کی تصدیق کے لیے کسی بھی گواہ کو پیش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ چالان کے مطابق میشا شفیع نے بتایا کہ انہوں نے جنسی ہراسانی سے متعلق مفاد عامہ کی خاطر ٹوئٹ کی تھی۔خصوصی عدالت میں پیش کیے گئے چالان کے ساتھ تمام نامزد 9 ملزمان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی منسلک کی گئی ہیں۔ چالان میں ٹرائل کورٹ سے میشا شفیع، حمنہ رضا اور ماہم جاوید سمیت 9 ہی نامزد ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ابتدائی طور پر ایف آئی اے نے 16 دسمبر 2020 کو عدالت میں چالان جمع کروایا تھا، جس میں میشا شفیع سمیت تمام ملزمان کو علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ مذکورہ کیس سے متعلق علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ‘توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد’ پوسٹس کررہے ہیں۔ علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس نے گلوکار کے خلاف مذموم مہم کا آغاز کیا تھا۔ ایف آئی اے نے علی ظفر کی درخواست پر سائبر کرائم کی تفتیش کرنے کے بعد ستمبر 2020 میں میشا شفیع، عفت عمر اور دیگر نامزد 9 افراد کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جس پر تقریبا تمام ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے قبل از ضمانت حاصل کرلی تھی۔ ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں رپورٹ جمع کروائے جانے کے بعد تاحال باضابطہ طور پر ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع نہیں ہوا اور متعدد ملزمان طلبی کے باوجود عدالت پیش نہیں ہوسکے۔ اب اسی کیس کی اگلی سماعت 10 اپریل کو ہوگی، جس میں ممکنہ طور پر عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔ یہ کیس میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان ہتک عزت کے کیس سے مختلف ہے۔
میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان ہتک عزت کا کیس بھی گزشتہ دو سال سے زیر سماعت اور تاحال اس کا بھی کوئی فیصلہ نہیں آ سکا۔ علی ظفر اور میشا شفیع کے خلاف قانونی جنگ کا اس وقت ہوا تھا جب کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع نے ساتھی گلوکار پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا، جسے علی ظفر نے مسترد کردیا تھا۔ بعد ازاں علی ظفر نے جھوٹا الزام لگانے پر میشا شفیع کے خلاف ایک ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس کی سماعتیں جاری ہیں اور پھر علی ظفر نے ہی میشا شفیع سمیت دیگر 9 ملزمان کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹی مہم چلانے پر ایف آئی اے میں سائبر کرائم کی شکایت کی تھی۔ ایف آئی اے کی خصوصی عدالت کے حکم پر مشتبہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق مشتبہ ملزمان کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے متعدد مرتبہ اپنے دفاع کے لیے طلب کیا گیا تھا تاہم پیش نہ ہونے کے باعث ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
اس سلسلے میں اداکارہ و میزبان عفت عمر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں پیش ہوئی تھیں لیکن انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروایا تھا اور وقت دینے کی درخواست کی تھی لیکن بار بار کی درخواستوں کے باوجود انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروایا۔ ایف آئی آر کے مطابق علی گل (Aligulpir@) نے بھی علی ظفر کے خلاف توہین آمیز بیانات پوسٹ کیے تھے۔ انہیں 3 مرتبہ طلب کیا گیا تھا لیکن وہ دانستہ طور پر پیش نہیں ہوئے اور ایف آئی اے کراچی میں اپنا بیان جمع کرایا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق علی گل کا بیان اطمینان بخش نہیں تھا اور انکوائری کے میرٹ پر پورا نہیں اترتا تھا۔ اسی طرح حمنہ رضا نے بھی اپنا بیان جمع کروایا تھا جو ‘عدم اطمینان بخش’ تھا، ایف آئی آر کے مطابق حسیم الزمان کو بھی 4 مرتبہ طلب کیا تھا لیکن وہ بھی تحقیقات میں شامل نہیں ہوئے۔ ایف آئی آر کے مطابق سید فیضان رضا نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹوئٹس کے ذریعے علی ظفر پر لگائے گئے الزامات ‘عوامی رائے پر مبنی’ تھے۔ تاہم ان کے بیان پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات لگانے والی خواتین میں سے 2 معافی بھی مانگ چکی ہیں جن میں صوفی نامی ٹوئٹر صارف اور خاتون بلاگر و سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ مہوش اعجاز شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button