گہری نیند یادداشت کمزور ہونے سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے،ماہرین

ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ گہری نیند بوڑھے افراد کو یاداشت کے کمزور ہونے سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے محققین کے مطابق گہری نیند اعصابی بیماری کے پشت پر موجود اہم سبب کے خلاف مزاحمت میں اضافہ کرنے کے لیے ’کوگنیٹیو ریزرو فیکٹر‘ کے طور پر عمل کر سکتی ہے۔
بِیٹا-ایمیلائیڈ نامی پروٹین ڈیمینشیا کے سبب یاد داشت کے کمزور ہونے سے تعلق رکھتا ہے اور گزشتہ مطالعوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ نیند میں خلل کا دماغ میں اس سالمے کے تیزی سے جمع ہونے سے تعلق ہے۔
گہری نیند کی مقدار میں کمی کا تعلق مستقبل میں ڈیمیشنیا کی ممکنہ بدتر قسم کے متوقع سبب سے بھی جوڑا گیا ہے۔ لیکن سائنس دانوں نے ایسی سرگرمیوں کی بھی نشان دہی کی ہے جو انسان کے ذہن کو تیز کرتی ہیں جیسے کہ سالوں کی تعلیم یا معاشرتی معاملات میں شراکت کسی بھی شخص میں اس بیماری کی شدید قسم سے مزاحمت کو بہتر کر سکتی ہے۔
چونکہ تعلیم یا سماجی نیٹورک کو باآسانی تبدیلی نہیں کیا جاسکتا اس لیے محققین نے دماغ کو فعال رکھنے کےلیے دیگر قسم کی سرگرمیوں کو واضح کیا۔
جرنل بی ایم سی میڈیسن میں حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ جن کو ڈیمینشیا کے خطرات لاحق ہیں ان میں زیادہ مقدار میں گہری نیند یادداشت کی کمزوری کے خلاف حفاظتی عامل کے طور پر عمل کرسکتی ہے اور ڈیمیشنیا کے خطرناک نتائج سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔
