گیلانی کے ساتھ ہاتھ کرنے والے 8 برادران یوسف کون تھے؟

اس وقت قانونی حلقوں میں سینیٹ چیئرمین کا الیکشن ہارنے والی سید یوسف رضا گیلانی کے سات مسترد شدہ ووٹوں کے حوالے سے بحث جاری ہے، لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ وہ آٹھ ممبران سینیٹ کون تھے جنھوں نے گیلانی کے نام کے آگے مہر لگانے کے بجائے نام کے اوپر مہر لگا دی اور ان کو جیتا ہوا الیکشن ہروا دیا۔ بلاول بھٹو سازشی نظریے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کو اپنے تمام سینیٹرز پر مکمل اعتماد ہے اور انہوں نے یوسف رضا گیلانی کو ہی ووٹ ڈالا تھا۔ تاہم شبلی فراز اور فواد چودھری کا موقف اسکے الٹ ہے اور ان کا کہنا ہے کہ گیلانی کے نام پر مہر لگانے والوں کی نیت دراصل ووٹ کو مسترد کروانے کی تھی۔ اگر بلاول بھٹو کے موقف کو درست مانا جائے تو پھر یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ غفور حیدری ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن اور بھی بڑے مارجن سے کیوں ہارے؟
سوال یہ بھی ہے کہ گیلانی کے قیمتی ووٹ ضائع کرنے والے آٹھوں نے ڈپٹی چیرمین کے انتخاب کے لئے جاری ہونے والے بیلٹ پیپر پر اپنے امیدوار مولانا غفور حیدری کے نام کے اوپر مہر لگانے کے بجائے مخالف امیدوار مرزا آفریدی کے نام کے آگے ٹھیک مہر کیوں لگائی۔ دونوں بار ایک ہی نتیجہ نکلا۔ سرکار جیت گئی اور اپوزیشن بظاہر عددی اکثریت کے باوجود خفیہ بیلٹ ہار گئی۔
اس معاملے پر سینئر صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان کہتے ہیں بجائے ان آٹھ لوگوں کو تلاش کرنے کے، اپوزیشن پریزائڈنگ افسر کو کوس رہی ہے، کبھی سینیٹ کے سیکرٹری پر مکے تان رہی ہے، کبھی اس سکینڈل کو عدالت میں چیلنج کرنے کی بھبکی دے رہی ہے تو کبھی پولنگ سے پہلے برآمد ہونے والے جاسوس کیمروں پر مذمتی توانائی صرف کر رہی ہے۔ یعنی جہاں سوئی گری اپوزیشن اس مقام پر سوئی ڈھونڈنے کے بجائے اگلی گلی میں سوئی ڈھونڈھ رہی ہے۔
وسعت اللہ کے مطابق بلاول بھٹو کا یہ کہنا کہ انھیں اپنے اور اپنی اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کی نیت پر کوئی شک نہیں، ایسا ہی ہے جیسے وزیرِ اطلاعات شبلی فراز کا یہ کہنا کہ سینیٹ ہال میں خفیہ کیمرے دراصل اپوزیشن نے لگوائے تھے۔ جس طرح سینیٹ میں دو برس قبل چیئرمین کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد میں صادق سنجرانی کو ووٹ دینے والے چودہ مخالف سینیٹرز کو کوئی بھی اپوزیشن جماعت اپنی صفوں میں نہ ڈھونڈھ پائی، اسی طرح انشااللہ تازہ ترین آٹھ ’غداروں‘ کا بھی پتہ نہیں چل پائے گا۔ نہ ہی پی ٹی آئی کے ان 16 ارکانِ قومی اسمبلی کا پتہ چل پائے گا، جنھوں نے بقول عمران خان اپنا ضمیر بیچ کر حکومتی امیدوار ڈاکٹر حفیظ شیخ کو ہروا کے یوسف رضا گیلانی کو سینٹر بنوایا اور پھر انھی 16 نے وزیرِاعظم کو تین روز بعد اعتماد کا بھرپور ووٹ بھی دیا۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ جو سرکار اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہو، وہ ہر بار بہت زیادہ اصول پسندی اور ایمانداری دکھانے کی لگژری افورڈ نہیں کر سکتی۔ صوبائی ارکانِ اسمبلی کی پارٹی سے بے دخلی کا نقصان برداشت ہو سکتا ہے مگر قومی اسمبلی ایک الگ دنیا ہے۔ اس کا ریموٹ کنٹرول بھی الگ ہے۔
رہی بات سینیٹ کے پولنگ بوتھ میں لگنے والے خفیہ کیمروں کی تو اگر اس سکینڈل کی چھان بین کرنے والی اپوزیشن اور حکومت کی چھ رکنی مشترکہ کمیٹی چاہے تو پولنگ سے چوبیس گھنٹے پہلے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج چھان کر با آسانی اس مستری کا پتہ چلا سکتی ہے جو تمام حفاظتی تدابیر کو دھوکہ دے کر سینیٹ ہال میں داخل ہوا اور کیمرے لگا کے چمپت ہو گیا۔ مگر اس کمیٹی کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ کب تک جمع کرانی ہے؟ اس بارے میں کمیٹی تشکیل دینے والے پریزائڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے کمیٹی کو کسی حتمی تاریخ کا پابند نہیں کیا۔ نہ ہی اپوزیشن نے پریزائڈنگ افسر کو یہ خامی یاد دلائی۔ مطلب صاف صاف ہے کہ سب کو چور چور کا شور مچانے میں دلچسپی ہے، چور پکڑنے میں ہرگز نہیں۔ویسے بھی آٹھ ووٹ اس نئے پولنگ بوتھ میں ضائع یا ادھر سے ادھر ہوئے جس میں کوئی خفیہ کیمرہ نہیں تھا۔
وسعت اللہ خان نے کہا کہ برطانوی پارلیمانی ڈکشنری میں ایک اصطلاح ہے ’ہز میجسٹیز لائل گورنمنٹ اور ہز میجسٹیز لائل اپوزیشن۔‘ اگر اس اصطلاح کے عملی معنی کسی کو سمجھنے ہوں تو فی زمانہ اسلام آباد کی پارلیمانی راہداریوں سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ روم میں تو اپنوں کو دھوکہ دینے والا صرف ایک بروٹس تھا۔ اسی لیے غریب بدنام بھی ہو گیا لیکن پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں کئی بروٹس پائے جاتے ہیں جن میں وہ اٹھ بھی شامل ہیں جنہوں نے یوسف رضا گیلانی کے ووٹ ضائع کیے۔
کئی لوگ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ آخر یہ بروٹس کون تھا؟ آئیے آپ کو بروٹس کی کہانی سناتے ہیں۔ بروٹس رومن تاریخ کے مشہور کردار جولیئس سیزر کا قریب ترین ساتھی تھا۔ جولیس سیزر عیسوی دور سے پہلے روم کا طاقتور ترین جنرل جو اپنی فتوحات اور ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے عالم میں آج بھی پہچانا جاتا ہے۔ سیزر نے سیاست اور میدان جنگ میں اپنے ہنر کو استعمال کرتے ہوئے روم میں کلیدی حیثیت حاصل کر رکھی تھی۔ سیزر نے جب اپنے پرانے ساتھی اور بعد میں حریف پومپی کے خلاف جنگ جیتی تو دستور دنیا کے مطابق طاقت کے پروانے گرد جمع ہونے لگے۔ پومپی کے ایک ساتھی بروٹس نے اپنی وفاداری تبدیل کر کے سیزر کا قرب حاصل کر لیا اور مختلف حربے اختیار کر کے اس حد تک اعتماد حاصل کیا کہ سیزر کے مقربین میں شامل ہو گیا۔
سیزر کے بڑھتے ہوئے دائرہ اختیار اور طاقت کی وجہ سے ارکان پارلیمنٹ خوش نہیں تھے اور جیسا کہ تب چلن تھا کہ حکمران سے چھٹکارا پانے کے لیے اسکی سانس کی ڈور کاٹ ڈالی جائے۔ سو اکثریت نے اسے صفحہ زندگی سے مٹانے کا منصوبہ بنایا۔ پندرہ مارچ کا دن سیزر کے لئے امتحان ٹھہرا۔ ایک طرف اسکی پیار کرنے والی بیوی کا اشارے دیتا خواب تھا۔ سیزر کی بیوی کیلپرینا مصر تھی کہ اسے 15 مارچ کو پارلیمنٹ نہیں جانا چاہئے کیونکہ اس نے سیزر کو خون میں لت پت دیکھا ہے۔ سیزر کی بیوی نے اس سے کہا کہ “میں نے تمہیں خون میں نہائے دیکھا ہے۔ تمہارے اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں، اور میری چھٹی حس اس خواب کی سچائی کا اعلان کر رہی ہے اس لیے تم آج کا اجلاس ملتوی کر دو”۔سیزرشش و پنج میں تھا کہ وہ بیوی کے خدشات کو جھٹلائے یا آنے والے وقت کی چاپ پہ ایمان لے آئے۔
ایسے میں بروٹس نے سیزر کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا، اور بولا: ”کیا آپ کی عظمت ان فرسودہ پیش گوئیوں اور خوابوں پر یقین رکھنے کی اجازت دیتی ہے؟” چنانچہ جولیس سیزر نے 15 مارچ کے اجلاس میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا اور پارلیمنٹ پہنچ گیا۔ لیکن پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ بروٹس نے سیزر پر تلوار سے پہلا وار کیا تو سیزر نے یہ کہتے ہوئے اپنی تلوار پھینک دی کہ “بروٹس تم بھی؟” اسے اپنے دوست پر اتنا اندھا اعتماد تھا کہ اپنی جان جاتے دیکھ کر بھی اس پر ہاتھ اٹھانے پر آمادہ نہیں ہو سکا۔ بروٹس کا ارادہ البتہ مختلف تھا اور وہ تاریخ میں دوست کے قاتل کے طور پر جانا گیا۔ یوں تاریخ میں "بروٹس تم بھی؟” نے ایک محاورے کی حیثیت اختیار کرلی۔ اور کچھ ایسی ہی واردات لگتا ہے یوسف رضا گیلانی کے برادران یوسف نے بھی ڈالی۔
