ہائیبرڈ جنگ سیاسی اتفاق رائے کیخلاف ہے

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ہائیبرڈ جنگ کو سیاسی اتفاق رائے کے خلاف دے دیا ہے۔بلاول بھٹوزرداری نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت بہت مسائل کا سامنا کر رہا ہے، پاکستان میں ہم نے کئی بحران دیکھے اور اس سے نکل آئے، جمہوری اور آئینی بحران دیکھا، آمریت دیکھی مگر ان آمروں کا مقابلہ کرکے جمہوریت قائم کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پاکستان کے عوام ایک ساتھ تاریخی معاشی بحران، مہنگائی، تاریخی بے روزگاری اور غربت کا سامنا کر رہے ہیں، کچھ ہمارے اپنے فیصلوں کی وجہ سے اور کچھ اس لیے ایک ایسا نااہل اور نالائق وزیراعظم کو ہم پر مسلط کیا گیا تھا جس نے اپنے ہاتھوں سے معیشت کا گلہ گھونٹا اور پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیل دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی پنجاب میں راجن پور، بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کے عوام اس تاریخی قدرتی آفت کی وجہ سے پیدا مسائل کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ہماری معیشت کے مسائل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کا مسئلہ پیدا کردیا گیا ہے، دہشت گردوں نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے، اسی نالائق وزیراعظم نے پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب ہم نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیا تو اسی وقت غیرجمہوری قوتوں نے ایک ہائبرڈ جنگ شروع کیا تھا، ہائبرڈ جنگ جمہوریت، سیاسی اتفاق رائے، میثاق جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کے خلاف خلاف تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ہر طرف سے ہو رہا تھا، میڈیا کے ذریعے تھا، ہر سیاسی رہنما کی کردار کشی کی گئی، ہمارے سامنے جو بحران پیدا ہوا ہے،اس کا ماضی ہے، 1996 میں جس طریقے سے جنرل (ر) حمید گل اس سلیکٹڈ کو انگلی پکڑ کر سیاست میں لے کر آئے وہ کیوں لے کر آئے۔اس کے بعد جو کردار جنرل پاشا، جنرل ظہیرالاسلام اور جنرل فیض حمید کا تھا وہ آپ کے سامنے ہیں، عوام کے سامنے ہے اور تاریخ کا حصہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ بھی سیاسی اتفاق رائے کے خلاف، 18 ویں ترمیم کے خلاف، جمہوریت کے خلاف ایک گٹھ جوڑ تھا، جو اس ہائبرڈ جنگ میں شامل تھے۔ہمارے کچھ اتحادی بھول جاتے ہیں کہ ایک اور چیف جسٹس بھی اس میں شامل تھا، جسٹس افتخار چوہدری نے اس روایت کی بنیاد ڈالی، سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی آمریت افتخار چوہدری نے قائم کی اور وہ بھی اس ہائبرڈ جنگ میں شامل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاشا آیا، ظہیر آیا سب چلے گئے لیکن عمران خان نیازی بدستور موجود ہے، اس کرکٹر کو ہماری اسٹیبلشمنٹ سیاست میں لے کر آئی اور 30 پاکستان کے ادارے اس جرم میں شامل تھے کہ وہ ایک فریکنسٹائن بنا رہے تھے، یہ ہر وقت ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اداروں میں کچھ آئن سٹائن بیٹھتے ہیں اور اس ملک کے فیصلے کرتےہیں، اسٹریٹجک اثاثے بناتے ہیں اور پھر آخر میں یہ ہمارے گلے پڑ جاتے ہیں۔

Back to top button