شہری کو کچلنے والی کرنل کی بیٹی اب بھی آزاد کیوں؟

اسلام آباد میں ڈرائیونگ سیکھنے کے دوران ایک شہری کو اپنی کار تلے کچل کر مار دینے والی کرنل کی بیٹی اب تک آزاد ہے اور اسے گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ بتایا گیا ہے کہ 15 سالہ لڑکی ایک حاضر سروس کرنل کی بیٹی ہے جس کی گرفتاری کے لیے پولیس نے چھاپے تو مارے لیکن ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی۔

یہ افسوسناک واقعہ اسلام آباد کے ایک متمول علاقے میں 12 دسمبر کو پیش آیا تھا جس میں ایک 40 سالہ شخص کی موت ہوئی، واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے 40 سالہ ملازم سلطان سکندر کے ہمراہ اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 میں زیر تعمیر مکان کی نگرانی کر رہی تھیں کہ اچانک خطرناک انداز میں چلائی جانے والی ایک گاڑی سڑک سے اتر کر گراؤنڈ میں آ گھسی اور چار پائی پر بیٹھے ہوئے ملازم کے اوپر چڑھ گئی جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 یعنی قتل بس سبب اور دفعہ 279 یعنی غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق گاڑی ایک نوجوان لڑکی چلا رہی تھی جسکے ہمراہ ایک شخص موجود تھا لیکن دونوں گاڑی چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے، درخواست گزار کے مطابق بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکی کے ساتھ موجود شخص اسکا ملازم تھا جو اسے کار چلانی سکھا رہا تھا۔

درخواست کے مطابق گاڑی چلانے والی لڑکی لائسنس کے بغیر ایک ممنوعہ جگہ پر ڈرائیونگ سیکھ رہی تھی، درخواست میں بتایا گیا کہ اس واقعے کے فوری بعد ہلاک ہونے والے شخص سلطان سکندر کو قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ تھانہ گولڑہ کی حدود میں درج مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر سب انسپکٹر جاوید سلطان نے بتایا کہ اہل محلہ اور عینی شاہدین کے مطابق ڈرائیونگ سیکھنے والی لڑکی کی عمر 15 سال ہے، لیکن پولیس کے پاس لڑکی کی عمر بارے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کے والد فوج میں کرنل کے رینک پر ہیں اور وہ کوئٹہ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، انھوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد ملزمہ کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چھاپے مارے گئے لیکن وہاں کوئی نہیں ہے، تفتیشی افسر کے مطابق جس روز یہ وقوعہ رونما ہوا، اس دن ملزمہ کے گھر سے کچھ افراد ہسپتال آئے لیکن اس کے بعد سے گھر پر تالا لگا ہوا ہے۔ اس افسوس ناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں غصے  کا اظہار کیا گیا وہیں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ پاکستان میں کم عمری میں بنا ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے کی روایت کیوں ہے؟

ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ ’گلی محلوں میں ڈرائیونگ کون سے ملک میں سکھائی جاتی ہے؟‘ٹوئٹر پر ایک صارف آصف خان نے لکھا کہ ملک میں ٹرانسپورٹیشن کا نظام ہی ڈرائونا خواب بن چکا ہے، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، بدترین ٹریفک، تاہم پاکستان میں کسی کم عمر کا گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہوئے نظر آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ یہ رواج کیوں کر عام ہے اور اس میں پولیس یا والدین میں سے کون زیادہ قصور وار ہے؟

اسلام آباد پولیس کے سربراہ اکبر ناصر کا کہنا ہے کہ انڈر ایج ڈرائیونگ سے متعلق پولیس کو زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا حکم دیا گیا ہے، پولیس افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر کوئی بھی کم عمر ڈرائیونگ کرتا ہوا پکڑا جائے تو اس کے ساتھ ان کے والد اور جس نے بھی چلانے کے لیے گاڑی دی ہے، ان کو بھی ذمہ دار گردانتے ہوئے ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ روکنے کی ذمہ داری صرف ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کی نہیں بلکہ تھانوں اور مختلف ناکوں پر تعینات پولیس اہلکار بھی اس غیر قانونی اقدام کو روکنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے پولیس افسران کو ہدایت دی ہیں کہ اگر کوئی شخص قانون توڑنے والوں کو چھڑانے کے لیے آئے تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Back to top button