ہر وزیر خزانہ نے ملکی معیشت کا کباڑہ کیسے نکالا؟

مالیاتی ٹائم بم ٹک ٹک کر رہا ہے۔ جب خزانے میں پڑے ڈالر کئی مہینوں سے ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر کے درمیان جھول رہے ہوں اور آئی ایم ایف بھی شرائط کی گرم ریت پر دوڑا دوڑا کے ہنپا رہا ہو اور دسمبر تک بیرونی قرض خواہوں کو ساڑھے چار ارب ڈالر سود بمع قسط بھی دینے ہوں تو پھر غصہ آنا، اپنے خون کے گھونٹ خود ہی پینا اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں جاننے پر بضد رپورٹر کو خالی خزانے کے وزیر کی طرف سے جھڑک دینا یا دھکا دینا یا چماٹ جڑنا تو بنتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی وسعت اللہ خان نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔
وسعت اللہ خان کا مزید کہنا ہے کہ ایک منسوب قولِ علی ہے کہ ’بے وقت کا مذاق دشمنی کا سبب بن سکتا ہے۔‘ اور وہ بھی ایک ایسے نازک مرحلے پر جب آئی ایم ایف کے موجودہ مالیاتی پروگرام کی زندگی کے محض پانچ دن باقی رہ گئے ہوں۔ ہم سب کا اجتماعی فرض ہے کہ ڈار صاحب سے چبھتے سوالات پوچھنے یا بحث میں الجھنے یا پنجے جھاڑ کے پیچھے پڑنے کے بجائے ان کا دل بڑھانے کی کوشش کریں۔اگلے پانچ دن ایسے جملے بولنے میں کسی کا کیا جاتا ہے کہ ’ویل ڈن ڈار صاحب ، تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے، قدم بڑھاؤ اسحاق ڈار ہم تمھارے ساتھ ہیں، دیکھو دیکھو کون آیا ڈار آیا ڈار آیا، ڈار تیرے جانثار بے شمار بے شمار وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
وسعت اللہ خان کا مزید کہنا ہے کہ ایک اور پوسٹ سوشل میڈیا پر تیر رہی ہے جو غالباً جانے مانے بین الاقوامی ماہرِ معیشت اور سعودی ویژن دو ہزار تیس منصوبے کے ایک صلاح کار عاطف میاں کے کسی پرستار کی ہے۔اس نے یہ بے وقت سوال اٹھایا ہے کہ عاطف میاں نے گذشتہ ماہ پاکستانی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ایک ٹوئٹر تھریڈ میں جو بن مانگے مشورے دیے تھے اس کا مہذب انداز میں شکریہ ادا کرنے کے بجائے وزارتِ ڈار نے یہ فقرہ کسنا کیوں مناسب سمجھا کہ تھیوری پڑھانے والے ماہرین کیا جانیں کہ عملی معیشت کیسے چلائی جاتی ہے۔اس فقرے کا پنجابی ترجمہ کچھ یوں ہو گا کہ ’او جا اوئے تینوں کی پتہ ککڑی دیا۔۔‘
اگر ہم نے اپنے بظاہر حکمرانوں، اصل حکمرانوں اور وزراِ باتدبیر کی معاشی اہلیت کو اکیڈمک ترازو میں تولنے کی مشقِ لاحاصل جاری رکھی تو کل کلاں کوئی ایسے سوالات اٹھانے والوں سے پلٹ کے یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ یہ جو ہماری یونیورسٹیوں میں ایک سے ایک چیتا پی ایچ ڈی بیٹھا ہے آج تک سامنے آ کے اسحاق ڈار یا دیگر کی طرح سینے پر ہاتھ مار کے کیوں نہیں کہہ پایا کہ ہٹو تم ایک طرف۔ مجھے دو وزارتِ خزانہ کی کمان میں بتاتا ہوں کہ لالٹین کیسے پکڑی جاتی ہے۔بینکر شوکت عزیز یا بینکر شوکت ترین کو تو کسی نے نہیں کہا کہ باؤ جی یہ کسی میوچل فنڈ کی مینیجمنٹ نہیں بلکہ قومی معیشت کا جہاز ہے۔ آپ بس تھوک لگا کے نوٹ گنیں یا پھر لیجر بک بیلنس کرنے کا کام کریں۔ ان دونوں شوکتوں نے پاکستان کو کون سا جرمنی بنا دیا۔ وہ بھی آئے گذر گئے۔ یہ بھی گذر جائیں گے۔اکبر بادشاہ اور ملکہ الزبتھ بنا سکول گئے آدھی آدھی صدی سے زائد حکمرانی کر گئے تو وزیرِ اعظم یا وزیرِ خزانہ پر کیوں بے فضول تنقید کی جا رہی ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے بھی ایک شخص ایسا گذرا جو سب کے بارے میں سب سے زیادہ جانتا تھا اور پھر تم نے دیکھا کہ کیا ہوا۔ مشکل یہ ہے کہ اس ملک میں فی مربع میل دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ذہین پائے جاتے ہیں۔ ہمیں بس کسی ایک ایسے کی ضرورت ہے جو کامن سنس کا ماہر ہو اور اس ریاست کو بزعمِ خود کی دلدل سے نکال لے۔
