یومیہ کروڑوں گیلن گندگی سمندرمیں گرنےسےماحول اورملکی معیشت خطرےمیں

کراچی میں صنعتی فضلہ اورسیوریج کا پانی سمندری حیات، ماحول اورانسانی جانوں کےلیےخطرہ بن گیا ہےاورواٹرٹریٹمنٹ (پانی کی صفائی)نہ ہونےکےباعث یومیہ کروڑوں گیلن گندگی سمندرمیں گررہی ہے۔
ذرائع کےمطابق کراچی کےسمندرمیں ٹریٹمنٹ کےبغیرگٹریا سیوریج کا گندہ پانی ڈالےجانےکا مجموعی حجم یومیہ40 کروڑ گیلن سےزائد ہےجب کہ بغیرٹریٹمنٹ روزانہ10 کروڑ گیلن صنعتی فضلہ بھی سمندرمیں گرتاہے۔ ماہرین کا کہناہےکہ آلودہ سمندری ہواکےباعث شہرمیں مختلف وبائی امراض بھی پھیل رہےہیں اورشہرکی 80فیصد آبادی کسی نہ کسی الرجی میں مبتلا ہے۔ سیوریج کا گندہ پانی ٹریٹمنٹ کےبغیربراہِ راست سمندرمیں ڈالنےسےایک طرف کراچی کی فضا زہرآلود ہورہی ہےتو دوسری طرف آبی حیات کوبھی زندگی کےلالےپڑگئے ہیں۔
عالمی اداروں کےسروے بتاتےہیں کہ بحیرہ عرب کی آلودگی خطرناک حد تک بڑھتی جارہی ہےاوراس میں دیگرشہروں کے علاوہ کراچی کا بھی کردارہےجہاں ہرروزسیوریج کی کروڑوں گیلن گندگی سمندرمیں ڈالی جارہی ہے۔ ماہرین نےخبردارکیا ہےکہ فوری اقدامات نہ کیےگئےتو کراچی کی سمندری حدود میں پائی جانےوالی مچھلیاں کھانےکےقابل نہیں رہیں گی۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان کےحکام کا کہنا ہےکہ کراچی کاسمندرآلودہ ہونےسےکچھوؤں کی تعداد بھی کافی حد تک کمہوئی ہے۔ سمندرملکی صنعت وتجارت کےعلاوہ سیروسیاحت اورشہروں کی خوبصورتی بڑھانےمیں بھی اہم کردارکرتےہیں۔
galan 3یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سمندراورساحلی مقامات کو صاف ستھرا اورآلودگی سےبچانےپربھرپورتوجہ دی جاتی ہے مگر کراچی کا سمندراورمختلف ساحلی مقامات، بتدریج آلودہ اورگندےہوتےجارہے ہیں جس کا خمیازہ صرف عوام نہیں بلکہ ملکی معیشت کوبھی بھگتنا پڑے گا۔ بغیر ٹریٹمنٹ روزانہ 10کروڑ گیلن صنعتی فضلہ بھی سمندرمیں گرتا ہےجوماحول کےلیے باقی40کروڑگیلن گندگی سےکہیں زیادہ خطرناک ہے۔ ہمیں شاید اس کا ادراک نہیں لیکن پاکستانی مصنوعات کےعالمی خریداراس کی اہمیت سےبخوبی واقف ہیں اورخریداری کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیےان کی شرط ہےکہ صنعتی فضلے کوصاف کرکےسمند میں پھینکا جائے۔
gaalanسیوریج کے گندے پانی کا صفائی کےبغیربراہِ راست سمندرمیں گرنا، آبی حیات، انسانی صحت اورہماری معیشت کےلیے بھی سنگین خطرہ ہےجسےٹالنےکی کوئی تدبیرنہیں کی جارہی۔ اس مسئلےکےحل کےلیےصوبائی اوروفاقی حکومت نے2007 میں ٹریٹمنٹ کےبڑے منصوبےایس تھری کی بنیاد رکھی جس کی ابتدائی لاگت 7.98 ارب روپےتھی لیکن یہ منصوبہ التواء میں پڑ گیا۔ اہمیت کےپیش نظرمنصوبہ دوبارہ شروع کرنےکا فیصلہ کیا گیا اور36.11 ارب روپےکا بجٹ منظورکروایا گیا لیکن اربوں روپےخرچ ہونےکےباوجود یہ منصوبہ آج بھی سست روی کا شکارہے۔
اس منصوبے کے تحت ملیرندی پر 22.72 کلومیٹر اور لیاری ندی پر33.32 کلومیٹرکی کنڈیوٹ(لائن) تعمیرکی جانی ہے۔ لیاری ندی میں 20 کلومیٹرکی تعمیرہوچکی ہے جو ٹریٹمنٹ پلانٹس تک جائےگی اوراس میں شہربھرکی سیوریج لائنز ملائی جائیں گی۔ سندھ کےوزیربرائےبلدیات ناصرحسین شاہ کا کہنا ہےکہ ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبہ تاخیرکا شکارضرورہوا ہے لیکن تاخیر کی وجہ سندھ حکومت نہيں، پوری کوشش ہےکہ یہ منصوبہ اسی سال مکمل کرلیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button