1000سی سی گاڑیوں کی فروخت میں ریکارڈ کمی

بڑھتی مہنگائی، ملک کی ابتر معاشی صورتحال عوام کو مہنگی گاڑیوں کی خریداری سے دور لے گئی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد 1000 سی سی سے کم گاڑیوں کی فروخت پر توجہ دے رہی ہے۔
1000 سی سی سے کم پاور کی کاروں کی فروخت میں جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر 45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، بیورو برائے شماریات کی جانب سے اس حوالے سے تازہ اعدادو شمار جاری کیے گئے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے مارچ تک کی مدت میں ایک ہزار سی سی سے کم پاور کی 34 ہزار 609 کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 45 فیصد کم ہے۔
گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملک میں 1000 سی سی سے کم پاور کی 62 ہزار 803 یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی، مارچ میں 1000 سی سی سے کم پاور کی 3 ہزار 324 یونٹس کاروں کی فروخت ریکار ڈ کی گئی جو فروری کے مقابلے 423 فیصد زیادہ ہے۔فروری میں ملک میں ایک ہزار سی سی سے کم پاور کی 635 یونٹس کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی، گزشتہ سال مارچ کے مقابلے میں رواں سال مارچ میں ایک ہزار سی سی سے کم پاور کی کاروں کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 70ف فیصد کی کمی ریکار ڈ کی گئی ہے۔
گذشتہ برس مارچ میں 1000 سی سی سے کم پاور کے 11 ہزار 109 یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو رواں سال مارچ میں کم ہو کر 3 ہزار 324 یونٹس ہوگئی۔
دوسری جانب گاڑیوں کی خرید و فروخت میں ٹیکس بچانے والوں کیلئے بری خبر ہے کہ گاڑیوں کی بایومیٹرک کرانے کے بعد ٹرانسفر نہ کرانے پر جرمانے میں 5 گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اسلام آباد کے مطابق گاڑیوں کی بائیو میٹرک کے بعد ٹرانسفر نہ کرانے میں 3 ماہ سے زیادہ تاخیر کرنے والوں کو 10 ہزار روپے فی ماہ جرمانہ ادا کرنا ہوگا، اس سے قبل گاڑیوں کے ٹرانسفر پر ایک ماہ کا جرمانہ صرف 2 ہزار روپے تھا۔
محکمہ ای اینڈ ٹی کا کہنا ہے کہ ایک سال تک گاڑی ٹرانسفر نہ کرانے والوں کو ایک لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا، جرمانے میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
