سندھ ہائیکورٹ: پی ڈی ایم رہنما علی وزیر کی ضمانت منظور

سندھ ہائیکورٹ نے مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں گرفتار پی ڈی ایم کے رہنما ایم این اے علی وزیر کی ضمانت منظور کر لی۔
سندھ کی عدالت عالیہ میںپشتون تحفظ موومنٹ کے رہنمارکن قومی اسمبلی علی وزیر کی جانب سے مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کرنےکے مقدمہ کی سماعت ہوئی،دوران سماعت عدالت نے5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض علی وزیر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمے میں نامزد محسن داوڑ، منظور پشتین اور ڈاکٹر جمیل کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی نہ ہی تینوں ملزمان کی ضمانت کو چیلنج کیا گیا۔
پی ڈی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کیس میں علی وزیر کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے جو ہم سب کے لیے بڑی خبر ہے، کل انسدادِ دہشت گردی عدالت میں علی وزیر کے ایک اور کیس کی سماعت ہے وہ اس میں بھی ضمانت پررہائی حاصل کرلیں گے،ہمیں امید ہے کہ عدالت انصاف کرتے ہوئے علی وزیر کی ضمانت منظور کرے گی۔
خیال رہے کہ پشتون قومی موومنٹ کے رہنما علی وزیر ایک مقدمے میں سپریم کورٹ سے ضمانت حاصل کرچکے ہیں۔
واضح رہے کہ علی وزیر کو 16 دسمبر 2020 کو کراچی میں ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے سمیت متعدد الزامات پر پشاور سے گرفتار کر کے 19 دسمبر کو کراچی منتقل کیا گیا تھا۔پولیس نے متعلقہ ایس ایچ او کے ذریعے ریاست کی مدعیت میں ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 120 بی، 153 اے، 505 (2)، 188 اور 34 شامل کی گئی تھیں۔یکم جون 2021 علی وزیر درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ کسی شک کے بغیر تقاریر کا مواد اشتعال انگیز اور پاکستان آرمی، رینجرز اور پولیس جیسے ریاستی اداروں سے عدم اطمینان کو ہوا دینے کی کوشش تھا جبکہ اس میں ملزم علی وزیر کا افغانستان سے تعلق بھی ثابت ہو رہا تھا۔کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 3 نومبر 2021 کو علی وزیر سمیت 10 پر غداری کے مقدمے میں فرد جرم عائد کی تھی،تاہم 30 نومبر 2021 کو سپریم کورٹ نے علی وزیر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ شریک ملزمان کی ضمانت ہوچکی جسے چیلنج نہیں کیا گیا تو علی وزیر کو جیل میں نہیں رکھا جاسکتا۔پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنما کو سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کے ایک اور مقدمے میں باضابطہ طور پر گرفتار کرلیا تھا۔
