یوٹرن کے شہنشاہ عمران خان کا سافٹ ویئر بھی اپ ڈیٹ

نواب سراج الدولہ کے غدارسپہ سالارمیرجعفر کوآرمی چیف سے تشبیہ دینے کے 48 گھنٹے بعد ہی یوٹرن کنگ کا خطاب پانے والے عمران خان کا سافٹ ویئر بھی اپڈیٹ ہوگیا اور وہ اپنے انقلابی موقف سمیت جوتے اٹھا کر بھاگ نکلے۔ کپتان نے نہایت بے شرمی سے اپنا سابقہ موقف بدلتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو شہباز شریف کو میر جعفر قرار دیا تھا حالانکہ در حقیقت میر جعفر سپہ سالار تھا، نہ کہ حکمران۔ ایبٹ آباد جلسے میں عمران نے واضح طور پر کہا تھا کہ سراج الدولہ کے سپہ سالار میر جعفر نے انگریزوں کے ساتھ مل کر غداری کی اوراب یہی تاریخ پاکستان میں دہرائی گئی ہے۔ تاہم آرمی چیف کو غدار کہنے پر شدید ردعمل سامنے آیا جس کے بعد عمران نے دم دبا کر بھاگنے کا فیصلہ کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کا کمال یہ ہے کہ بیک وقت کئی باتیں کر سکتے ہیں، اس سے بھی بڑا کمال یہ ہے کہ ان کے حامی ان تمام باتوں کو بیک وقت صدقِ دل سے تسلیم بھی کر لیتے ہیں۔ اب یہ خان صاحب کا کمال ہے یا ان کے چاہنے والوں کا، اس پر بحث ضرور ہو سکتی ہے۔ نیا دور کے لیے اپنی ایک تحریر میں علی وارثی یاد دلاتے ہیں کہ صرف دو دن قبل عمران نے ایک جلسے میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ سازش امریکہ نے تیار کی اور پاکستان کے میر جعفروں نے اس کا ساتھ دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اسے عملی جامہ پہنایا۔
انہوں نے ان دونوں جماعتوں کے نامعلوم ہینڈلرز کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ انہوں نے اس سازش میں ان کی مدد کی۔ پھر بولے کہ یہ ہینڈلرز اگر واقعی چاہتے تھے کہ ملک میں حکومت تبدیل کی جائے تو ہم سے کوئی بہتر لا کر بٹھا دیتے، لیکن انہوں نے وہی کرپٹ اور چور واپس لا کر بٹھا دیئے جو چالیس سال سے ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ اب ان تمام چیزوں کو ملا کر پڑھا جائے تو یہ واضح ہے کہ امریکی سازش کو عملی جامہ پہنانا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے بس کی بات نہیں تھی، اگر ان کے پاکستان میں کوئی ہینڈلرز نہ ہوتے۔ یہ واضح کرنے کے لئے کہ ان کا اشارہ کسی کاروباری شخصیت یا بیوروکریٹ یا جج کی طرف نہیں، انہوں نے واشگاف الفاظ میں وضاحت کی کہ جو لوگ نہیں جانتے میر جعفر کون تھا، میں ان کو بتا دوں کہ میر جعفر نواب سراج الدولہ کا سپہ سالار تھا۔ اس کے بعد ابہام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی تھی کہ ان کا اشارہ جنرل باجوہ کی جانب ہے۔ یہی وجہ تھی کہ کچھ ہی دیر میں فوجی ترجمان نے سرکاری ردعمل دیتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور اسے زبردستی اس کھیل میں نہ گھسیٹا جائے جس سے یہ دور رہنا چاہتی ہے۔
علی وارثی یاد دلاتے ہیں کہ عمران کی اس تقریر کے بعد سخت ردعمل سامنے آیا اور ریٹائرڈ فوجیوں کے علاوہ سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں نے بھی آرمی چیف کو ریڈنگ پر عمران کی مذمت کی۔ پارلیمان میں اس طرزِ عمل کے خلاف بھرپور تقاریر ہوئیں، سوشل میڈیا پر بھی خوب سخت سست سنائی گئیں، سینئر صحافی حامد میر نے تو عمران کے پرانے کلپ نکال کر ٹوئٹ کر دیئےجن میں خان صاحب آرمی چیف کے بارے میں بڑے نیک کلمات ادا کر رہے تھے، انہیں ‘نیوٹرل’ ہونے کا سرٹیفکیٹ فراہم کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ ان کے ‘نیوٹرل’ ہونے کو سراہ بھی رہے تھے۔ بلکہ فرما رہے تھے کہ ن لیگ کو ان سے محض یہ تکلیف ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو بچایا نہیں۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران کے یو ٹرن دیکھ کر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ ایک طرف وہ ایبٹ آباد میں چلّا چلّا کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ نیوٹرل صرف جانور ہوتا ہے۔ نیوٹرل نہ رہو، حق اور باطل میں سے حق کا ساتھ دو۔ موصوف نے یہاں تک کہہ دیا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسٹیبلشمنٹ سے سوال کرے گا کہ حق اور باطل کی جنگ میں تم نیوٹرل تھے یا حق کے ساتھ کھڑے تھے۔ یعنی فوج کو ساتھ نہ دینے پر لعن طعن کی جا رہی تھی، میر جعفر کہہ کر غدار قرار دیا جا رہا تھا۔
مگر 48 گھنٹوں بعد چشمِ فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا کہ جہلم میں تقریر کے دوران عمران کے تیور ہی بدل گئے۔ موصوف نے بڑی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ میر جعفر سے ان کی مراد سپہ سالار نہیں تھا، وہ تو شہباز شریف کو میر جعفر کہہ رہے تھے۔ اب کوئی اس خان سے پوچھے کہ شہباز شریف کس سراج الدولہ کے سپہ سالار ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ نشہ بری چیز ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ عمران خان کا سافٹ ویئر بھی اپڈیٹ ہو گیا ہے جسکی بڑی وجہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آنے والے ردعمل ہو سکتی ہے۔
