کیا عمران کی نئے الیکشن کیلئے مہم کامیاب ہو پائے گی؟

معروف خاتون اینکر پرسن اور سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ اقتدار سے بے دخل ہونے والے عمران خان کا فوری الیکشن کروانے کا مطالبہ پورا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ لانگ مارچ اور دھرنے سے نہ تو حکومتیں گرائی جا سکتی ہیں، اور نہ ہی بنائی جا سکتی ہیں، اور نہ ہی اِن کے ذریعے الیکشن کروائے جا سکتے ہیں۔ لہذا کپتان کی ’حقیقی آزادی‘ کے حصول کے لیے فوری الیکشن کروانے کی تحریک ناکامی کا شکار ہوتی نظر آتی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ اب جب کہ کپتان نے بقول ان کے ’حقیقی آزادی‘ کے حصول کے لیے امپورٹڈ حکومت کے خلاف ’جہاد‘ کا میانوالی سے آغاز کر دیا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا انکا لانگ مارچ کامیاب ہو گا؟ پہلی بات تو یہ کہ آپ چاہے عمران خان سے اتفاق رکھتے ہوں یا اختلاف، یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ اس وقت ان کا سیاسی بیانیہ اپنے اثرات کے حساب سے جاندار جا رہا ہے۔ عمران کا بیانیہ درست ہے یا غلط، یہ ایک الگ بحث ہے مگر جہاں تک ’عمرانی بیانیے‘ کے عوام تک ’رسائی اور گہرائی‘ کا تعلق ہے تو کسی حد تک کامیابی تو بہرحال نظر آتی ہے۔ لیکن اس کامیابی میں قافلہ عمرانی کی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ بہت بڑا کردار مخلوط حکومت کے بیانیے کی نااہلی اور عدم موجودگی کا بھی ہے۔
بقول غریدہ، عمران مہارت کے ساتھ حکومت کو اپنی پِچ پر اپنی شرائط کے مطابق کھیلنے پر مجبور کرنے پر ابھی تک کامیاب نظر آ رہے ہیں اور مسلسل جارحانہ بولنگ سے فریقِ مخالف کو چھکے چوکے تو ایک طرف رہے، سنگل اور ڈبل رنز بھی نہیں بنانے دے رہے۔ یہاں تک تو عمرانی سیاست موثر انداز اختیار کرتی نظر آ رہی ہے لیکن اس بیانیے کا اصل امتحان تو اعلان کردہ لانگ مارچ کے انعقاد پر ہے۔ فی الحال تو کپتان پنجاب میں چند اور زیادہ تر خیبر پختونخوا میں جلسوں کے ذریعے عوام کو اپنے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے جوش دِلا رہے ہیں، لیکن 2014 کے حوالے کو مدِنظر رکھا جائے تو جلسوں اور لانگ مارچ یا دھرنے میں شامل کارکنان کی تعداد میں بہت فرق ہوتا ہے۔ 2014 سے قبل تحریکِ انصاف نے ملک بھر میں بڑے بھرپور جلسے کیے جن میں واقعتاً لاکھوں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ کپتان ابھی وزیراعظم بھی نہ بنے تھے جس کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے مسیحائی کا بُت بھی ابھی پاش پاش نہ ہوا تھا۔ ’خاص لوگوں‘ کے لیے بھی خان آخری امید کے طور پر برقرار تھے اور ’خاص‘ سپورٹ بھی مکمل اور غیرمشروط حاصل تھی۔
مگر اس سب کے باوجود 2014 کےدھرنے کا جو احوال اور حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ عمران 126 دن تک اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دئیے بیٹھے رہے لیکن پھر انہیں خالی ہاتھ واپس آنا پڑا تھا۔
غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ لانگ مارچ اور دھرنوں سے نہ تو حکومتیں گرائی جا سکتی ہیں، نہ ہی بنائی، اور نہ ہی اِن کے ذریعے الیکشن کروائے جا سکتے ہیں۔ لہذا ’حقیقی آزادی‘ کی الیکشن کروانے کی بظاہر منزل تو ابھی سے ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ دوم، لانگ مارچ میں عمران کے ساتھ کتنے لوگ اسلام آباد پہنچیں گے اور کتنے دھرنا دے کر کتنے عرصے کے لیے بیٹھ پائیں گے، اس کا حتمی یقین خود جماعت کے اندر بھی موجود نہیں۔ عمران خان نے اسلام آباد میں 20 لاکھ لوگ اکٹھے کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ ماضی میں اسلام آباد میں جتنی مرتبہ بھی پہنچے ہیں ان کے ساتھ 29 ہزار لوگ بھی نہیں ہوتے تھے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی عمران خود بھی دن رات دھرنے کے اندر ہی موجود رہیں گے اور اپنا اوڑھنا بچھونا سونا کھانا پینا سب دھرنے کے مقام پر ہی محدود رکھیں گے؟ اس کا جواب بھی 2014 کے دھرنے سے بخوبی حاصل کیا جا سکتا ہے جہاں صرف رات کے اوقات میں تقاریر کی حد تک ہی ڈی چوک کو رونق ملتی اور دن کے اُجالے میں پی ٹی آئی کیمپس ویران اُجاڑ پڑے نظر آتے تھے۔ تاہم یہ ضرور تھا کہ تب عمران کو اسٹیبلشمنٹ کی بھر پور حمایت حاصل تھی اور پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز ان کا دھرنا کئی کئی گھنٹے براہ راست دکھایا کرتے تھے۔ لیکن اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے کیونکہ فوج کی جانب سے نیوٹرل ہونے کے اعلان کے بعد عمران خان اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کر رہے ہیں اور یہ جنگ ان کو مقتدر حلقوں کی حمایت کے بغیر ہی لڑنا ہوگی لہذا ان کی کامیابی کا امکان کافی کم ہے۔
غریدہ کہتی ہیں کہ لانگ مارچ اوردھرنے کے ذریعے اگر الیکشن کروائے جا سکتے تو ماضیِ قریب میں مولانا فضل الرحمٰن بھاری بھرکم ہجوم کے ساتھ اسلام آباد وارد ہوئے تھے۔ اگر مولانا کے سخت جان کارکنان بھی چند روز سے زائد وہاں دھرنا قائم رکھنے کے متحمل نہ ہو سکے تھے تو عمران کے نوزائیدہ جنونی عاشق کب تلک شدید گرمی کے تھپیڑے، سیاسی محاذ آرائی کی تلخی اور ’ماضیِ قریب کے حلیفِ دلبرداشتہ‘ کی بےرخی سہ پائیں گے۔
عمران خان کا خیال ہے کہ وہ 20 لاکھ لوگ اسلام آباد لے آئیں تو شہرِ اقتدار اور حکومت کو مفلوج کرنے کے ساتھ ساتھ پنڈی کو بھی کوئی فیصلہ لینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ لیکن 20 لاکھ لوگ لانگ مارچ کے لیے اکٹھے کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ دھرنے کے لیے 50 ہزار لوگ بھی اکٹھے کرنا محال ہو سکتا ہے۔ مسئلہ اب یہ ہے کہ کپتان اپنا آخری پتہ لانگ مارچ کی صورت اعلان کر کے پھینک چکے ہیں۔ اب یا تو اس پتے کو کھیلنا ہو گا یا گیم سے باہر ہونا ہو گا۔
بقول غریدہ، اگر کسی بھی صورتِ حال کے بہانے لانگ مارچ اور دھرنے کو اعلان کردہ وقت سے آگے بڑھانے کا سوچا جاتا ہے تو یہ بھی گیم سے باہر ہونے کے مترادف ہو گا۔ لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان اب عمران خان کے لیے سیاسی آر یا پار کی صورت ہے جس کی کامیابی کے امکانات صفر کے قریب ترین ہیں۔ تحریکِ انصاف حکومت کو اصل ٹف ٹائم پارلیمان کے اندر ہی دے سکتی ہے کیونکہ بجٹ کی آمد آمد ہے، ایوانِ بالا میں پی ٹی آئی مَنی بِل کے حوالے سے حکومت کے دانت کھٹے کر سکتی ہے اور پھر ایوانِ صدر بھی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس طرح پی ٹی آئی کے لیے سیاسی اعتبار سے حکومت کو مفلوج کیے رہنا پارلیمان کے اندر سے ہی ممکن ہے۔ اگر تحریکِ انصاف مئی کے اواخر میں لانگ مارچ یا دھرنے کا آغاز کرتی ہے تو ہر صورت اسے ایک ماہ کے اندر اندر ہی مکمل کرنا ہو گا اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنا ہو گا کیونکہ لانگ مارچ، دھرنے کے امکانات میں بڑی رکاوٹ جولائی کے وسط میں آنے والی عید الاضحیٰ اور پھر محرم الحرام اور اس کے بعد نومبر کے لیے تیاریاں گویا ایک اور ’سردیوں کی آمد۔‘
اس حساب سے ’حقیقی آزادی‘ کے حصول کے لیے ’حقیقی وقت‘ انتہائی کم ہے۔ فی الحال تو تمام حقائق کا بےرحمانہ تجزیہ کیا جائے تو حالات عمران کی سڑکوں کی حکمت عملی کے موافق نظر نہیں آتے اور نہ ہی الیکشن عمران کی منشا کے مطابق وقت پر ہوتے نظر آتے ہیں۔
تاریخی اور عالمی حوالوں سے سیاسی تحریکوں کی کامیابی کا ایک پینترا پُرتشدد یا خونی بھی ہو سکتا ہے مگر ملک کے موجودہ حالات میں اس کے استعمال سے تحریکِ انصاف کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان پہنچنے کا احتمال زیادہ ہے۔ سو غریدہ کے بقول فی الحال عمران کے لیے اس سے بہتر آپشن اور کوئی موجود نہیں کہ وہ گذشتہ ساڑھے تین سال کی غلطیوں کا اِزالہ کریں، ’معاملات‘ کو ٹھیک کرنے کی طرف توجہ دیں اور اگر واقعی مستقبل قریب میں اپنا وزارتِ عظمیٰ کا کَم بیک چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ وہ جارحیت کو بریک لگائیں اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اعتماد سازی کے اقدامات پر مکمل توجہ دیں ورنہ انہیں آنے والے کئی موسم لو کے تھپیڑوں کی زد میں گزارنا پڑیں گے۔
