پالتو صحافیوں کی ڈیمانڈ اورسپلائی میں اضافہ کیوں؟

پاکستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے صحافتی کلچر کی وجہ سے اب سچ بولنے اور خبروں کی صداقت پر اصرار کرنے والے صحافی تیزی سے تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ انکے مقابلے میں سیاسی جماعتوں سے مالی مفادات حاصل کرنے والے پالتو صحافیوں کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق صحافت اور سیاست میں فرق قائم رکھنا اتنا ہی ضروری ہے، جتنا ایک صحافی اور ایک سیاست دان میں فرق رکھنا لازمی ہے۔ ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی میں اعلیٰ صحافتی اقدار بری طرح پامال ہو رہی ہیں۔ گذشتہ چند ماہ سے پاکستان میں جاری سیاسی بحران میں ملکی میڈیا بری طرح تقسیم ہو چکا ہے۔ میڈیا ہائوسز فریق بن کر اپنے اپنے مخالفین پر لفظی گولہ باری میں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان میں صحافی اور صحافت نایاب ہوچکی ہے۔ مخاطب ہونے والا صحافی اب کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی ترجمانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر کوئی صحافی کہہ دے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتا تو یہ بات ناقابلِ یقین سی لگتی ہے۔ کسی بھی صحافی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ دیکھ کر با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس جماعت کی حمایت کر رہا ہے۔
سیاست دان اور صحافی میں یہ فرق ہوتا ہے کہ سیاست دان اکثریت کی حمایت کی تلاش میں ہوتے ہیں لیکن ایک صحافی سچ کی تلاش میں سرگرداں ہوتا ہے۔ اگر ایک سیاست دان یا ادارہ جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کر رہا ہو تو ایک سچے صحافی کا کام ہے کہ خبر کی کھوج لگا کر حقیقت عوام کے سامنے لائے۔ اندرونی خبروں کے حصول کے لیے ہر صحافی سیاست دانوں یا پھر مقتدر حلقوں کی قربت چاہتا ہے لیکن دوسری جانب عوام کی نظر میں ایک صحافی کی غیر جانبداری ہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتی ہے۔
عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ ملک دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک حصہ عمران خان کے ساتھ اور دوسرا حصہ پی ڈی ایم یعنی حکومت کے ساتھ ہے۔ یہی حال صحافت میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ہر صحافی کسی نہ کسی جماعت کی کھل کر حمایت کرنے لگا ہے۔ ٹاک شو دیکھتے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ پروگرام نہیں بلکہ کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت کی مہم ہے جس میں سچ کہیں درمیان میں ہی دب کر رہ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک صحافی کو نواز لیگ کا متوالا، پیپلز پارٹی کا جیالا، یا پی ٹی آئی کا عمرانڈو ہونا چاہیے، کیا صحافی یا تجزیہ کار کو تخت لاہور کا قصیدہ گو ہونا چاہیے یا پھر اسے صحافی ہی رہنا چاہیے۔
اس وقت پاکستانی میڈیا سابق وزیراعظم عمران خان کے حامی اور مخالف گروپوں میں منقسم ہے اور سیاسی منظرنامے پر کشیدگی کے اضافے کے ساتھ ہی اب عمران خان کا حامی میڈیا ان کا زیادہ حامی ہو گیا ہے اور ان کا مخاف میڈیا ان کا زیادہ مخالف ہو گیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مین سٹریم میڈیا میں زیادہ تر ٹی وی چینل اور بڑے اخبارات مسلم لیگ ن اور موجودہ حکومت کو سپورٹ کر رہے ہیں جس کی وجہ اشتہارات کا حصول بھی ہو سکتا ہے۔ میڈیا کے چند ایک چینلز عمران خان کی حمایت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پرعمران کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس کی ایک وجہ تحریک انصاف کی مضبوط سوشل میڈیا ٹیم ہے۔
اب تو پاکستان میں ناظرین نے اپنا پسندیدہ چینل بھی چن رکھا ہے جس کی ساکھ نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ ٹی وی چینل سے زیادہ ایک بھونپو کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سیاسی تقسیم اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہر کوئی اپنی پسند کے چینل کو دیکھتا ہے جہاں اسے من پسند خبریں دیکھنے کو مل سکیں۔
ایسے میں عوام کا مین سٹریم میڈیا سے اعتماد اٹھ رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی فیک نیوز کی بھرمار دکھائی دیتی ہے۔ اس صورت حال میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ صحافی حقائق پرکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک ہی واقعے کو دو مختلف ٹی وی چینلز اس طرح بیان کرتے ہیں کہ دیکھنے والا ایک کو سچا جبکہ دوسرے کو جھوٹا قرار دیتا ہے۔ میڈیا مالکان کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی معیاری صحافت پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ دوسری طرف سچ بولنے اورخبروں کی صداقت پر اصرار کرنے والے صحافی اب تیزی سے تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں پارٹیوں کے من پسند اور سرکاری و مالی مفادات حاصل کرنے والے صحافی سیاسی جماعتوں کو پسند آتے ہیں اور ان کی ڈیمانڈ اس لیے بڑھ رہی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی پروموشن کر سکیں۔
