نواز شریف واپس آئیں اورعمران خان کو جیل بھجوائیں

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اصول کی بات یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان کے اندر رہ کر سیاست کرنی چاہیے۔ اسی طرح اصولا ًاگر کرپشن کے الزامات پر بھٹو اور شریف خاندان کے لوگ گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالے جا سکتے ہیں تو عمران خان کیا آسمان سے اتری ہوئی کوئی مخلوق ہے جسے گرفتار کر کے اسکا احتساب نہیں کیا جا سکتا؟
ملک میں اس وقت سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے، ہر طرف عمران خان کے فوری الیکشن کے مطالبے کی باز گشت ہے جسے کہ درپردہ اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے کی حمایت ہونے کا دعوی ٰکیا جا رہا ہے، دوسری جانب تمام تر دباؤ کے باوجود موجودہ حکومت نے فوری انتخابات کروانے سے انکار کر دیا ہے، حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ اصلاحات کے بغیر الیکشن میں جانا گدلے پانی سے نکل کر دوبارہ گدلے پانی میں جانے کے مترادف ہے۔
بی بی سی اردو کو خصوصی انٹرویو کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب باہمی مشاورت سے انتخابی مرحلہ طے کیا جائے گا اور انتخابی اصلاحات میں کتنا وقت لگتا ہے اس بارے میں قبل از وقت کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ تباہ و برباد معیشت کو سنوارنا ہے، عمران خان نے پچھلے پونے چار سال میں تمام اداروں کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور اب ہمارے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ کیا ہم ملک دوبارہ صحیح راستے میں لا سکتے ہیں اور اس کیلئے کتنا وقت درکار ہوگا، سارے کام ایگزیکٹو آرڈر سے پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتے، اس کیلئے پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جن کو مل کر پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ میں تو آرمی چیف کی تقرری کے معاملے کو کسی صورت سیاسی اجتماعات کا موضوع گفتگو نہیں بنانا چاہتا، حکومت کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ آرمی چیف کی تقرری کرتی ہے یا مزید مدت دیتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قوم کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ آرمی چیف کی تقرری کو سیاسی جلسوں میں زیر بحث نہیں لانا چاہئے، عمران خان اسٹیبلشمنٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وقت نے ہمارے موقف کو درست ثابت کیا، آج عمران خان کس منہ سے کہہ رہے ہیں کہ ان کو بین الاقوامی سازش کے تحت اقتدار سے الگ کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں ایک بین الاقوامی سازش کے تحت پاکستان پر مسلط کیا گیا اور پھر پارلیمنٹ نے انھیں ووٹ کی قوت سے اقتدار سے باہر نکالا۔
انہوں نے کہا ہمارے پاس صدر کا مواخذہ کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت نہیں ہے لیکن اصول کی بات ہے اگر صوبہ خیبر پختونخوا اور سندھ کا گورنر مستعفی ہو جاتا ہے تو پھر صدر کو بھی چلے جانا چاہئے، صدر مملکت کے عہدے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ تمام ہم خیال جماعتوں کی متفقہ رائے سے جو فیصلہ ہوگا وہ ہم سب کے لیے قبول ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ میں تو ہمیشہ اس بات کا حامی رہا ہوں کہ میاں نواز شریف کو پاکستان واپس آ جانا چاہئے اور ملک میں رہ کر سیاست کرنی چاہئے، ملک کا کوئی شخص ان کی پاکستانیت چھین نہیں سکتا۔ سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو کوئی رعایت نہیں دی گئی، نواز شریف نے جیل کاٹی، ان کا پورا خاندان جیل میں ڈال دیا گیا، آصف علی زرداری نے بھی گیارہ سال جیل کاٹی لہٰذا عمران خان کونسا فرشتہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی خصوصی رعایت کی جائے، اس کے خلاف بھی کرپشن کے درجنوں کیسز ہیں، اسے بھی گرفتار کرکے جیل میں ڈال دینا چاہیے تاکہ اس کا بھی احتساب ہو سکے۔
