خون خرابے کے بغیرعمران سے نمٹنا حکومت کے لیے بڑا چیلنج

عمران خان کی جانب سے 25 مئی کو حکومت مخالف لانگ مارچ شروع کرنے کے اعلان کے بعد اب شہباز حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس مارچ سے بغیر خون خرابے کے نمٹنا ہے تاکہ کپتان کو مخلوط حکومت گرانے کا کوئی بہانہ نہ مل سکے۔
تحریک انصاف کی جانب سے 25 مارچ کو لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اس وقت سب سے اہم سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا حکومت اپوزیشن جماعت کو لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کی اجازت دے گی یا نہیں؟ اور اس حوالے سے حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ عمران خان کی جانب سے اتوار کو لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور ردعمل میں اس معاملے پر کسی قسم کی حکمت عملی واضح نہیں ہے۔تاہم وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے اعلانات سے ایک بات واضح ہو رہی ہے کہ ن لیگ ایک بار پھر اتحادیوں کی جانب دیکھ رہی ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران جب وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ حکومت لانگ مارچ کی اجازت دے گی یا نہیں تو انہوں نے کہا کہ ‘جب وقت آئے گا تب دیکھیں گے۔‘خیال رہے کہ لانگ مارچ میں صرف دو دن باقی ہیں جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ کراچی اور بلوچستان سے کل ہی قافلے روانہ ہو جائیں گے۔اسی طرح وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’اگر اتحادیوں نے لانگ مارچ روکنے کا فیصلہ کیا تو میں ان کو گھروں سے نہیں نکلنے دوں گا۔‘وفاقی وزیر نے کہا کہ ’شیخ رشید کہتے تھے کہ آگ لگا دو، مار دو۔ اب کہتے ہیں کہ میں خونی لانگ مارچ کروں گا۔ انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔‘’اسلام آباد نہ آنے دینےکا فیصلہ ہوا تو ان کو گھر سے نہیں نکلنے دوں گا۔ اِنہوں نے افراتفری پھیلانے کی کوشش کی تو گرفتار بھی کریں گے۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی سابق وزیراعظم کے لانگ مارچ کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کان کھول کے سُن لیں الیکشن کا اعلان ہم نے کرنا ہے۔ چیخیں، پیٹیں، روئیں یا دھمال ڈالیں، الیکشن کا فیصلہ حکومت اور اتحادیوں نے کرنا ہے۔‘’الیکشن چاہیے تھا تو تب کرواتے جب اقتدار سے چمٹے ہوئے تھے اور اختیار رکھتے تھے۔ الیکشن سے متعلق آپ کے پاس اب کوئی اختیار نہیں ہے۔‘انہوں نے کہا کہ 25 مئی کو آئی ایم کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہے اور عمران کا اعلان اِس پر نیا حملہ ہے۔‘ استفسار کے باوجود وزیر اطلاعات نے لانگ مارچ کے حوالے سے حکومتی حکمتِ عملی کے بارے نہیں بتایا۔تاہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ’وزیراعظم کابینہ کا خصوصی اجلاس بلا کر لانگ مارچ کے حوالے سے فیصلہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس سلسلے میں کابینہ کا اجلاس سوموار کو بلائے جانے کا امکان ہے۔‘
دوسری جانب حکومت نے لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد پولیس میں اعلیٰ سطح پر تقرریاں کی ہیں جنہیں تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔احسن یونس کی جگہ اکبر ناصر خان کو نیا آئی جی اسلام آباد تعینات کیا گیا ہے۔ انہیں چند دن قبل ہی ایک انکوائری میں کلین چٹ دی گئی ہے۔اس کے علاوہ سہیل ظفر چٹھہ کو ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد تعینات کردیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ سیاسی جلسے جلوسوں سے سختی سے نمٹنے میں شہرت رکھتے ہیں۔
ڈی آئی آپریشنز سہیل ظفرچٹھہ کو ڈی آئی جی لا اینڈ آرڈر کا بھی اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ ملک محمد جمیل ظفر کو ایس ایس پی آپریشنز اوریاسر آفریدی کو ایس ایس پی سی ٹی ڈی تعینات کیا گیا ہے۔ڈاکٹر سید مصطفیٰ تنویر کو ڈائریکٹر آپریشنز سیف سٹی اسلام آباد کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل آئی جی جنرل کا بھی اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ’اسلام آباد پولیس نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ماسوائے ایمرجنسی، پولیس اہلکاروں کی ہر قسم کی تعطیلات پر پابندی عائد کر دی ہے۔‘اس حوالے سے ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز نے باقاعدہ آرڈرز جاری کر دیئے ہیں۔ یہ پابندی اگلے احکامات تک جاری رہے گی۔ حکام کے مطابق مروجہ ایس او پی کے تحت اسلام آباد کے حساس مقامات اور ریڈ زون کی سکیورٹی آرٹیکل 245 کے تحت فوج کے حوالے کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان نے فوجی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب اپنے نیوٹرل رہنے کے موقف پر قائم رہیں اور نیوٹرل ہو کر دکھائیں۔ عمران کے مطابق ’ہم نے نہ جیل دیکھنی ہے اور نہ کچھ اور۔ ہم اپنی جان دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہم کسی صورت اس حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہمیں جتنی دیر اسلام آباد رہنا پڑا رہیں گے۔ ہمارا مطالبہ فوری طور پر اسمبلیوں کی تحلیل، الیکشن کی تاریخ کا اعلان اور صاف و شفاف الیکشن کا انعقاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاست نہیں جہاد ہے اور میں چاہتا ہوں کہ بیورو کریسی بھی سن لے کہ اگر کوئی غلط کارروائی کی گئی تو ہم ایکشن لیں گے۔ پولیس، بیوروکریسی اور فوج ہماری ہے۔ یہ ہمارا ملک ہے۔ فوج نے کہا ہے کہ وہ نیوٹرل ہے تو اب اس معاملے میں بھی نیوٹرل رہے۔ ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا شہباز حکومت عمران کے لانگ مارچ کو خون خرابہ کیے بغیر سنبھال پائے گی یا نہیں؟
