عثمان بزدار نے پنجاب کو کس طرح بربادی کا شکار کیا؟

عمران خان کی جانب سے وسیم اکرم پلس کا خطاب پانے والے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی زیر قیادت پنجاب حکومت نے ساڑھے تین سال کے دوران سپریم کورٹ کے انیتاتراب فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جس وسیع پیمانے پر ذاتی پسند اور ناپسند اور پیسوں کی خاطر بیورو کریسی میں تقرریاں اور تبادلے کیے ان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ان پوسٹنگز اور ٹرانسفر کی وجہ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب مفلوج ہو کر رہ گیا اور بیوروکریسی کام کرنے کے قابل نہ رہی جس کا نتیجہ حکومت کی ناکامی کی صورت میں سامنے آیا۔ معلوم ہوا ہے کہ بزدار دور میں ایک درجن چیف سیکریٹریز اور آئی جی تبدیل کرنے کے علاوہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ اور فیلڈ لیول کے عہدوں پر فائز 3000 سے زائد افسران کو تبدیل کیا گیا جو عہدوں کی معیاد کی پالیسی کے علاوہ سپریم کورٹ کے انیتا تراب کیس کے فیصلے کی بھی کھلی خلاف ورزی تھی لیکن کسی نے اسکا نوٹس نہ لیا۔ یوں بزدار حکومت نے سب سے بڑی عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی قائم کرنے کا نیا ریکارڈ بھی بنایا۔
سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ حکومت کی میوزیکل چیئر کے انداز سے کی جانے والی حکمرانی کی وجہ سے بمشکل ہی صوبے میں کوئی افسر اپنے عہدے کی معیاد مکمل کر پایا اور جن لوگوں کو حکمرانوں کی مرضی و منشاء سے تبدیل کیا جاتا رہا انہیں راستے کے پتھر کی طرح فائل میں کوئی وجہ تحریر کیے بغیر ہی ہٹا دیا گیا۔
اس معاملے پر کوئی از خود نوٹس نہیں لیا گیا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو کوئی سزا بھی نہیں ملی حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ تقریباً تمام تبادلے معیاد مکمل ہوئے بغیر ہی کیے گئے اور یہ سپریم کورٹ کے انیتا تراب کیس میں سنائے گئے فیصلے کی واضح خلاف ورزی تھی۔
اس فیصلے میں حکومت کو پابند کیا گیا تھا کہ کسی بھی افسر کو معیاد مکمل ہونے سے قبل ہٹایا نہیں جا سکتا۔سپریم کورٹ نے واضح طور پر رہنما اصول طے کر دیئے تھے تاکہ افسران کے عہدوں کی معیاد کو تحفظ مل سکے لیکن بزدار حکومت نے صوبائی انتظامیہ اور پولیس میں اتھل پتھل مچا کر رکھ گئی اور افسران کو مہینوں بلکہ ہفتوں میں تبدیل کیا جاتا رہا۔
تفصیلات کے مطابق، بزردار حکومت نے تقریباً 1100سیکریٹریز، ڈائریکٹر جنرلز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز کو صوبے میں تبدیل کیا۔ سب سے زیادہ تبدیلیاں پولیس ڈپارٹمنٹ میں ہوئیں جہاں 1900سینئر پولیس افسران بشمول ڈی آئی جیز، ریجنل پولیس افسران، سٹی پولیس افسران، ڈی پی اوز اور ایس ڈی پی اوز کا تبادلہ کیا گیا۔
ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 306 ڈی آئی جیز، ریجنل پولیس افسران، سٹی پولیس افسران، ڈی پی اوزکو اور 1600 سے زائد ایس ڈی پی اوز کو عثمان بزدار کی حکومت میں تبدیل کیا گیا۔
ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ ٹرانسفر پوسٹنگز چار اضلاع میں کی گئیں جن میں لاہور، گجرانوالہ، پاک پتن اور ڈیرہ غازی خان شامل ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جن سے عثمان بزدار، بشریٰ بی بی اور ان کے پہلے شوہر خاور مانیکا کے فرنٹ میں احسن جمیل گجر کا تعلق ہے۔ اسی طرح تبادلوں اور تقرریوں کے معاملے میں سب سے کم متاثرہ ضلع چکوال رہا جہاں انتظامی عہدوں اور پولیس کے عہدوں پر بہت کم تبدیلیاں کی گئیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے کے بیشتر لوگ فوج میں بھرتی ہیں اور وہاں پہلے ہی مرضی کی پوسٹنگز چل رہی ہیں۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ عثمان بزدار کی حکومت میں پنجاب میں پانچ چیف سیکریٹریز اور سات آئی جی پولیس تبدیل کیے گئے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ساڑھے تین سال کی مدت میں بزدار حکومت نے 40 صوبائی محکموں میں 216 سیکریٹریز تبدیل کیے۔
پی ٹی آئی کی زیر قیادت صوبائی حکومت میں کچھ محکموں میں 10 سیکریٹریز تک تبدیل کیے گئے۔ اوسطاً ہر محکمے میں پانچ سیکریٹریز تبدیل کئے گئے۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 10 سیکریٹریز تبدیل کیے گئے جبکہ ہائر ایجوکیشن اور ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ میں 9 سیکریٹریز تبدیل کیے گئے۔
مینجمنٹ اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ، ایریگیشن ڈپارٹمنٹ، فاریسٹری، وائلڈ لائف اور فشریز ڈپارٹمنٹ، اوقاف اور مذہبی امور ڈپارٹمنٹ میں سے ہر ایک میں 8 سیکریٹریز تبدیل کیے گئے۔ کسی بھی وزارت میں کم سے کم تبدیل ہونے والے سیکریٹریز کی تعداد 3 ہے۔ کمشنرز کی بات کی جائے تو بزدار حکومت نے صوبے کی 10 ڈویژنوں میں 57 کمشنرز کا تبادلہ کیا۔
اوسطاً ہر ڈویژن میں ساڑھے تین سال کے دوران 5.7 کمشنرز کا تبادلہ ہوا۔ لاہور، گجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال وہ ڈویژنیں ہیں جہاں سب سے زیادہ مرتبہ کمشنرز کا تبادلہ کیا گیا۔
ان ڈویژنوں میں سے ہر ایک میں سات کمشنرز کو تبدیل کیا گیا۔ بہاولپور وہ ڈویژن ہے جہاں سب سے کم یعنی چار کمشنرز تبدیل ہوئے۔ صوبے کے 36 اضلاع میں بزدار حکومت نے ساڑھے تین سال میں 198 ڈپٹی کمشنرز تبدیل کیے۔
اوسطاً ہر ضلع میں 5 ڈپٹی کمشنرز کا تبادلہ ہوا۔ ڈیرہ غازی خان اور گجرانوالہ دو ایسے اضلاع ہیں جہاں سب سے زیادہ ڈی سیز تبدیل ہوئے۔ ہر ایک ضلع میں 8 ڈپٹی کمشنرز تبدیل ہوئے۔
حتیٰ کہ میانوالی اور لاہور میں بھی اتنے ڈی سیز کا تبادلہ نہیں ہوا جتنا ڈی جی خان اور گجرانوالہ میں ہوا۔ چکوال، ملتان اور خانیوال وہ تین اضلاع ہیں جہاں کم سے کم ڈی سیز تبدیل ہوئے۔ ہر ایک ضلع میں تین تین ڈی سیز کا تبادلہ ہوا۔ ایسی بھی کچھ مثالیں ہیں جہاں دو ماہ میں ہی ڈی سی کا تبادلہ کر دیا گیا، ایسے اضلاع میں گجرانوالہ ہے جہاں مسٹر منظور حسین کو ڈی سی لگائے جانے کے بعد انہیں 58 دن میں تبدیل کر دیا گیا۔
ڈی جی خان اور پاک پتن میں بھی کچھ ڈی سیز تین ماہ میں تبدیل کر دیے گئے جن میں ڈی جی خان سے وقاص راشد کو تین ماہ میں جبکہ پاک پتن سے نعمان یوسف کو تین ماہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ پولیس ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدوں پر بھی بزدار حکومت نے 306 تبادلے کیے جن میں ڈی آئی جیز، آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو پنجاب کے تمام اضلاع میں تبدیل کیا جاتا رہا۔ صوبائی حکومت نے 10 ڈی آئی جی آپریشنز اور 11 ایس ایس پی آپریشنز کو لاہور سے تبدیل کیا۔
لاہور کے بعد پاک پتن وہ ضلع ہے جہاں سب سے زیادہ یعنی 9 ڈی پی اوز کو بزردار حکومت میں تبدیل کیا گیا۔ آر پی اوز کی بات کی جائے تو گجرانوالہ میں سب سے زیادہ یعنی 8 افسران کو تبدیل کیا گیا۔ چکوال میں کم سے کم تبدیلی کی گئی اور یہاں اس عرصہ میں صرف تین آر پی اوز کو تبدیل کیا گیا۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے 47 ڈائریکٹوریٹس میں 203 ڈی جیز کو تبدیل کیا۔
اوسطاً ہر ڈائریکٹوریٹ میں بزدار حکومت کے دوران 4 ڈائریکٹر جنرلز کا تبادلہ ہوا۔ سب سے زیادہ تبادلے ڈائریکٹوریٹ جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں ہوئے جہاں 8ڈی جیز تبدیل ہوئے۔
