6 دن کی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود عمران کا لانگ مارچ سے گریز


عمران خان کی جانب سے 25 مئی کا لانگ مارچ اس اعلان پر ختم کیا گیا تھا کہ اگر حکومت نے ملک میں فوری الیکشن کا فیصلہ نہ کیا تو وہ اگلے چھ روز میں دوبارہ لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے اور حکومت کے خاتمے تک وہاں دھرنا دیں گے، تاہم یکم جون کو یہ ڈیڈ لائن ختم ہو جانے کے باوجود عمران اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے خاموش ہیں۔ دوسری جانب عمران خان نے یکم جون کو پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے اپنے لانگ مارچ کو تحفظ ملنے کے فیصلے کے بعد ہی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ لیکن سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے دائر کردہ درخواست یہ اعتراض لگا کر فارغ کر دی کہ یہ معاملہ پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہے لہذا ایک ایشو پر ایک ہی فریق کی جانب سے دو درخواستیں دائر نہیں کی جا سکتیں۔

دوسرے لفظوں میں سپریم کورٹ نے 25 مئی کے تجربے اور اسکے نتیجے میں خود پر ہونے والی تنقید کے بعد پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو تحفظ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں نو اہم نکات اٹھائے گئے تھے۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو احتجاج کے لیے اجازت دینے کا حکم دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت حکومت کو ہدایت دے کہ احتجاج کے دوران کسی کارکن کو گرفتار نہ کیا جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے تحت انھیں پر امن احتجاج کا حق حاصل ہے اور عدالت عظمیٰ وفاقی اور پنجاب حکومت کو احتجاج کے لیے نہ صرف اجازت دینے کا حکم دےبلکہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو تشدد اور طاقت کے استعمال سے روکا جائے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت حکومت کو ہدایت کرے کہ احتجاج کے راستے میں کوئی رکاوٹیں حائل نہ کی جائیں۔

اسد عمر نے الزام عائد کیا کہ پچیس مئی کو لانگ مارچ کے دوران حکومت وقت کی طرف سے سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کیا گیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ بائیس کروڑ عوام کے جمہوری حق کی حفاظت کرے گی۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا سربراہ اپنے حکومت مخالف احتجاج کے لیے سپریم کورٹ سے تحفظ مانگ رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے 25 مئی کو عمران خان کو اپنی انگلی پکڑادی تھی لہذا اب موصوف انہیں بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹ کر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 25 مئی کو حکومت کی جانب سے کریک ڈاؤن کے بعد عمران خان کا لانگ مارچ چوپٹ ہو گیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ تمام راستے کھول دے اور عمران خان کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کے لیے جگہ دی جائے۔ تاہم راستے کھلتے ہی کپتان کے عمرانڈوز نے اسلام آباد میں تباہی مچا دی اور جگہ جگہ آگ لگا دی۔

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار طلعت حسین کا کہنا ہے کہ عمران نے 25 مئی کا لانگ مارچ ختم کر کے حکومت کو اسمبلیاں 6 دنوں میں تحلیل کرنے کا الٹی میٹم جلد بازی میں دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کی شاید یہ خام خیالی تھی کہ اس عرصے کے دوران کوئی نہ کوئی نتیجہ آجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ طلعت حسین کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے ’سیاسی شرمندگی سے بچنے کے لیے‘ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی اور ان سے احتجاج کی اجازت طلب کی لیکن ابھی تک کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل پایا۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ تحریک انصاف کو جلسے یا لانگ مارچ کی اجازت دینے سے پہلے اپنے سابق آرڈر کو بھی سامنے رکھے گی جس میں سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو سری نگر ہائی وے پر جلسہ کرنے کی اجازت دی تھی لیکن عمران خان اپنے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کا کہتے رہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے عمران کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دیا تھا تاہم عدالت نے کہا تھا کہ اس بارے میں عدالت اپنے حکم نامے میں ایسی گائیڈ لائنز دے گی جو کہ مستقبل کے لیے بھی کارآمد ہوں گی۔

تحریک انصاف کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور وفاقی دارالحکومت میں سڑکوں کی بندش سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کی درخواست پر فیصلہ جاری کرنے والے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے معزز ججز کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کے لیے مواد موجود نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ عمران نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی طرف سے پچیس مئی کو جاری ہونے والے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ تحریک انصاف کو جلسہ کرنے کے لیے ایچ نائن گرؤانڈ فراہم کرے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین اپنی تقریروں میں یہ کہتے رہے ہیں کہ انھوں نے لانگ مارچ اس لیے ختم کیا کیونکہ انھیں خونی تصادم کا خطرہ تھا کیونکہ ان کے بقول مظاہرین کے پاس بھی اسلحہ موجود تھا۔ طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اگر عمران اس مرتبہ دھرنا دے بھی دیتے تو شاید ان کو وہ سہولتیں فراہم نہ ہوتیں جو 2014 کے دھرنے میں فراہم کی گئی تھیں جس میں بعض اوقات وہ بنی گالہ بھی چلے جاتے تھے۔

تجزیہ کار سہیل ورائچ کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کسی بھی تحریک کے آخری آپشن ہوتے ہیں لیکن عمران خان نے ان کو پہلے استعمال کر کے اس تحریک کی قوت اور اہمیت کو کم کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو اب اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی کیونکہ پہلے تو لوگ آزادانہ طریقے سے جلسوں اور دھرنوں میں جاتے تھے لیکن اب حکومت اس میں رکاوٹیں ڈالے گی تو ایسی صورت حال میں پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ جتنی جلدی عمران خان نے لانگ مارچ کی کال دی اس کے لیے تو ان کے ارکان قومی اسمبلی بھی تیار نہیں تھے کیونکہ جس طریقے سے پی ٹی آئی نے پونے چار سال حکومت کی اس سے لوگ خوش نہیں تھے اور ارکان قومی اسمبلی اپنے حلقوں میں نہیں جاسکتے تھے تو ایسے حالات میں لوگ لانگ مارچ یا دھرنوں میں کیسے جاتے۔ انھوں نے کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنوں کے لیے نہ صرف پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس کے لیے حکمت عملی بھی تیار کرنا پڑتی ہے کہ کیسے آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے بچا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور علیم خان پی ٹی آئی سے الگ ہو چکے ہیں اور ایسے حالات میں پی ٹی آئی میں ایسی کوئی قابل ذکر شخصیت نہیں ہے جو پیسہ لگا سکے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسہ یا دھرنا دینے کے لیے حکومت سے مذاکرات کرنا پڑیں گے اور اب سپریم کورٹ اس حوالے سے مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔

Back to top button