حکومت نواز شریف کی لیکن وطن واپسی کی اجازت نہیں


سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کے شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں، وہ اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو پاکستان وطن واپس آنے کی اجازت دلوانے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت کتنی با اختیار ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پرایک تصویر وائرل ہوئی تھی۔ اس میں وطن عزیز کے موثر ترین ذہن ساز صحافی نجم سیٹھی جن کی ”چڑیا“ اندر کی خبریں لانے کی وجہ سے زبان زد عام ہے ایک کشتی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ بیٹھے تھے۔ یہ تصویر دیکھ کر گماں ہوتا ہے کہ ”پارٹی ہو رہی ہے“ ۔ ایمان داری کی بات ہے کہ اس تصویر پر پہلی نظر ڈالتے ہوئے میں خوش ہوا۔ زندگی سے لطف اندوز ہونا انسان کا بنیادی حق ہے۔ نجم سیٹھی اور نواز شریف اپنے اس حق کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے نظر آئے۔ مگر کچھ دیر بعد میرا اداس ذہن یہ سوچنے کو مجبور ہو گیا کہ یہ تصویر ذرا ”بچگانہ“ ہے اور ان دونوں حضرات کے بارعب اور سنجیدہ امیج کے ساتھ میچ نہیں کرتی۔ بعد ازاں اپنے ٹی وی شو میں نجم نے تفصیل سے مذکورہ تصویر کا پس منظر بیان کر دیا۔ ان کی زبانی علم ہوا کہ نواز شریف کے نواسے اور مریم نواز کے فرزند ان دنوں کیمرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ ان سے ملنے یورنیورسٹی گئے تھے۔ اس یونیورسٹی کے ساتھ ایک دریا بہتا ہے۔ اس کے دونوں جانب کے مناظر دل موہ لیتے ہیں۔ نجم سیٹھی اور نواز شریف صاحب کشتی میں بیٹھ کر ان سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ٹک ٹاک کے علاوہ دور ہمارا اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم کا بھی ہے۔ کشتی میں نجم سیٹھی اور نواز شریف کو بے فکر نوجوانوں کی طرح نیم دراز ہوئے دیکھا تو ان کے نقاد جل بھن گئے۔ انہوں نے سستی جگتوں سے دونوں کا تمسخراڑایا۔ بات مگر یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اس تصویر کے چھپنے کے بعد نجم نے اپنے ٹی وی شو میں پاک۔امریکہ تعلقات کی داستان چھیڑدی۔ اسے سناتے ہوئے ہماری سرزمین کا ذکر بھی ہوا جو 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کو افغانستان میں گھیر کر اس سپرطاقت کی تباہی کو یقینی بنانے کے لئے بطور ”اڈا“ استعمال ہوئی تھی۔ تحریک انصاف کے متوالوں نے نجم سیٹھی کی سنائی داستان کو محض تاریخ کی یاددہانی کی صورت نہیں لیا۔ دو جمع دو کا کلیہ استعمال کرتے ہوئے بلکہ طے کر دیا کہ نجم اور نواز شریف کشتی میں بیٹھے پاکستان کو ایک بار پھر امریکہ کی خوشنودی کے لئے بطور اڈا پیش کرنے کے منصوبے بنارہے تھے۔ ان کے قائد عمران خان نے جبکہ اس تناظر میں Absolutely Not کا اعلان کر رکھا ہے۔ غالباً اسی باعث بائیڈن انتظامیہ مشتعل ہو گئی۔ واشنگٹن میں مقیم پاکستانی سفیر کو دھمکی آمیز پیغام دیا۔ عمران خان اس کے باوجود جھکنے کو آمادہ نہ ہوئے تو ہماری قومی اسمبلی میں بیٹھے ”چور اور لٹیروں“ کے ذریعے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کروادی گئی۔ عمران خان کے لگائے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد کو بیرونی ساز ش قرار دیتے ہوئے ”مسترد“ کر دیا تھا۔ ہمارے قومی سلامتی کے اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کے مگر تحریک انصاف کی جانب سے ”میر جعفر“ ٹھہرائے افراد نے قاسم سوری کا فیصلہ قبول نہیں کیا۔ اس امر کو یقینی بنایا کہ جو تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی ہے اس پر ہر صورت گنتی کروائی جائے۔ عمران خان اس کی وجہ سے وزارت عظمیٰ سے فارغ ہو گئے۔ اب قومی حمیت کی بحالی کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں نے پی ٹی آئی والوں کی یہ تاویل سنی تو حیرت میں مبتلا ہو گیا۔ بچپن میں سنی داستانوں کی طرح یہ تاویل سنتے ہوئے ہنسی بھی آئی اور رونا بھی۔ نجم سیٹھی کی رسائی پاکستان ہی نہیں امریکہ اور برطانیہ کے طاقت ور ترین حلقوں تک بھی پراثر تصور ہوتی ہے۔ میرے پاس اس ضمن میں اگرچہ ان کی محدودات عیاں کرنے کو چند ٹھوس مثالیں بھی ہیں۔ انہیں سنانے سے گریز ہی بہتر کیونکہ نجم سیٹھی بہت وڈے آدمی ہونے سے قبل میرے عزیز ترین دوست بھی رہے ہیں۔ ان کا ”ٹہکا شہکا“ برقرار رہے تو مجھے دلی خوشی ہوگی۔ نواز شریف کا اپنا عالم یہ ہے کہ ان کے سگے چھوٹے بھائی شہباز شریف ان دنوں پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔ دکھاوے کے ”چیف ایگزیکٹو“ ہوتے ہوئے بھی تاہم وہ اپنے بھائی کی باعزت وطن واپسی کی راہ نہیں بناسکتے۔ نصرت جاوید سوال کرتے ہیں کہ پاکستان لوٹنے کی سکت سے محروم نواز شریف پاکستان میں امریکہ کو ”اڈے“ فراہم کرنے کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ اس سوال کا جواب میرا کند ذہن ابھی تک ڈھونڈ نہیں پایا۔

Back to top button