جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن سے ہٹانے کا امکان


عمران خان کے دور اقتدار میں حکومتی ٹٹو کا کردار ادا کرنے والے نیب چیئرمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد اب وفاقی حکومت جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے بھی ہٹانے پر غور کر رہی ہے جس سے وہ پچھلے 11 برسوں سے چمٹے ہوئے ہیں لیکن دھیلے کا بھی کام کرنے کو تیار نہیں۔ جمعہ کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے بھی جاوید اقبال کی بطور لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین نکمی پرفارمنس پر سخت مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کمیشن ایک بوجھ بن چکا ہےاور اپنے وجود کا جواز پیش کرنے میں ناکام ہے۔

یاد رہے کہ جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن 2011 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے جسٹس جاوید اقبال اس کی سربراہی کر رہے ہیں۔ یہ لاپتا افراد کا سراغ لگانے اور اس کے ذمہ دار افراد یا تنظیموں پر ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2011 سے اب تک لاپتا افراد میں سے صرف ایک تہائی گھر واپس آئے ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بطورچیئرمین لاپتہ افراد کمیشن ہی طیبہ بخاری نامی خاتون سے پہلی ملاقات کی تھی جس کے بعد وہ ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گئے اور انجام یہ ہوا کہ خاتون کو اپنے خاوند سمیت نیب کی حراست بھگتنا پڑ گئی۔

24 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتا افراد کے کیس میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہوں کہ یہ ‘جبری گمشدگی’ کا مقدمہ ہے تو یہ ریاست اور اس کے تمام اداروں کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ لاپتہ شہری کا سراغ لگائیں، یہ ذمہ داری اس وقت تک رہے گی جب تک کہ متاثرہ شخص کا سراغ نہیں لگا لیا جاتا یا اس کی قسمت کے بارے میں مؤثر تحقیقات کے ذریعے معتبر معلومات اکٹھی نہیں کر لی جاتیں۔ عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ یہ ریاست کے ہر ادارے کی آئینی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان عوامی اداروں کو جوابدہ ٹھہرائیں جو ذمہ دار ہیں اور جو لاپتا ہونے والے شہری کی حفاظت اور ان کا سراغ لگانے میں اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر ایسی کوئی چیز پیش نہیں کی گئی کہ کمیشن کے سربراہ نے گھر بیٹھے ہی سرکاری عہدیداروں کو پروڈکشن آرڈرز کی تعمیل میں ناکامی پر جوابدہ ٹھہرانے کی کوئی کوشش کی ہو۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ عدالت رپورٹ دیکھنے کے بعد بادی النظر میں یہ رائے دیتی ہے کہ لاپتہ افراد کمیشن اپنی ذمہ داری میں ناکام رہا ہے اور نہ ہی وہ ان حالات میں اپنے وجود کا جواز پیش کر سکتا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے آبزرویشن دی کہ کمیشن ایک دہائی قبل تشکیل دیا گیا تھا اور اس کی بنیادی ذمہ داری تھی کہ ’جبری گمشدگیوں‘ پر سزا سے استثنیٰ کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اب تک واضح ہو گیا ہے کہ کمیشن اپنے مقصد کو مؤثر طریقے سے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، کمیشن سرکاری خزانے پر بوجھ ہے اور اسے اپنے جاری رکھے جانے کا جواز فراہم کرنا چاہیے۔

عدالت نے کمیشن کو یہ بتانے کی ہدایت کی کہ کیوں کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور وفاقی حکومت کو سفارشات پیش نہیں کی گئیں تاکہ پروڈکشن آرڈر کی تعمیل میں ناکام رہنے والے افسران اور سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کی جاتی۔ یہ بات مسلسل نوٹ کی جاتی رہی ہے کہ کمیشن کے سامنے ہونے والی کارروائی مخالفانہ نوعیت کی نہیں ہے، کمیشن کو درخواست گزاروں اور لاپتا شہریوں کے دیگر تمام پیاروں کے تئیں انتہائی ہمدردی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کمیشن کا فرض ہے کہ وہ ان تک پہنچے اور اپنے طرز عمل سے انہیں یقین دلائے کہ کارروائی محض رسمی نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے امید ظاہر کی کہ کمیشن عدالت کو آگاہ کرے گا کہ بامعنی اور موثر کارروائیاں کیوں نہیں کی گئیں اور نہ ہی وفاقی حکومت کو پروڈکشن آرڈرز کی تعمیل کرنے میں ناکام رہنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارشات کی گئیں۔ لاپتا افراد سے متعلق بین الوزارتی کمیٹی نے وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں لاپتہ افراد سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں وزیر برائے تخفیف غربت شازیہ مری، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ اور وزیر دفاعی پیداوار محمد اسرار ترین نے شرکت کی۔

جبری گمشدگیوں کے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے شرکا نے ہفتہ وار اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کمیٹی ٹھوس نتائج پیش کرے گی، کمیٹی صوبوں سے سفارشات طلب کرنے کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو مدعو کرے گی۔ دوسری جانب اب حکومتی ذرائع سے یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی بدترین کارکردگی کے پیش نظر انہیں بطور چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن ہٹانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

Back to top button