عمرانی دور میں سچ اور جھوٹ کی بحث بے فائدہ کیوں؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ ہم ایک ایسے عہدِ میں سانس لے رہے ہیں، جس میں سچ اورجھوٹ کی بحث تمام ہو چکی ہے، اور حق و باطل کی جنگ ساقط قرار پائی ہے، لہٰذا اب یہ بحث بے فائدہ ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب سیاست میں بچوں کے معلم نہ سکول کے اساتذہ ہیں نہ ماں باپ۔ اس دور میں عقائد و خیالات سینچنے کا سب سے مؤثر ذریعہ سوشل میڈیا ہے، ٹک ٹاک سے ٹوئٹر تک سب اسی کے ذریعے ذہن سازی کر رہے ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ابھی کچھ سال پہلے تک ہم اپنے سیاسی خیالات اپنے گھر کے بڑوں سے اخذ کیا کرتے تھے، مشاہدہ یہی تھا کہ باپ اگر پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ کا حامی ہوتا تو بچے بھی عموماً اسی جماعت کو پسند کرتے،اسی روایت کا شاخسانہ ہے کہ ہم کئی لوگوں کو جانتے ہیں جو اپنا تعارف خاندانی مسلم لیگی کے طور پر کرواتے ہیں۔ مجھے یاد ہے میاں صلاح الدین 1970 کے الیکشن میں لاہور شہر کے حلقے سے امیدوار تھے، وہ الیکشن مہم کے دوران میرے والد ڈاکٹر ابو بکر غزنوی صاحب کے پاس ہمارے آبائی گھر شیش محل روڈ لاہور تشریف لائے تھے، بعد میں اس ملاقات کی نسبت سے ہم نے والد صاحبؒ کو اماں جان سے سیاست پر کچھ گفتگو کرتے سنا، ہم پر اس کے نقوش مرتب ہوئے، اسی طرح والد صاحبؒ بھٹو صاحب یا مودودی صاحبؒ کے حوالے سے جس رائے کا اظہار کیا کرتے تھے اس کے اثرات ہم پر تادیر قائم رہے۔اب ایسا کم کم ہوتا ہے، اب سیاست کے اکثر معاملات میں بچوں کے معلم نہ اسکول کے اساتذہ ہیں نہ ماں باپ۔ اس دور میں عقائد و خیالات سینچنے کا سب سے مؤثر ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔

حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ پچھلے دنوں انکی ایک نوجوان ڈاکٹر سے ملاقات ہو گئی اور تفصیلی نشست رہی۔ نئی نسل کے ذہن پڑھنا ایک دلچسپ اور ضروری عمل ہے، سو میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بات چیت کا آغاز کیا جو پہاڑی علاقے کی سڑک کی طرح بل کھاتی ہوئی سیاست کی وادی میں اُتر گئی۔ نوجوان ڈاکٹر کی جن باتوں نے مجھے چونکایا پہلے وہ سن لیں، انہوں نے کہا میں نے ’مشرقی پاکستان‘ کا نام کبھی نہیں سنا، میرے کُریدنے پر انہوں نے فرمایا کہ انہیں یہ معلوم ہے کہ پاکستان ٹوٹ گیا تھا، پھر انہوں نے کہا ’اچھا آپ بنگلہ دیش کی بات کر رہے ہیں‘، اور ساتھ ہی زیرِ لب بڑبڑائے ’وہ تو ہر چیز میں ہم سے آگے نکل گیا ہے‘۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ پاکستان بھٹو نے توڑا تھا، میں نے پوچھا،’’ آپ کی نظر سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ گزری ہے؟‘‘ موصوف نے فرمایا،’’ میں نے ’اس چیز‘ کا نام پہلے کبھی نہیں سنا۔ ‘‘آئین پاکستان کا نام انہوں نے سن رکھا تھا، اٹھارویں ترمیم کے وجودِ سے وہ یک سر بے خبر تھے، بہرحال ان کا یقین تھا کہ پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی نظام میں پنہاں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ وہ سیاست دانوں میں سے عمران خان کو زیادہ پسند فرماتے ہیں، یہ جان کر مزید تصدیق ہوئی کہ پاکستان کے تمام ’پڑھے لکھے‘ لوگ خان صاحب کے حامی ہیں۔ دراصل ڈاکٹر صاحب کے سیاسی عقائد بھی ڈیجیٹل میڈیا کی عطا ہیں، کیوں کہ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے حوالے سے انہوں نے جو آخری کتاب پڑھ رکھی تھی اس کا نام تھا ’مطالعہ پاکستان برائے جماعت ہشتم‘۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پاکستان میں عمران خان اور ان کے کوچ نے سوشل میڈیا کی اہمیت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا، 2013 کے انتخابات سے پہلے سے وہ انٹرنیشنل میڈیا کمپنیوں سے استفادہ کر رہے ہیں، عمران خان صرف اپنے جلسوں پر کروڑوں روپیہ نہیں خرچ رہے، بلکہ ڈیجیٹل میڈیا پر بھی حیران کُن رقم لگا رہے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مجھے بھی فیس بک سے گوگل تک، ہر پلیٹ فارم پر ’ایمان دار‘ عمران خان کی پوسٹس دکھائی دے جاتی ہیں،یہی معاملہ آپ میں سے اکثر کو درپیش رہا ہو گا، اسے کہتے ہیں ’ہر طرف تیرا جلوہ‘ جو ہمہ گیر ذہن سازی کا باعث بنتا ہے۔

ہمارے ایک زمیندار دوست بتا رہے تھے کہ ان کے گائوں میں وائی فائی یا سمارٹ فونز مفقود ہیں، لیکن نوجوان موبائل شاپ سے سو دو سو کے بیسیوں ٹک ٹاک لوڈ کروا لیتے ہیں اور ان میں ’جب آئے گا عمران‘ جیسے گیتوں پر رقص کرتی ہوئی خواتین کے ٹک ٹاک بھی شامل ہوتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر عمران کی حمایت کرنے والوں کے فالوورز دنوں میں ایک منظم نظام کے تحت لاکھوں تک پہنچا دیے جاتے ہیں اور انہیں یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک سے اچھی خاصی آمدن ہونے لگتی ہے؟ یعنی عمران کی حمایت کرنے سے آپ مالی طور پر بھی خوش حال ہو سکتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر عمران خان کی مخالفت کرنا معاشی خود کُشی کے مترادف ہے جو کوئی نظریاتی دیوانہ ہی کر سکتا ہےاور اگر سوشل میڈیا نفوذ کے حوالے سے دوسری سیاسی جماعتوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ پتھر کے دور میں زندہ ہیں۔ حالیہ ضمنی انتخابات کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ بیانیہ بنانے کو تو بہت سے دلائل تراشے جا سکتے ہیں، مثلاً، عمران خان صرف ایک قومی اسمبلی کی نشست پر خود امیدوار نہیں تھے، اور وہ نشست تحریکِ انصاف ہار گئی، عمران خان کراچی میں کسی عبدالحکیم بلوچ نامی شخص سے الیکشن ہار گئے، اس الیکشن میں چار ایسی نشستیں تھیں، ایک قومی اور تین صوبائی، جن پر عمران خان خود امیدوار نہیں تھے، اور ان میں سے دو پی ڈی ایم جیتی اور دو تحریکِ انصاف۔ یہ سب نکات اپنی جگہ درست ہیں مگر اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ عمران خان ایک انتہائی بے سروپا حکومت کرنے کے بعد بھی بتدریج مقبول ہو رہے ہیں، پنجاب کی تین صوبائی نشستوں کا نتیجہ اس ضمن میں سب سے معنی خیز ہے۔

لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ ہم ایک ایسے عہدِ میں سانس لے رہے ہیں، جس میں سچ اور جھوٹ کی بحث تمام ہو چکی ہے، اور حق و باطل کی جنگ ساقط قرار پائی ہے، پروین شاکر نے کیا خوب کہا ہے:

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جائوں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

Back to top button