حق دو تحریک 25ویں روز میںداخل، گوادر پورٹ مرکزی شاہرہ بند

بلوچستان میں ماہی گیروں کی حق دو تحریک 25ویں روز میں داخل ہوگئی ہے، مظاہرین نے گوادر بندر گاہ کی مرکزی شاہرہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔حق دو تحریک مولانا ہدایت الرحمان کی سربراہی میں گذشتہ 24 روز سے مچھیروں کے حقوق سے متعلق مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے، حق دو تحریک کے زیر اہتمام اتوار کو گوادر شہر میں مسجد عمر بن خطاب سے ریلی نکالی گئی، جس کے شرکا نے مختلف شاہراہوں پر مارچ کیا۔
بعد ازاں احتجاجی ریلی کے شرکا نے گوادر پورٹ کو جانے والی ایکسپریس وے پر دھرنا دیا اور سڑک کو ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا ہے،حق دو تحریک کے ترجمان حفیظ اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایکسپریس وے کو ان کے مطالبات کی ’عدم منظوری‘ کے باعث بند کیا گیا ہے، ہمارے مطالبات پر اس طرح عمل درآمد نہیں ہوا، جس طرح ہونا چاہیے تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت بات کرنے پر راضی نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں مجبوراً یہ قدم اٹھانا پڑا۔
حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے گذشتہ روز کہا تھا کہ 24 روز سے جاری دھرنے کے مقاصد میں ٹرالر مافیا، بارڈر مافیا اور چیک پوسٹوں کا خاتمہ شامل ہیں، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی اور بلوچستان حکومتیں ان کو نظر انداز کر رہی ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمان نے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں اگر ایک سال بھی بیٹھنا پڑا، ہم بیٹھیں گے، تحریک کے ترجمان حفیظ اللہ نے کمشنر مکران کی ان سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چند ایک ٹرالرز کو پکڑا گیا لیکن بڑے پیمانے پر کچھ نہیں ہوا۔
ماہی گیروں کی فیسوں کے حوالے سے جو سمری تھی اس پر بھی کوئی کام نہیں ہوا، انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک سرحد پار کاروبار کے لیے صرف شناختی کارڈ کے ذریعے کام کی اجازت کا مطالبہ کرتی ہے، تاہم اس سلسلے میں حکام کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
حفیظ اللہ کا کہنا تھا کہ حق دو تحریک نے اپنے لائحہ عمل کے تحت گوادر پورٹ شاہراہ کو بلاک کیا ہے، حق دو تحریک نے گذشتہ سال بھی تقریباً ایک مہینے تک دھرنا دیا تھا جسے ختم کروانے کے لیے اس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کو تحریک کے ساتھ تحریری معاہدہ کرنا پڑا تھا۔
گوادر اپنے جغرافیہ اور سی پیک کے حوالے سے اہمیت کا حامل شہر ہے، جہاں مستقبل کے بڑے منصوبے قائم ہونے جا رہے ہیں، دھرنے کی طوالت سے متعلق سوال پر حق دو تحریک کے ترجمان حفیظ اللہ نے کہا کہ ’فی الحال تو ہم بیٹھے ہوئے ہیں، اس حوالے سے صوبائی حکومت کا موقف جاننے کے لیے ترجمان بلوچستان حکومت فرح عظیم اور مشیر داخلہ میر ضیا لانگو سے رابطہ کرنے کی کوششیں کیں، تاہم تو ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔
حق دو تحریک نے اس بار چارٹر آف ڈیمانڈ جاری کیا ہے، جس میں مطالبات بڑھا کر 42 کر دیے گئے ہیں۔تحریک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سامنے آنے والے نئے مسائل کو بھی مطالبات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔تحریک کی طرف سے جاری کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں سرفہرست لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ اور پھر ٹرالر مافیا کا خاتمہ، ایرانی سرحد سے تجارت کی اجازت اور منشیات کے خاتمے سمیت غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ بھی شامل ہیں۔
ادھر 16 نومبر کو محکمہ اطلاعات بلوچستان کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ ڈائریکٹر فشریز کی ہدایت پر گوادر کے علاقے جیونی میں ایک غیر قانونی ٹرالر کو قبضے میں لے کر 17 افراد کو گرفتار کیا گیا، ڈائریکٹر جنرل فشریز میر سیف اللہ کھیتران نے بتایا کہ غیرقانونی ٹرالنگ کرنے والوں کے خلا ف سخت کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب صوبائی حکومت نے ماہی گیروں کو باقاعدہ مزدور کا درجہ بھی دے دیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن جاری کرکے اسے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے حوالے کیا گیا۔
