200 سے زائد پاکستانی بھارت سے وطن واپس آگئے

بڑی تعداد میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے خاندانوں سمیت پاکستانیوں کا ایک اور دستہ واہگہ اٹاری سرحد کے ذریعے پاکستان واپس آگیا۔
یہ افراد بہتر طرز زندگی کے لیے بھارت منتقل ہوئے تھے اور وہاں زندگی گزارنے کی بدترین کی صورت حال سے مایوس ہوکر لوٹ آئے۔سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن نے ایک بیان بتایا کہ جمعرات کو 200 سے زائد پاکستانی شہری وطن واپس آئے۔بیان میں کہا گیا کہ ‘ہائی کمیشن کی جانب سے بھارت میں موجود پاکستانی شہریوں کی مدد کرنے کی کوششوں کے طور پر کووِڈ 19 کے سبب وہاں پھنسے والے افراد سمیت 200 سے زائد پاکستانی اٹاری واہگہ سرحد کے ذریعے پاکستان واپس گئے۔بیان میں کہا گیا کہ وزارت خارجہ اور اسلام آباد کی دیگر متعلقہ اتھارٹیز بشمول وزارت داخلہ کے تعاون سےہائی کمیشن بھارت میں بچ جانے والے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے تمام ممکنہ مدد کرے گا کیوں کہ اٹاری واہگہ سرحد کورونا وائرس کے سبب معمول کی نقل و حرکت کے لیے بند ہے۔راوں برس مارچ سے اب تک پاکستانی ہائی کمیشن 11 سو سے زائد پاکستانیوں کی بھارت سے واپسی کے سفر میں معاونت کر چکا ہے۔واپس آنے والے ہندو افراد نے باب آزادی پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ بہتر روزگار اور اہلِ خانہ کے لیے اچھا مستقبل حاصل کریں گے تاہم جو کچھ انہوں نے بھارت میں دیکھا وہ ان سے کیے گئے وعدوں سے کہیں دور تھا۔ایک ہندو بزرگ کا کہنا تھا کہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں بھارتی شہریت دے دی جائے گی لیکن 3 ماہ انتظار کرنے کے باوجود ایسا کچھ نہیں ہوا اور بعد میں انہیں بھارت لے جانے والے افراد نے بھی انہیں تنہا چھوڑ دیا۔ہندو افراد نے ‘اپنے ملک’ واپس آنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش اور محفوظ محسوس کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button