2018 میں سلیکٹڈ حکومت آئی،ملک میں جمہوریت برائےنام ہے

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 2018 میں سلیکٹڈ حکومت آئی،ملک میں جمہوریت صرف نام کی ہے.عام انتخابات میں آر ٹی ایس کیسے بند ہوا؟ اس کی تحقیقات کے لیے ان ہاؤس کمیٹی بھی بنائی گئی لیکن کچھ نہیں ہوا۔
اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ملک میں جمہوریت صرف نام کی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ 2014 میں منتخب حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا،2018 میں سلیکٹڈ حکومت آئی جبکہ کرونا سے قبل ہی پاکستان کی معیشت کو ضرب لگ چکی تھی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ مرجائیں گے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مختلف ادوار میں حادثے ہوئے اور منتخب حکومت کو ڈی ریل کیا گیا، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ملک میں جمہوریت صرف نام کی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ الیکشن کے بعد پارلیمنٹ میں وزیراعظم عمران خان نے انتخابات میں دھندلی کے بے نقاب کرنےکے لیے ہاؤس کی کمیٹی بنائی گئی لیکن آج تک اس کمیٹی نے ایک انچ بھی کام نہیں کیا، اس سےبڑا جھوٹ اور یو ٹرن اور کیا ہوسکتا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کےمختلف حصوں میں سیلاب نے تباہی مچا دی لیکن وزیراعظم عمران خان کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور لوگوں کی ہمت باندھیں۔
شہباز شریف نے چینی اور آٹے بحران سے متعلق کہا کہ پہلے چینی ایکسپورٹ کرکے قیمتیں بڑھائی گئیں اور اب امپورٹ کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شوگر اسکینڈل میں نیب اور ایف آئی اے کہیں نظر آرہی کیونکہ دونوں ادارے صرف اپوزیشن کے خلاف فعال ہیں۔انہوں نے کہا کہ وچ ہنڈنگ کے ساتھ اب میڈیا ہنڈنگ بھی ہورہی ہے، میڈیا کے ساتھ جو سلوک ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔شہباز شریف نے کہا کہ ‘پوری قوم کی نظریں اے پی سی پر ہیں کہ ہم کیا فیصلے کرتے ہیں’۔
صدر ن لیگ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت ہرلحاظ سے بری طرح ناکام ہوچکی، اس وقت ملک میں نام کی جمہوریت ہے، سلیکٹڈ وزیراعظم نےعوام کوسیلابی ریلوں کے اندھے تھپیڑوں کی نذر کر دیا، آج 40 لاکھ لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں، ہسپتالوں میں مفت ادویات ختم کردی گئیں، پہلے چینی ایکسپورٹ کرکے قیمتیں بڑھائی گئیں، اب امپورٹ کی جارہی ہے، چینی کی قیمت 100 روپے کلو تک پہنچ چکی، آج گندم کی قیمت 73سال کی تاریخ میں سب سےزیادہ ہے۔ حکومت نےعوامی فلاح کے کون سے منصوبے بنائے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 3 بار آمریت نے جمہوریت پرضرب لگائی، آمریت کے باعث ہرشعبہ تنزلی کا شکار ہو گیا، انتخابات میں سیاسی انجینئرنگ ہوئی، 2018 کےالیکشن کے بعد دیہاتوں کے نتائج آ گئے، شہروں کے نہیں آئے، الیکشن دھاندلی سےمتعلق کمیٹی بنائی گئی لیکن ایک انچ بھی آگےنہیں جاسکی، ان کو احتساب کرنا ہوتا تو سب سے پہلے کابینہ میں بیٹھے لوگوں کا کرتے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں مختلف ادوار میں حادثے ہوئے اور منتخب حکومت کو ڈی ریل کیا گیا، یہ کہنا غلط نہ ہوہوگا کہ ملک میں جمہوریت صرف نام کی ہے‘
