کٹھ پتلی نظام مسلط کرنے والی قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو سمجھانا پڑے گا

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ مقتدر قوتیں اور اسٹیبشلمنٹ جنہوں نے عوام سے جمہوریت چھینی ہے، کٹھ پتلی نظام مسلط کیا ہے انہیں سمجھنا پڑے گا’۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ان کے سامنے عوام کا مطالبہ پیش کرنے پڑے گا، ‘ہمیں ان کے سامنے مطالبہ پیش کرنا پڑے گا کہ ہمیں، اس ملک کو اور اس ملک کے عوام کو آزادی دیں’۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اے پی سی سے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکومت کا 2 سال کا تجربہ سامنے آ چکا، عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، جب جمہوریت نہیں تو نہ صرف معیشت بلکہ معاشرے کو ہر طرح سے کمزور کیا جاتا ہے، منتخب نمائندے نہیں ہوتے توعوام کی آوازنہیں سنی جاتی۔انہوں نے کہا کہ مون سون بارشوں کے باعث سیلاب کے بعدعوام کو جس طرح سےلاوارث چھوڑا گیا ایسے کسی ناگہانی آفت کے بعد نہیں چھوڑا گیا، عوام اپنا دکھ درد کیسے سامنے لیکرآئیں اگر انہیں احتجاج کاحق نہیں، منتخب نمائندے اسمبلی میں بول نہیں سکتے اور اپنے ووٹ کی گنتی نہیں کر سکتے، جس نےیہ کٹھ پتلی نظام مسلط کیا ہے ہمیں انہیں سمجھانا پڑے گا، ہمیں مطالبہ کرنا پڑے گا کہ ہمیں انتخابات میں سب کو مساوی مواقع دینا ہوں گے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ چاہتےہیں ایک نیا میثاق جمہوریت ہو،اس کواپنا منشوربناکرنکلنا ہوگا۔ اے پی سی سے عوام بیانات اورقرارداد نہیں ٹھوس لائحہ عمل چاہتے ہیں،نئی نسل کیساتھ مل کرحقیقی جمہوریت کامطالبہ کرنا چاہے،اگرہماری آوازمیڈیاپرنہیں جاتی توہمیں عوام کےپاس جاناپڑے گا،حکومت کونہ صرف سڑکوں سےللکارناہےبلکہ انہیں وہاں سےللکارناہےجہاں وہ موجودہیں۔یہ فورم جوفیصلہ کرے گاہم اسکےساتھ کھڑے ہیں،ہم مل کرعوام کواس مصیبت اورعذاب سےآزادی دلواکررہیں گے۔
بلاول بھٹونے خطاب میں کہا کہ جب جمہوریت نہیں ہوتی تو معاشرے کو ہر طرف سے کمزور کیا جاتا ہے اور ہماری کوشش تھی کہ بجٹ سے پہلے اے پی سی کروائیں۔کثیرالجماعتی کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا دو سال میں ہمارے معاشرے اور معیشت کو بہت نقصان پہنچا اور جرائم میں اضافہ ہوا۔بلاول بھٹو زرداری نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ جب ملک میں لوگوں کو احتجاج کرنے، میڈیا پر اپنا بیانیہ پیش کرنے اور متنخب نمائندوں کو اسمبلی میں کچھ بولنے کی اجازت نہ ہو تو وہ معاشرہ کیسے ترقی کرسکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘آپ کو ہمیں انتخابات میں یکساں اہمیت دینی پڑے گی’۔انہوں نے کہا کہ ‘اپوزیشن کو عدالت، میڈیا، پارلیمنٹ میں یکساں مواقع ملنے چاہے، یہ بیھٹے تمام رہنماؤں سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے ساتھ مل کر نئی نسل کے لیے حقیقی جمہوریت کا مطالبہ کریں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘ہمیں ایم آر ڈی تحریک کی طرح اتحاد اور یقین کے ساتھ ایک اور الائنس بنانا پڑے گا جس کا منشور ایک میثاق جمہوریت ہو، اس کو منشور بنا کر نکلنا پڑے گا’۔انہوں نے تمام بڑے شہروں کا نام لیتے ہوئے تقاضہ کیا کہ دیہاتوں سے بھی سب اس مقصد کی تکمیل کے لیے نکلنا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنے ایوان کو آزاد نہیں کراسکے تو عوام کے دلوں میں اپنا مؤقف کا کیا یقین دلاسکیں گے۔
