2019 میں ہوشربا مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دیں

حکومت کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم کرنے کا دعویٰ اپنی جگہ مگر سچ تو یہ ہے کہ معاشی محاذ پر حکومت کی مکمل ناکامی کی وجہ سے عوام کے کچن کا خسارہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے جس سے ان کی چیخیں نکل گئی ہیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق نومبر 2019 میں بھی مہنگائی کی اوسط شرح 22 فیصد سے زیادہ رہی۔ آلو، گھی، چاول، تمام دالوں، اورگوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ معاشی اعشاریوں میں بہتری کے حکومتی دعوؤں کے باوجود اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے، رواں سال 2019 میں مہنگائی نے عام عوام کو شدید متاثر کیا، تمام ہی اشیاء ضروریہ عوم کی پہنچ سے دور چلی گئی۔ غذائی اشیا، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ ہوا۔ مہنگائی بڑھتے ہوئے نومبر 2019 میں نو سال کی ریکارڈ بلند ترین سطح یعنی 12.7 فیصد پر پہنچ گئی۔
ایک سال میں گیس کی قیمت میں 55 فیصد، بجلی ٹیرف میں ساڑھے 18 فیصد، موٹر ایندھن کی قیمتوں میں 16 فیصد اضافہ ہوا، صحت کی سہولیات میں 16 فیصد، دالوں کی قیمت میں 54 فیصد، آلو 42 فیصد، تازہ سبزیوں میں 40 فیصد، چینی 33 فیصد، آٹا 16 فیصد، مصالحہ جات 19 فیصد، خوردنی تیل 16 فیصد مہنگا ہوا۔ وزیراعظم نے مہنگائی میں اضافہ پر ایکشن لینے کیلئے متعدد بار ہدایات جاری کیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ اکتوبر 2019 میں وزیراعظم نے یوٹیلیٹی سٹورز پر عوام کو اشیائے ضروریہ پر چھ ارب روپے کی سبسڈی دینے کی منظوری دی تاہم دسمبر 2019 کے اختتام تک وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت خزانہ سبسڈی کے شفاف طریقہ کار پر اتفاق نہ کرسکیں۔
پاکستان کی معاشی صورتحال اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف کو بھی کہنا پڑا کہ قرض پروگرام کے تحت افراط زر میں تو کمی ہورہی ہے لیکن اہم غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ باعث تشویش ہے۔ حکومت کا دعوی ہے کہ آئندہ سال جنوری سے مہنگائی کی شرح میں کمی ہونی شروع ہوجائے گی تاہم ماہرین کے مطابق زرعی اور صنعتی پیداوار کی لاگت کم کئے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عوام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے لنگر خانوں اور پناہ گانوں کا قیام ان کی شکست خوردہ سوچ کا غماز ہے جس سے صرف چند سو افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو ایسی پالیسیاں اپنانی چاہئیں جن سے پاکستانی عوام کو من حیث القوم ریلیف مل سکے۔
