پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ رہیں گے یا نہیں، سیاسی بحران برقرار

پنجاب اس وقت ملکی پاکستانی سیاست کا محور ہے، پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ رہیں گے یا نہیں، سیاسی بحران برقرار ہے۔
گزشتہ روز بدھ کو گورنر کی طرف سے بلایا گیا پنجاب اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔ گورنر بلیغ الرحمن کی جانب طلب کر دہ اس اجلاس میں وزیراعلٰی پنجاب پرویز الٰہی کو ہاؤس سے اعتماد کا ووٹ لینا تھا۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کا موقف تھا کہ اعتماد کا ووٹ نہ لینے کی صورت میں گورنر کے پاس یہ اختیار آ جاتا ہے کہ وہ وزیر اعلی کو ڈی سیٹ کر دیں،اسی روز ہی رات گئے تک صورت حال اسی کشمکش کا شکار رہی کہ وزیرعلٰی نے اعتماد کا ووٹ تو نہیں لیا اب گورنر بلیغ الرحمن کیا کرنے جا رہے ہیں۔
اس ضمن میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اپوزیشن رہنما گورنر ہاؤس میں ہی موجود رہے۔رات 12 بجے تک جب گورنر کی جانب سے کوئی اقدام سامنے نہیں آیا تو مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے باہر آ کر میڈیا کو بتایا کہ اب گورنر پنجاب اپنی مرضی کے مطابق اور صورت حال سے مطمئن ہونے کے بعد نیا آرڈر جاری کریں گے یہ ان کا آئینی اختیار ہے۔پرویز الٰہی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف آج جمعرات کو وزیر وزیراعلٰی پنجاب پرویز الہی نے صوبائی کابینہ کا اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ جس میں مختلف امور نمٹائے جائیں گے۔ یہ اجلاس ایوان وزیر اعلی میں ہو گا۔
ادھر تحریک انصاف نے گورنر پر دباؤ بڑھانے کے لیے آج شام گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ وفاقی حکومت نے گورنر ہاؤس کی سکیورٹی رینجرز کے حوالے کر دی ہے،رات گئے وفاقی حکومت نے نیا آئی جی پنجاب عامر ذوالفقار کو تعینات کر دیا۔
اس سے قبل آئی جی فیصل شاہکار نے وزیراعلٰی پرویز الہی کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کر لی تھی اور وہ چھٹیوں پر ہیں ،ایک روز قبل وفاقی حکومت نے پہلے ایڈیشنل آئی جی غلام رسول زاہد کو آئی جی کے عہدے کا اضافی چارج دیا بعد میں عامر ذوالفقار کو رات گئے آئی جی تعینات کر دیا۔ عامر ذوالفقار اس سے پہلے اسلام آباد کے آئی جی بھی رہ چکے ہیں۔
