2024کی نئی قومی اسمبلی نے نئے ریکارڈ کیسے قائم کیے؟



ہر مرتبہ الیکشن کے بعد ایوان زیریں نئی تاریخ رقم کرتی ہے، ماضی سے اب تک قومی اسمبلی کئی حوالوں سے غیرمعمولی رہے، 2024 الیکشن کے نتیجے میں وجود میں آنے والی 16ویں قومی اسمبلی بھی مختلف اعتبار سے منفرد ہے، ملکی تاریخ میں شہباز شریف وہ دوسرے سیاستدان ہیں جو مسلسل دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے ہیں، اس سے قبل یہ اعزاز صرف سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل تھا۔پارلیمانی تاریخ کی یہ پہلی قومی اسمبلی ہے جس میں ایک ہی وقت میں چار سابق وزرائےاعظم، چار سابق اسپیکر، تین سابق صدور کے بیٹے، ایک صدر کے داماد، تین ہی سابق صدور کے پوتوں اور ایک سابق صدر کے نواسے نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھایا ہے۔ماضی میں قومی اسمبلی کی میعاد کے دوران دو سے زائد سابق وزرائے اعظم ایک ہی وقت میں ایوان میں نہیں رہے لیکن اس مرتبہ چار سابق وزرائےاعظم نے بیک وقت قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ 2002ء میں باری باری تین اراکین اسمبلی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ اس طرح جب تیسرے وزیراعظم نے حلف اٹھالیا تو اُس وقت بھی ایوان میں دو سابق وزرائےاعظم موجود تھے، 2002ء میں جس وقت شوکت عزیز نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تو ان کے پیشروؤں میں سردار ظفر اللہ خان جمالی اور چوہدری شجاعت حسین شامل تھے یوں نئی قومی اسمبلی نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا جن اراکین نے حلف اٹھایا ان میں سابق وزرائےاعظم نواز شریف، ان کے بھائی شہباز شریف، سید یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف بھی شامل ہیں۔چار سابق وزرائے اعظم نے ایک ساتھ قومی اسمبلی کی نشست کے لیے حلف اٹھایا، دو سابق وزرائےاعظم شاہد خاقان عباسی اور عمران خان اس اسمبلی کا حصہ نہیں ہیں، اول الذکر شاہد خاقان عباسی نے اس مرتبہ انتخابات میں حصہ نہیں لیا جبکہ عمران خان کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر انتخابی دوڑ سے باہر ہوگئے تھے۔یہ اتفاق ہے کہ سابق وزرائےاعظم کی طرح قومی اسمبلی کے چار اسپیکرز نے بھی اپنی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھایا، ان میں سبکدوش ہونے والے اسپیکر راجا پرویز اشرف کے علاوہ سابق سپیکرز میں اسد قیصر، سردار ایاز صادق اور یوسف رضا گیلانی شامل ہیں۔ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی نو منتخب اسمبلی میں حلف اٹھایا۔2024ء کے انتخابات کے بعد سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری کے بیٹے سردار اویس احمد خان لغاری ایک پھر رکن قومی اسمبلی بنے۔ 2002ء میں سردار فاروق خان لغاری اور ان کے بیٹے اویس لغاری کو بھی ایک ہی وقت رکن اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل ہوا جبکہ سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ضیاالحق کے بیٹے اعجازالحق ایک مرتبہ پھر رکن قومی اسمبلی بننے میں کامیاب ہوئے۔سابق وزرائےاعظم کے بچوں کی بات کی جائے تو تین ایسے وزرائےاعظم ہیں جن کے بچے نئی قومی اسمبلی کے رکن ہیں، ان میں شجاعت حسین، یوسف رضا گیلانی اور شہباز شریف کے بچے شامل ہیں۔ یوسف رضا گیلانی اور شہباز شریف کے بچے ان کے ساتھ ہی رکن قومی اسمبلی بنے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کے دو بیٹے عبدالقادر گیلانی اور علی موسیٰ گیلانی کے علاوہ شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز نئے قومی اسمبلی کے رکن بننے والوں میں شامل ہیں۔ سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین اپنی پھوپھی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کی اہلیہ، قیصرہ الہیٰ کو شکست دے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔سردار لطیف کھوسہ نے پہلی مرتبہ انتخابی سیاست میں حصہ لیا۔ اس سے پہلے وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹر اور پھر گورنر پنجاب بنے۔ اس کے علاوہ سردار لطیف کھوسہ کی وکالت میں بھی ایک شناخت ہے۔ اب تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد انتخاب میں حصہ لیا اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کو مات دے کر قومی اسمبلی کی نشست اپنے نام کی۔ 2024ء کے انتخابات میں خواجہ سعد رفیق کے بھائی خواجہ سلمان رفیق تو پنجاب اسمبلی کے رکن بن گئے لیکن خواجہ سعد رفیق کو کامیابی نہیں مل سکی۔قومی اسمبلی میں پہلی مرتبہ ایک ہی وقت میں لاہور ہائیکورٹ کے دو سابق ججز کے داماد بھی رکن قومی اسمبلی بنے ہیں۔ دونوں اراکین دو مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار اقبال کے داماد ہیں جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے عبدالعلیم خان کے سسر جسٹس ریٹائرڈ راجا صابر تھے۔ ماضی میں علیم خان اور سردار ایاز صادق ایک دوسرے کے مدمقابل انتخاب بھی لڑچکے ہیں جبکہ سردار ایاز صادق وہ پہلے رکن قومی اسمبلی ہیں جنہوں نے تیسری مرتبہ اسپیکر قومی اسمبلی کا حلف اٹھایا ہے۔سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی بھی نو منتخب قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ ان کے والد سائفر کیس میں سزا کی وجہ سے انتخاب نہیں لڑ سکے، سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز بھی رکن قومی اسمبلی کا حلف لینے والوں میں شامل ہیں۔ ملکی سیاست میں ایک معروف نام اور دو مختلف سیاسی جماعتوں جسٹس پارٹی اور تحریک استقلال کے بانی سابق ایئر مارشل اصغر خان کے بیٹے علی اصغر خان بھی رکن قومی اسمبلی بننے والوں میں شامل ہیں۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے بھی پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

Back to top button