2022 چوہدری پرویز الٰہی کا سال کیسے ثابت ہوا ہے؟

سیاسی ہلچل کے حوالے سے ہنگامہ خیز ترین قرار پانے والے سال 2022 میں اگر کوئی سیاستدان سب سے زیادہ کامیاب ہوا اور اگلے سال بھی اسکی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے تو تو اُس کا نام ہے چوہدری پرویز الٰہی۔ چوہدری صاحب دس ووٹوں کے ساتھ سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہوئے اور اب عمران خان کی اکثریتی جماعت تحریک انصاف اُن کے ہاتھوں بے بس ہے۔ عدالت اُن سے آگے چلتی ہے اور تحریک انصاف اُن کے پیچھے پیچھے۔ گجرات کے سیانے چودھری پرویز الٰہی ایسے مرد قلندر ہیں جنہیں بھاگوں والاکہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، لہٰذا بھاگ لگے رہن، کوئی آئے یا جائے ہر سال ’سیانے چوہدری‘ کا سال ہے۔
بی بی سی کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ گزرا سال بھی کیسا سال تھا، اُمید، نا اُمیدی، آس اور یاس، وصال اور ملال کے درمیان یہ سال بھی گزر ہی گیا۔ سیاست میں ہنگامہ خیزی تو اب بھی نہ تھمی مگر غیر سیاسی ہنگامہ پروری قدرے کم ضرور ہوئی۔ گزرے سال میں سب کچھ تھا نہیں تھا تو ملال نہ تھا، گزرے ہوئے برسوں میں کیا کھویا کا سوال نہ تھا، کیا پایا کا حساب نہ تھا۔ بحیثیت قوم ہمارے ساتھ کیا ہوا اور کیا ہاتھ آیا؟ ہم معاشی طور پر کہاں کھڑے ہیں اور اگلے سال کہاں کھڑے ہوں گے یہ بھی نہیں معلوم البتہ چند عجیب ایسے واقعات ضرور پیش آئے جس نے اسے کچھ خاص بنا دیا۔
عاصمہ شیرازی بتاتی ہیں کہ 2022 نے آغاز میں ہی پاکستان کی سیاست میں اتھل پتھل پیدا کر دی تھی۔ جنوری کے سرد موسم میں اختلاف میں بٹی حزب اختلاف نے ایک صفحے پر اکٹھا ہونا شروع کیا۔ تقسیم کی سیاست خیر باد ہوئی تو اعتماد بڑھا اور یوں حزب اختلاف عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئی۔ عمران خان کے تین سالہ دور حکمرانی سے اُکتائی اور ناکامی کا بوجھ اُتارنے کی کوشش کرتی عسکری اشرافیہ ’غیر سیاسی‘ ہونے کا اشارہ دے چکی تو سیاسی جماعتوں نے ہاتھ آئے موقع کو غنیمت جانا اور تاک کر نشانہ لگایا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آئینی طریقے سے حکومت ختم ہوئی، حزب اختلاف حامل اقتدار ہوئی مگر انتقال اقتدار کا کٹھن مرحلہ پاکستان کی تاریخ کا ناقابل فراموش باب بن گیا۔ ملک کی اعلیٰ عدالت نے صدر، وزیراعظم اور سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے اسمبلی توڑنے کے عمل کو غیر آئینی قدم قرار دیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اقتدار شہباز شریف کو منتقل ہوا۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ایسی طویل ڈرامائی صورت حال شاید ہی کبھی ہماری سیاست میں رہی ہو جو سال 2022 کے دوران دیکھنے میں آئی۔ عمران خان کی بنائی ہوئی سائفر کہانی، امریکی سازش کا قلزام اور فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ گلیوں سے ہوتا ہوا باجوہ مخالف مہم پر منتج ہوا یعنی خاک وہیں پہنچی جہاں سے خمیر اُٹھایا گیا تھا۔ اس سال کا اہم سیاسی واقعہ اور ایک عدد تجسس سے بھرپور ڈرامہ پنجاب میں حکومتوں کی تبدیلی در تبدیلی بھی تھا۔
عاصمہ شیرازی بتاتی ہیں کہ حمزہ شہباز مختصر مدت کے لیے فلیٹیز ہوٹل میں منتخب ہونے والے پہلے وزیراعلیٰ بنے جبکہ وفاق کی طرح پنجاب میں بھی عدم اعتماد کے آئینی عمل کو فُٹ بال میچ بنا دیا گیا۔ بالآخر بندیال کورٹ متحرک ہوئی اور حمزہ شہباز اور پرویز الٰہی کی جنگ میں جیت ’سیانے چوہدری‘ کی ہوئی۔ پرویز الٰہی کے وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں تاریخی عدالتی فیصلے میں منحرف ارکان کے ووٹ نہ گننے کو گننے میں بدلا گیا اور یوں چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔ عدالت نے پارلیمان کے اختیارات حاصل کیے اور اب نتیجتاً عدم اعتماد کی شق آئین میں بے عمل ہو چکی ہے۔
عاصمہ شیرازی بتاتی ہیں کہ 2022 میں آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل بھی کسی جاسوسی ڈرامے سے کم نہ تھا۔ توسیع، تعیناتی، محلاتی سازشوں، سمریوں، دھرنوں کے درمیان ایک اہم تعیناتی نے ہونا تھا سو ہو گئی۔ جنرل عاصم منیر آرمی چیف بنے اور 29 نومبر کمان کی تبدیلی کا دن ثابت ہوا۔ اس سب میں جنرل باجوہ کی رخصتی اور جاتے جاتے ادارے کے غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ بھی اہم تھا۔ آئی ایس آئی چیف جنرل ندیم انجم کی اہم پریس کانفرنس اور کیمرے پر ادارے کی عدم مداخلت کی پالیسی کااعلان کسی طور کم اہمیت کا حامل نہیں۔ فوج کا ادارہ اپنے اعلان کے مطابق غیر سیاسی ہوا یا نہیں، یہ بحث الگ مگر تاریخی بات ہے کہ یہ فیصلہ ہو گیا۔ اب جنرل باجوہ عمران خان کی توپوں کے دہانے پر ہیں، ہر روز اُن کے سیاسی ہونے کی گواہیاں کبھی عمران خان، کبھی پرویز الٰہی اور کبھی صدر مملکت سُنا رہے ہیں مگر جنرل باجوہ اس سال کی وہ شخصیت رہے جنہوں نے ہر طرف سے متنازعہ ہونے کا شرف حاصل کیا۔
