مضر صحت پولٹری فیڈ کلیئر، مرغی سستی ہو گئی

مضر صحت پولٹری فیڈ کلیئر، مرغی سستی ہو گئی

پاکستانی عوام کے لئے خوشی کی خبر یہ ہے کہ بالآخر مرغی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بندرگاہوں پر پھنسے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویابین اور کینولا بیجوں کے کنٹینرز کو کلیئر قرار دینے کے بعد مرغی کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے، یاد رہے کہ یہ بیج برائلر مرغی کی خوراک کا لازمی حصہ ہیں جنہیں مضر صحت قرار دیا جاتا ہے اور اسی لیے انکو بندرگاہوں پر روک لیا گیا تھا۔ لیکن اب پولٹری فارمرز ایسوسی ایشن کے دبائو پر حکومت نے ان بیجوں کے کنٹینرز ریلیز کر دیے ہیں۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ شپنگ کے اعداد و شمار کے مطابق 6 ہزار ٹن کینولا اور 7 ہزار ٹن سویابین کے بیچ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران آف لوڈ کردیے گئے ہیں۔  حال ہی میں وزیر فوڈ سکیورٹی طارق بشیر چیمہ نے ملک میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ آرگنزم کے بیچوں کی درآمد روکنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ بیچ زہریلا اور انسانی جسم کے لیے خطرناک ہے۔ اس کے نتیجے میں کراچی بندرگاہوں پر کینولا کے 5 کنٹینر اور سویابین کے 4 کنٹینر سمیت کُل 9 کنٹینرز کو روک دیا گیا تھا جس کے باعث مرغیوں کی افزائش کے لیے خام مال کی قلت ہوگئی تھی اور برائلر سویا بین اور کینولا بیج کی قلت کے باعث مرغی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا تھا۔ اسی لیے زندہ برائلر مرغی کی قیمت 450 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی اور مرغی کے گوشت کی قیمت 850 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، سویابین کی قلت کے باعث 50 کلو گرام چکن فیڈ بیگ کی قیمت صرف 3 ماہ میں تقریباً 2 ہزار روپے اضافے کے ساتھ 7 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی تھی۔

تاہم اب سویا بین اور کینولا بیج کے کنٹینرز ریلیز ہونے کے بعد زندہ برائلر چکن کی قیمت 4 دنوں میں 100 روپے کم ہونے کی بدولت مارکیٹوں میں اس کی فی کلو قیمت 350 روپے ہوگئی ہے۔ حکومت کی جانب سے کراچی کی بندرگاہ پر پھنسے تیل کے بیچوں کے 9 مزید کنٹینر کلیئر کیے جانے کے بعد ان کی قیمتوں میں کمی آتی رہے گی۔ کراچی ہول سیلر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو روز کے دوران زندہ مرغی اور اس کے گوشت کی قیمت میں گزشتہ دو دنوں میں 40 روپے فی کلو اور 60 سے 70 روپے فی کلو کی کمی ہوئی ہے۔ پنجاب پولٹری فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر میاں طارق جاوید کا خیال ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے بحران سے بچنے کے لیے سویابین کی درآمد کی براہ راست اجازت دی جائے۔ یاد رہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 113 ملز ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں 13 فیڈ ملز ہیں جو سالانہ تقریباً 20 لاکھ ٹن سویابین استعمال کررہی ہیں۔

Back to top button