فارن فنڈنگ کیس میں عمران کے جھٹکے کے امکانات روشن

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست مسترد ہونے کے بعد عمران کے سیاسی مستقبل پر خطرے کے سیاہ بادل منڈلانا شروع ہو گئے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر محفوظ کیا گیا مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کردی ہے۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 2 اگست 2022 کو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ حاصل کی۔فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی ہے اور پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن کی جانب سے 2 اگست 2022 کو سنائے گئے فیصلے کی روشنی میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرکے 23 اگست 2022 کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کے دائر کردہ اس کیس کا فیصلہ لٹکانے کے لیے عمران خان نے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے تھے لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ اب اس کا فیصلہ آ کر رہے گا تو انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی ساکھ پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے تھے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ پہلے کئی برس تو پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن کمیشن کا دائرہ کار ہی تسلیم نہیں کیا جارہا تھا، لیکن پھر سپریم کورٹ کے حکم پر اسے تسلیم کیا گیا۔ لیکن اسکے بعد بھی کیس لٹکانے کے لیے درجنوں متفرق درخواستیں دائر کی جاتی رہیں جن میں کبھی پی ٹی آئی کے حق میں اور کبھی مخالفت میں فیصلے آتے رہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے نومبر 2014 میں الیکشن کمیشن میں درخواست دائرکی تھی کہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں آنے والی کروڑوں روپے کی رقوم غیرقانونی طور پر ان اکاؤنٹس میں آئی ہیں جن کے بارے میں کچھ اطلاع نہیں ہے۔ اس معاملے پر پارٹی کے اندر اکبر ایس بابر پر شدید تنقید کی گئی اور ایک وقت آیا کہ ان کی بنیادی رکنیت بھی ختم کردی گئی، لیکن اکبر ایس بابر اپنے موقف سے نہ ہٹے اور اس بارے میں الیکشن کمیشن میں کیس چلاتے رہے۔ درخواست گزار کا الزام تھا کہ تحریکِ انصاف کو بیرونی ممالک سے بھاری رقوم فنڈنگ کی مد میں حاصل ہوئیں۔ لیکن الیکشن کمیشن کو جو ریکارڈ فراہم کیا گیا وہ اُس رقم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لہذا فنڈز میں خرد برد کی گئی۔
الیکشن کمیشن نے اگست 2017 میں غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریکارڈ جمع کرانے کے لیے سات ستمبر تک کی مہلت دی تھی۔ بعد ازاں، الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس حوالے سے حکم دیا۔ جس کے مطابق تحریکِ انصاف نے مختلف کمرشل بینکوں میں موجود کل 26 اکاؤنٹس میں سے آٹھ کو ظاہر کیا اور ان کی تفصیل الیکشن کمیشن میں عمران خان کے دستخطوں سے جمع کرائی۔ کل 26 اکاؤنٹس میں سے صرف 8 ظاہر شدہ تھے جبکہ باقی 18 اکاؤنٹس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بے نامی اکاؤنٹس تھے جن میں بیرون ملک سے آنے والی فنڈنگ جمع کی جاتی رہی۔ لیکن یہ فنڈنگ کہاں خرچ ہوئی، اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی مخالف جماعتیں انہی بے نامی اکاؤنٹس کی بنیاد پر تحریک انصاف کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔
تحریک انصاف فارن فنڈنگ کے حوالے سے اکبر ایس بابر کی طرف سے عائد کردہ تمام الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا موقف رہا ہے کہ سیاسی مخالفین کے کہنے پر پارٹی کو بدنام کرنے کے لیے یہ کیس بنایا گیا ہے۔ لیکن اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ 2009 سے 2013 کے درمیان پارٹی کے کئی درجن سےزائد اکائونٹس مشتبہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے 73 لاکھ ڈالرسے زائد رقم وصول کی۔ تحریک انصاف نے معاملہ رکوانے کیلئے چھ مرتبہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا رخ کیا اور درخواستوں میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کوچیلنج کیا۔ الیکشن کمیشن میں دوران سماعت پی ٹی آئی نے9 وکیل تبدیل کیے۔
عدالت عظمیٰ کے حکم اورعدالیہ عالیہ سے شنوائی نہ ہونے پر کیس کی الیکشن کمیشن میں باقاعدہ سماعت شروع ہوئی۔ الیکشن کمیشن نے تحقیقات کیلئے مارچ 2018 میں سکروٹنی کمیٹی قائم کی جس کو صرف ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔ لیکن اس کمیٹی نے انتہائی سست رفتاری سے کام کرتے ہوئے 96 اجلاسوں کے بعد اگست 2020 میں تحقیقاتی رپورٹ کمیشن میں جمع کروائی۔ الیکشن کمیشن نے یہ رپورٹ مسترد کی جس پر کمیٹی نے حتمی رپورٹ جنوری 2022 میں جمع کروائی۔ جنوری 2022 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس سے متعلق حتمی رپورٹ جمع کرا ئی، جس میں پارٹی کی طرف سے 53 بینک اکاؤنٹس چھپانے کا انکشاف ہوا تھا۔الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری محمد دلشاد کے مطابق ای سی پی کے پاس بڑا اختیار یہ ہے کہ جب عمران خان نے ممنوعہ فنڈنگ نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا اور جب اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق ثابت ہوگیا تو حقائق چھپانے پر ان کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان جھوٹا سرٹیفکیٹ دینے کی صورت میں صادق اور امین بھی نہیں رہیں گے اور اس بنا پر بھی عمران خان کے خلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔
اس کے علاوہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ان کا انتخابی نشان بلا بھی واپس لے سکتا ہے اور اگر ایسا کیا گیا تو تحریک انصاف کی رجسٹریشن پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کے بارے میں الیکشن کمیشن کو اندازہ ہے کہ ان کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا لہذا وہ تمام سالوں کا مکمل ریکارڈ تیار کریں گے۔ کنوردلشاد کے بقول عمران خان اور ان کی جماعت کی طرف سے الیکشن کمیشن پر مزید الزامات لگائے جائیں گے لیکن یہ ایک آئینی ادارہ ہے اور اسے ان الزامات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اورپی ٹی آئی کو اس کیس کے نتائج کا سامنا کرناپڑےگا۔
