KP کے انقلابی بلوں میں کیوں چھپ بیٹھے ہیں؟

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت ملک کے دیگر صوبوں کے برعکس مقدمات اور گرفتاریوں سے تاحال دُور ہے۔ 9 مئی کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اسلام اباد ہائیکورٹ سے گرفتاری کے خلاف پشاورسمیت خیبر پختونخوا میں پرتشدد مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ کے بعد پولیس انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے ق گرفتاریوں کے لیے مسلسل چھاپے ماررہی ہے۔ تاہم ابھی تک صوبائی قیادت کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کے صوبائی قائدین کے بیرون ملک فرار ہونے یا دیگر سیاسی جماعتوں میں جانے کے لیے پرتولنے کی افواہیں بھی خوب گرم ہیں۔

خیبر پختونخوا میں نگران حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات فروزجمال شاہ کاکا خیل نے 9 مئی اور اس کے بعد کی صورتحال پر میڈیا بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے متعدد رہنما بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں۔انہوں نے تصدیق کی کہ 9 مئی کی توڑ پھوڑمیں تحریک انصاف کے صوبائی قائدین پولیس کو مطلوب ہیں۔ ابھی تک پارٹی کے 7 سابق ایم پی ایز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ پرویز خٹک، عاطف خان، تیمور جھگڑا، کامران بنگش اور دیگر قائدین نے گرفتاری سے بچنے کے لیے موبائل نمبرز بند کر لیے ہیں اور سوشل میڈیا پر نہیں آ رہے ہیں۔

9 مئی کو پرتشدد مظاہروں میں پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں کارکنان تو بڑی تعداد میں نکلے لیکن قائدین نکلے ہی نہیں، اگر کچھ نکلے بھی تھے تو جلد ہی منظرعام سے پھر غائب ہوگئے تھے۔سابق وزیراعلی پرویز خٹک، محمود خان، سابق وزیرمراد سعید، تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، عاطف خان، شہرام ترکئی اور دیگر رہنما پولیس کریک ڈائون شروع ہوتے ہی غائب ہوگئے ہیں۔ اور ان کے خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں پتہ لگانے کے لیے پولیس خوب زور لگا رہی ہے لیکن ابھی تک کی تمام تر کوششیں بے سود ثابت ہوئی ہیں۔

خیبر پختونخوا پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا تحریک انصاف کے صوبائی قائدین پشاور میں نہیں ہیں اور دیگر شہروں میں روپوش ہیں۔ پشاور سے رکن اسمبلی ارباب جانداد کو مری سے پنجاب پولیس کی مدد سے گرفتار کرلیا گیا، جہاں وہ کسی دوست کے ہاں روپوش تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر قائدین بھی دوستوں یا قریبی ساتھیوں کے ہاں روپوش ہیں۔پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ ایسی بھی رپورٹس ہیں کہ مراد سعید سمیت بعض رہنما گلگت بلتستان میں روپوش ہیں جہاں ان کی پارٹی حکومت میں ہے اور گرفتاری کا خطرہ بھی کم ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ گلگت بلتستان پولیس اس حوالے سے تعاون نہیں کر رہی ہے۔ تاہم گلگت بلتستان حکومت پارٹی رہنماؤں کے وہاں روپوش ہونے کی خبروں کی تردید کر چکی ہے۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روپوشی پارٹی سے کنارہ کشی ہے یا پارٹی چھوڑنے کے لیے دباؤ سے بچنے کی حکمت عملی ہے؟سیاسی بصارت رکھنے والے صحافی اور تجزیہ کار کی رائے ہے کہ اندرونی اختلافات کے باوجود بھی سخت حالات میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی قائدین ڈٹ ہوئے ہیں اور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔سینئر صحافی علی اکبر خان نے روپوش ہونے کو حکمت علی قرار دیا۔  انہوں نے بتایا کہ ابھی تک جتنے بھی رہنما گرفتار ہوئے اکثر پارٹی یا سیاست چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ جنہوں نے بات نہیں مانی، وہ تکلیف میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک انصاف کے لیے سخت وقت ہے اور زمینی حقائق کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ خیبر پختونخوا سے رہنما پارٹی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ اور وہ سمجھ بھی گئے ہوں گے کہ مشکل وقت میں ساتھ دینے والے کی اہمیت پارٹی میں زیادہ ہوتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ خاموشی یا روپوشی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ حالات کا خاموشی سے جائزہ لے رہے ہیں اور بعد میں اسی کے مطابق راستہ اپنائیں۔ان حالات میں گرفتاری نہ دینا بھی بہتر حکمت عملی ہے۔ اس کی ہدایت عمران خان بھی دے چکے ہیں۔علی اکبر کی رائے ہے کہ 9مئی کے بعد پی ٹی آئی پر دباؤ زیادہ ہے اوراسے برداشت کرنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں جبکہ اداروں سے لمبے عرصے تک چھپنا بھی آسان نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاملات جلد بہتر ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

9مئی کے بعد پرویز خٹک اور دیگر رہنماؤں کے پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام سے رابطوں کے حوالے سے خبریں بھی منظرعام پہ آئی تھیں جن کو تحریک انصاف افواہیں قرار دے چکی ہے۔9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے بعد پارٹی چھوڑنے والے سابق صوبائی وزیر اور سیاست دان ہشام انعام اللہ خان نے ٹویٹ کی ہے کہ پرویز خٹک اب پارٹی نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اگر انہوں نے چھوڑنا ہوتا تو ابھی تک چھوڑ چکے ہوتے لیکن ابھی تک یہ قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ پرویز خٹک جیسے رہنما بعد میں پارٹی کی قیادت بھی سنبھال سکتے ہیں۔ وہ مقتدر حلقوں کو بھی کسی حد تک قابل قبول ہیں۔دوسری جانب اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت ملک کے دیگر صوبوں کے برعکس مقدمات اور گرفتاریوں سے تاحال دُور ہے۔پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر نوشہرہ میں کوئی مقدمہ درج نہیں جب کہ ان کے بیٹے ابراہیم خٹک اور عمران خٹک بھی پُرتشدد مظاہروں میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے بچ گئے۔

سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان بھی ایف آئی آر سے آزاد ہیں، ان پر بھی صوبے کے کسی تھانے میں مقدمے کا اندراج نہیں ۔9، 10 مئی کو ملاکنڈ میں درج مقدمات میں ان کا نام شامل نہیں ۔صوابی میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے گرفتاری سے قبل عدالت سے ضمانت لے لی ہے اور تاحال روپوش ہیں ۔ شہرام ترکئی پر صوابی میں مقدمہ درج ہے مگر ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔سوات میں پی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیر مراد سعید پر اداروں کے خلاف شر انگیز تقاریر کرنے کا مقدمہ درج ہے۔ ان کی رہائش گاہوں پر کئی بار چھاپے مارے گئے۔ سوات اور اسلام آباد میں چھاپوں کے باوجود ان کی گرفتاری نہیں ہو سکی ۔ ان کی بیرون ملک جانے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں ۔

حکام کے مطابق پشاور میں دہشت گردی کی ایف آئی آر میں نامزد سابق صوبائی وزیر کامران بنگش کے گھر پر چمکنی اور کینٹ میں 11 مرتبہ چھاپے مارے گئے لیکن ان کی گرفتاری عمل میں لائی نہ جا سکی ۔حکام کے مطابق انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب سابق اراکین اسمبلی کے ساتھ ساتھ وزرا کی گرفتاری کے لیے وفاقی تحقیقاتی اداروں کی مدد لے لی گئی ہے تاہم اعلیٰ پی ٹی آئی قیادت کی عدم گرفتاری اور مقدمات کا اندراج نہ ہونا بھی تحریک انصاف کے دیرینہ کارکنوں کے لیے حیران کن ہے، جسے سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Back to top button