فوجی افسران کا ASF اسلحہ خریداری میں 24 کروڑ کا گھپلہ

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کراچی ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے لیے اسلحے کی خریداری میں 24 کروڑ روپے کی خرد برد کی تحقیقات کروا کر ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یکم ستمبر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سول ایوی ایشن اور پی آئی اے سے متعلق آڈٹ پیراز میں انکشاف ہوا ہے کہ ائیرپورٹ سکیورٹی فورس کیلئے اسلحہ خریدنے کے معاملے میں 24 کروڑ روپے کی خرد برد کی گئی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سات روز میں اس معاملے کی انکوائری کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایات کی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کردہ آڈٹ دستاویزات کے مطابق اے ایس ایف کراچی کے لیے سال 2017 میں 24 کروڑ روپے سے زائد کا اسلحہ خریدا گیا لیکن کوالٹی اور کوانٹٹی سرٹیفکیٹ نہیں لئے گئے اور نہ ہی اسلحہ حاصل کرنے کے سر ٹیفکیٹ جمع کروائے گئے۔ دستاویزات کے مطابق 365 عدد 9 ایم ایم پستول پراگون ملٹی سروس نامی کمپنی سے 6 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدے گئے، اسکے علاوہ 160 عدد امریکی ساختہ ایس ایم جیز پاک جاپان ٹریڈنگ کمپنی سے 4 کروڑ میں خریدے گئے اور اس خریداری میں بھی خرد برد پائی گئی۔
دستاویزات کے مطابق 1،175 عدد چائنیز ساختہ ایس ایم جیز اظفر نامی کمپنی سے 4 کروڑ 91 لاکھ روپے میں خریدی گئیں۔ اس خریداری میں بھی خرد برد پائی گئی۔آڈٹ دستاویزات کے مطابق پاک جاپان ٹریڈنگ نامی کمپنی سے امریکی ساختہ 150 ایس ایم جیز 4 کروڑ 48 لاکھ میں جبکہ پراگون ملٹی سروس نامی کمپنی راولپنڈی سے 1،030 عدد ایس ایم جیز 4 کروڑ 71 لاکھ روپے میں خریدی گئی اور ان دونوں خریداری میں بھی شفافیت نظر نہیں آئی۔
یاد رہے کہ یکم ستمبر کو ہونے والا یہ اجلاس چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ کراچی ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے ہتھیاروں کی خریداری سے متعلق آڈٹ پیرا محکمانہ کمیٹی میں سیٹل کرنے کی کوشش پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قومی خزانے سے مذاق برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایک ایک پیسے کا حساب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کریگی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آڈٹ کا محکمہ کچھ منظور نظر لوگوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن واضح رہے کہ کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے، ہر قسم کی خرد برد پر حساب کتاب ہو گا۔ کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ ہم اپنا پیٹ کاٹ کر ملک کی حفاظت کیلئے اسلحہ خریدتے ہیں اور اس میں ہیر پھیر سب کے لئے شرمندگی کا باعث ہے۔
ٹی ٹی پی کا حکومت سے سیز فائرمعاہدہ ختم کرنے کا اعلان
آڈیٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ 2019 میں اس معاملے کی تحقیقات ہوئیں، تو پتہ چلا کہ اے ایس ایف نے جعلی دستاویزات جمع کروائی تھیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نورعالم خان نے آٹھ ستمبر تک ذمہ داران کا تعین کر کے ایف آئی آر درج کروانے کی ہدایت کردی ہے۔پبلک اکاؤنٹ کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر اس خردبرد میں ملوث افسران کا تعلق فوج سے ہے تو متعلقہ جنرل کو ان لوگوں کے خلاف کارروائی کیلئے کہا جائے۔
