عمران خان اور اطہر من اللہ کی دوستی کے چرچے کیوں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان پر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی بجائے انہیں دوبارہ جواب جمع کروانے کی سہولت ملنے کے بعد سے پاکستان بھر میں چیف جسٹس اطہر من اللہ اور عمران خان کی دوستی کے چرچے ہیں اور دونوں کی ایک پرانے وقتوں کی تصویر بھی وائرل ہے۔ اسی دوران سینئر صحافی نجم سیٹھی اور اعزاز سید نے بھی دعوی ٰکیا ہے کہ اطہر من اللہ اور عمران خان پرانے وقتوں کے ساتھی ہیں اس لیے لحاظ کا ایک رشتہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
معروف تحقیقاتی صحافی اعزاز سید نے ٹوئٹر پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کے درمیان تعلقات کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک ٹوئٹر ویڈیو میں معروف صحافی عمر چیمہ سے گفتگو کرتے ہوئے اعزاز سید نے دعوی ٰکیا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ اور عمران خان کے درمیان پرانے وقتوں سے قریبی تعلقات ہیں، اور جب عمران وزیر اعظم تھے تب بھی جسٹس اطہر من اللہ سے ان کا رابطہ برقرار تھا اور دونوں میں بات چیت ہوتی رہتی تھی۔
صحافی عمر چیمہ نے اعزاز سید کے اس انکشاف کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج نے اعلیٰ ترین جج کے عہدے پر بیٹھنے کے باوجود وزیراعظم سے رابطہ برقرار رکھا اور انہیں فون کرتے رہے۔ اعزاز سید نے عمر چیمہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ دیکھیں میں نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ وزیراعظم کو فون کرتے تھے، میں نے یہ کہا کہ دونوں میں ٹیلی فونک گفتگو ہوتی تھی، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ اور عمران خان کے درمیان دوستی کی باتیں کوئی نئی نہیں بلکہ اس سے قبل بھی یہ باتیں میڈیا میں آ چکی ہیں۔
سیلاب کے دوران دہشت گرد حملوں کا خطرہ کیوں بڑھ گیا؟
دوسری جانب معروف تجزیہ کار اور صحافی نجم سیٹھی نے بھی چینل 24 پر پروگرام کے دوران عمران خان اور اطہر من اللہ کے پرانے تعلق کی تصدیق کی۔ انہوں نے 31 اگست کو عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کے الزام پر پیشی کے موقع پر اطہر من اللہ کے رویے کو غیر معمولی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران نے نہ صرف عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھا دیا بلکہ یہ مطالبہ بھی کیا کہ انہیں شوکاز نوٹس دینے والے جج صاحبان کیس سننے والے بینچ سے علیحدہ ہو جائیں۔ نجم نے کہا کہ کسی ادارے کے خلاف بیان بازی پر عام طور پر جو بندہ بطور ملزم عدالت میں پیش ہوتا ہے وہ پہلا جواب یہی دیتا ہے کہ وہ اپنے الفاظ پر معافی مانگتا ہے لیکن عمران کمرہ عدالت میں چیف جسٹس کے سامنے بیٹھے ہوئے اپنے موبائل پر مصروف رہے اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ وہ اپنے الفاظ واپس لینے بارے سوچ سکتے ہیں لیکن معافی نہیں مانگیں گے۔
دوسری جانب عدالتی کارروائی کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کسی اور ساتھی جج کو بولنے کا موقع نہیں دیا۔ انہوں نے خود بھی عمران خان کے فین جیسا رویہ اپنا رکھا تھا اور وہ توہین عدالت کے ملزم کو بار بار فالوونگ رکھنے والا بڑے سیاسی قد کاٹھ کا لیڈر قرار دیتے رہے۔ جج موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ انہیں عمران کی جانب سے دائر کردہ جواب پر ذاتی طور پر افسوس ہوا ہے کیونکہ انہیں ایسے جواب کی امید نہیں تھی۔ اطہر من اللہ شاید بھول چکے تھے کہ وہ اپنے دوست عمران خان کا کیس نہیں سن رہے بلکہ ایک خاتون جج کو دھمکیاں دینے والے توہین عدالت کے ملزم کا کیس سن رہے ہیں۔ اطہر من اللہ نے اس دوران عمران کی جانب سے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس بنوانے کے فیصلے کی بھی تعریف کی۔ چیف جسٹس کیس کی سماعت کے دوران لاشعوری طور پر عمران کو پلیز سر کہہ کر مخاطب کرتے رہے۔ پھر انہوں نے خان صاحب کو یہ مفت مشورہ بھی دیا کہ چونکہ ماضی میں توہین عدالت کرنے والے تین مسلم لیگ کو نااہلی کی سزا دی جا چکی ہے اسلئے وہ اپنے جواب پر نظر ثانی کریں اور سات روز میں اسے دوبارہ دائر کریں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران چیف جسٹس کا عمران کیساتھ رکھ رکھائو اور دید لحاظ صاف دکھائی دے رہا تھا جبکہ عام طور پر ایک جج کا ملزم سے رویہ ایسا نہیں ہوتا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اطہر من اللہ کے رویے سے صاف ظاہر ہے کہ کہ وہ عمران خان کو توہین عدالت کے الزام پر سزا نہیں دینا چاہتے اور اسی لئے انہوں نے سابق وزیر اعظم کو جواب جمع کروانے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہے۔
