سیلاب کے باعث شدید غذائی بحران سے کیسے نمٹا جائے گا؟

پاکستان کے چاروں صوبوں میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں فصلوں کی تباہی کے باعث ملک بھر میں غذائی بحران پیدا ہو چکا ہے جس کے اثرات اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر معمولی سیلاب کی وجہ سے جہاں زرعی اجناس کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، وہیں نئی فصل کی بوائی میں بھی مشکلات کا سامنا ہو گا۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق پاکستان میں رواں برس جون سے شروع ہونے والا مون سون سیزن طویل ہوتا جا رہا ہے اور ماضی کے مقابلے میں کئی گنا اضافی بارشوں نے ملک میں تباہی مچا دی ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ چاول اور کپاس سمیت موسم گرما کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کے بعد مون سون کے اختتام پر ملک میں خوراک کے بحران کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والی معیشت کا ابتدائی اندازہ 10 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ سیلاب اور بارشوں سے ملک کی زرعی معیشت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جو ملک کی مجموعی پیداوار کو متاثر کرے گی۔پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ایگری کلچرل سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کلاسرا کہتے ہیں کہ پاکستان میں سندھ اور پنجاب باقی ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ لیکن سیلاب کی وجہ سے دونوں صوبوں میں لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سندھ میں چاول کی فصل بری طرح متاثر ہوئی ہے، لہذا ملک میں چاول کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔۔علی کلاسرا کا کہنا تھا کہ سندھ میں کھجور کی تیار فصل کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے جب کہ محفوظ کی جانے والی گندم بھی سیلابی پانی کی نذر ہو چکی ہے۔ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی ا نسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری سمجھتے ہیں کہ نقصانات کا درست تخمینہ اسی وقت لگایا جا سکے گا جب پانی پوری طرح سے اُتر جائے گا۔

5 ڈوبتے دوستوں میں سے زندہ بچ جانے والے کی کہانی

اُنہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو کھڑی فصلوں کا نقصان ہے جس میں صوبہ سندھ میں کپاس کی کھڑی فصل اور پنجاب میں چاول کی فصلیں اور دیگر فصلوں کا نقصان ہوا ہے۔ دونوں صوبوں میں کماد کی فصل بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں ٹماٹر کی تیار فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے، اِسی طرح صوبہ خیبر پختونخوا میں پیاز کی فصل بری طرح متاثر ہوئی ہے جس سے دونوں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ میں گندم کی فصل کو کھلے آسمان تلے محفوظ کیا جاتا ہے جو سیلابی پانی کی نذر ہو چکی ہے جس سے سردیوں میں آٹے اور گندم کی دستیابی متاثر ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں کے کسان اِن دِنوں میں مختلف سبزیوں کے بیج اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔ وہ سب سیلابی پانی کی نذر ہو چکے ہیں۔ خیال رہے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اکتوبر کے وسط سے مختلف علاقوں میں گندم کی بوائی شروع ہو جاتی ہے جب کہ صوبہ سندھ میں گندم کی بوائی اِس سے بھی پہلے شروع ہو جاتی ہے۔

محکمہ زراعت پنجاب کے شعبہ واٹر مینجمنٹ میں تعینات ڈاکٹر قیصر صدیق سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیلابی صورتِ حال سے لوگوں کی املاک، فصلوں اور مویشیوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے سیلاب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ لہذا ملک بھر میں پانی ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ڈیمز بنانا ہوں گے۔ غذائی پیداوار کتنی متاثر ہو گی؟ ڈاکٹر علی کلاسرا کہتے ہیں کہ ملک میں ہونے والے نقصانات کا فی الحال درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا جس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں گندم کی بوائی رواں برس دسمبر تک مکمل ہو جائے، اس کے بعد ہی درست تخمینہ سامنے آئے گا۔

ان کی رائے میں جب بھی اِس قدر شدید سیلابی صورتِ حال کا سامنا ہوتا ہے تو کسانوں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ اگلی فصل کے لیے زمین کیسے تیار ہو گی۔ پانی اترنے کے بعد زمین سوکھتی ہے یا نہیں۔ یہ مسائل رہتے ہیں۔ اگر زمین مطلوبہ فصل کے لیے تیار نہ ہو تو اگلی فصل کاشت نہیں ہو سکے گی۔ڈاکٹر محمد علی کلاسرا کے بقول یہ بدقسمتی ہے کہ ملک میں جب بھی کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے تو بطور قوم نہیں سوچا جاتا۔ اِس وقت سبزیوں اور پھلوں کی رسد اور طلب بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے پاس جو فصل یعنی پھل یا سبزی موجود ہے وہ مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے۔

ڈاکٹر قیصر صدیق بتاتے ہیں کہ حکومت اور لوگوں کو ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنا ہو گا۔ دی انٹرنیشنل پینل آن کلائمٹ چینج کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور اِس خطے میں 20 برسوں میں درجۂ حرارت تبدیل ہو جائے گا اور خطے میں غیر متوقع بارشیں بھی ہوں گی، اُن کا کہنا تھا کہ جب غیر متوقع بارشیں ہوں گی تو قحط کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے یا پھر سیلابی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے جس سے پاکستان کی زراعت اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوگا۔

Back to top button