عمران نے صحافی وقار ستی کی زندگی کیسے خطرے میں ڈال دی؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے ایماء پر اپنے خلاف دائر کردہ توہین مذہب کیس کا سامنا کرنے والے سینئر صحافی وقار ستی نے کہا ہے کہ وہ اپنی جان کو لاحق ہو جانے والے خطرات کے باعث اب اپنے فرائض سرانجام دینے سے قاصر ہیں۔ وقار ستی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کی جانب سے ان کے خلاف راولپنڈی میں توہین مذہب کی ایف آئی آر کے اندراج نے ان کی معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جیو نیوز سے وابستہ وقار ستی نے پچھلے دن عمران خان کی ماضی کی کچھ تقاریر کے کلپس کو اکٹھا کرکے ایک ویڈیو بنائی تھی جو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔ لیکن عمران خان کے ایما پر پنجاب پولیس نے اسی ویڈیو کی بنیاد پر وقار ستی کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کر دیا۔ بقول وقار ستی، اب مجھے ہر وقت اپنے اور اپنے بچوں کے تحفظ کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے اب اپنے پیشہ وارانہ صحافتی فرائض کی انجام دہی میں بھی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اب جب دفتر والے میری کوئی اسائمنٹ لگاتے ہیں تو سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے مجھے سوچنا پڑتا ہے کہ میں کیسے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے کام کروں کیونکہ پاکستان میں کام کرنے والے صحافیوں، خاص طور پر رپورٹروں کو، ویسے ہی محتاط رہ کر کام کرنا ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ وقار ستی کے خلاف 27 اگست کو راولپنڈی کے ایک تھانے میں چودھری ناصر نامی ایک کیبل آپریٹر کی مدعیت میں توہین مذہب کی دفعہ 295 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف شکایت کے متن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے منسوب مذہبی نوعیت کی ایسی باتوں پر مشتمل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی، جو عمران نے نہیں کی تھیں۔ اس بارے میں وقار ستی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے حامی کافی دنوں سے ٹویٹر پر ان کی ٹرولنگ کر رہے تھے جس کے بعد انہوں نے عمران خان کے قول و فعل میں تضاد کی نشاندہی کرنے کے لیے ان کی مختلف پرانی تقریروں کے ویڈیو کلپس جوڑ کر ایک ویڈیو بنائی جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

پیٹرول مہنگا کرنے کیخلاف حکومت، اوگرا، وزارت پیٹرولیم سے جواب طلب

وقار ستی کا کہنا تھا کہ بعد میں انہوں نے اپنے دفتر کے کہنے پر اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ بھی کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس پوسٹ میں ایک نقطہ بھی اپنی طرف سے شامل نہیں کیا تھا، اس ویڈیو میں تمام تقاریر عمران خان کی اپنی آواز میں تھیں اور میری طرف سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود خان کے ایما پر مجھ پر توہین مذہب کا الزام لگا دیا گیا، جو سراسر بے بنیاد ہے اور اس کا واحد مقصد میری زندگی خطرے میں ڈالنا ہے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت کی جانب سے وقار ستی پر توہین مذہب کا کیس دائر کرنے کے عمل کا دفاع کرتے پنجاب کے صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور راجہ بشارت نے کہا ہے کہ سیاسی ‘پوائنٹ اسکورنگ‘ کے لیے کسی طرح کی مذہبی منافرت کو ہوا دینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ وقار ستی کے خلاف توہین مذہب کا کیس میرٹ پر درج کیا گیا ہے تاکہ ایسی حرکتوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ لیکن پاکستان میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے وقار ستی کے خلاف مقدمے کے اندراج پر ملک بھر میں احتجاج کیا ہے۔ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کا کہنا ہے کہ پاکستانی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک صحافی کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ افضل بٹ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے صحافی کے خلاف اس نوعیت کے سنگین مقدمے کا اندراج قابل افسوس ہے۔ اگر پی ٹی آئی خود کو جمہوری جماعت کہتی ہے تو اس کی قیادت کو اپنے اس اقدام پر سوچنا ہوگا ورنہ صحافی جنہیں پہلے ہی سلامتی کے متعدد خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں شروع کر دی گئیں تو پھر یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔

افضل بٹ کا کہنا ہے کہ پی ایف یو جے نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ وقار ستی اپنے خلاف مقدمے میں ضمانت نہ کرائیں۔ انہوں نے کہا، ”یہ کیس جنکی طرف سے درج کرایا گیا ہے وہی اسے واپس بھی لیں۔ اس میں ضمانت لینے کا مطلب اس بے بنیاد اور جھوٹے مقدمےکو تسلیم کرنا ہوگا۔ لہذا اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ پی ٹی آئی اس کیس کو واپس لے۔ تاہم یہ کیس درج کرنے والی حکومت پنجاب کی جانب سے ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں آیا۔

Back to top button