الیکشن میں تاخیر سے پاکستان کے آگے کنواں پیچھے کھائی؟

عام انتخابات ہی پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکال سکتےہیں۔اگر کسی بھی فیصلہ ساز نے یہ سمجھنے میں دیر کی تو یاد رکھیں کہ چھ، آٹھ ماہ بعد ہم عام انتخابات تو کرادیں گے لیکن تب تک معیشت ایک ایسی گلی میں داخل ہوجائے گی، جس میں آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہوگی۔ یہ تاثر ختم کیا جائے کہ سیاستدان ہر کام پوچھ کر کرتے ہیں اور اصل منظوری کوئی اور دیتا ہے۔ امورخارجہ اور دفاع جیسے حساس معاملات ضرور اسٹیبلشمنٹ دیکھے مگر ڈرائیونگ سیٹ پر سیاستدانوں کو بٹھائے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار حزیفه رحمان نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعد وفاق اور دیگر دو صوبوں میں بھی نگران حکومت وجود میں آچکی ہے۔ عمومی تاثر ہے کہ نگران حکومت کا قیام 90 دن سے زائد عرصے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ معاشی استحکام لاکر ہی عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے۔ اور اسی عمل سے عوام میں اسٹیبلشمنٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ اسی لئے اسٹیبلشمنٹ کے زعما نے اپنی پوری توانائی بہترین نگران سیٹ اپ لانے پر خرچ کی۔ پاکستان بھر سے لوگوں کے انٹرویوز کئے گئے اور مجموعی طور پر بہترین ایکسپرٹس کو نگران وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ ماسوائے ایک، دو وزارتوں کے جس میں آخری لمحے مسلم لیگ ن کی سیاسی مداخلت کے باعث حلف والے دن رد وبدل کیا گئی۔ باقی تمام کابینہ کا چناؤ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی مرضی سے کیا۔ شہباز شریف کی ٹیم کے افسران ڈاکٹر توقیر شاہ و دیگر کو نگران وزیراعظم نے اپنی مرضی سے انکی قابلیت کو دیکھتے ہوئے ساتھ رکھنے کو ترجیح دی۔ اسٹیبلشمنٹ نے نگران کابینہ کے معاملے پر میرٹ کو ترجیح دی مگر ایک، دو وزارتوں کے معاملے میں مفادات کے ٹکراؤ کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ اگر کوئی یہ سمجھتاہے کہ موجودہ نگران سیٹ اپ کی بہترین پرفارمنس کی امید پرعام انتخابات میں تاخیر کی جاسکتی تواسےاس سوچ سے باہر آنا پڑے گا۔ حذیفه رحمان کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس نگران کابینہ کے اکثریتی وزراء کی قابلیت پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔ لیکن معاشی بہتری کیلئے اشد ضروری ہے کہ عوامی اعتماد بحال ہو اور عوام کا اعتماد ہمیشہ عوام کے منتخب نمائندے بحال کرتے ہیں۔ اسلئے اس نگران حکومت کی بہترین کارکردگی بھی معاشی استحکام نہیں لاسکتی اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ مثال کے طور پر اگر یہ نگران حکومت معاشی استحکام لے بھی آئے تو یہ ممکن نہیں کہ اس سے اسٹیبلشمنٹ کی عوام میں مقبولیت بحال ہو۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عوام کی اکثریت عمران دور کی ناکامی کا ذمہ دار اُس کو سمجھتی ہے۔ لیکن اس کی وجہ عمران کی بدترین کارکردگی سے زیادہ اسکا خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا تھا۔ ادارے کی مقبولیت اور عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے اشد ضروری ہے کہ ادارہ ڈرائیونگ سیٹ پر سیاستدانوں کو بٹھائے اور یہ تاثر ختم کیا جائے کہ سیاستدان ہر کام پوچھ کر کرتے ہیں اور اصل منظوری کوئی اور دیتا ہے۔ امورخارجہ اور دفاع جیسے حساس معاملات ضرور اسٹیبلشمنٹ دیکھے مگر ڈرائیونگ سیٹ پر سیاستدانوں کو بٹھائے۔ ملک ذاتی دوستی اور تعلق کی نذر نہ کیا جائے۔ حذ یفہ رحمان کے مطابق اگر نگران دور میں کوئی ذاتی دوست یا ذاتی دوست کا قریبی تعلق دار وزیر ہے تو بے شک منتخب حکومت میں بھی اسے کوئی مناسب ذمہ داری دلوا دیں۔ مگر عام انتخابات میں تاخیر صرف اس وجہ سے نہ کریں کہ پنجاب کی نگران حکومت کا دورانیہ ختم کرنا پڑے گا یا پھر وفاق میں وزراء گھروں کو چلے جائینگے۔ منتخب حکومت کے آتے ہی ان لوگوں کو بہتر جگہ پر ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس وقت ملک کے وسیع تر مفاد میں یہی ہے کہ عام انتخابات کا مقررہ وقت پر انعقاد کیا جائے اور پانچ سال کیلئے ایک مستحکم حکومت کی بنیاد رکھی جائے۔جب پانچ سال کیلئے قائم ہونیوالی منتخب حکومت ڈیلیور کرے گی تو عوام میں خود بخود ادارے کی مقبولیت اور اعتمادبحال ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ نگران حکومت نہ ہی ملک میں معاشی استحکام لاسکتی ہے اور نہ ہی کسی کی نیک نامی کا سبب بن سکتی ہے۔ بے شک جس سیاسی جماعت کے آنے والے پانچ سال کی حکومت کا ماحول سازگار بنایا جائے لیکن پاکستان کی سلامتی اور معاشی استحکام براہ راست جلد از جلد عام انتخابات سے جڑا ہے۔
