حیات نا اہلی ختم،کیا اب کوئی سیاستدان نااہل نہیں ہو گا؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے محفوظ کیا گیا اکثریتی فیصلہ سناتے ہوئے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کو نا صرف ختم کیا ہے بلکہ اس کو پارلیمانی قانون سازی کے لیے چھوڑ دیا ہے کہ وہ طے کرے کہ کونسی عدالت کس طریقہ کار کے تحت کسی امیدوار کو انتخابات کے لیے نااہل قرار دے سکتی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جب تک پارلیمان سے یہ وضاحت نہیں آتی تو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے سارے سیاستدان اہل ہو جائیں گے اور کیا الیکشن ایکٹ کی شق (2) 232 کا اطلاق بھی نہیں ہو گا جس کے تحت نااہلی کی مدت 5 سال ہے۔

سپریم کورٹ نے چونکہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی سے متعلق پہلے اور بنیادی مقدمے سمیع اللہ بلوچ کے فیصلے کو ہی ختم کر دیا ہے تو اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب انتخابات میں نااہلی کی بنیاد کیا ہو گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 62 ون ایف کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے سیاستدانوں کے سر پر جو نااہلی کی تلوار لٹکتی رہتی تھی، وہ تلوار ہٹ گئی ہے۔ عملی طور پر آرٹیکل 62 ون ایف ایک طریقے سے ختم ہی ہو گیا ہے اور اس آرٹیکل کی حیثیت آئین میں لکھی گئی ایک اچھی بات سے زیادہ نہیں رہی اور اب یہ آرٹیکل صرف رہنمائی کے کام ہی آ سکے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں پارلیمنٹ کو یہ وضاحت کرنا پڑے گی کہ کورٹ آف لا کیا ہے۔ جب تک پارلیمان اس بات کی وضاحت نہیں کرتا تب تک آرٹیکل 62 ون ایف بے اثر ہے اور اس کے اطلاق سے نااہل ہونے والے تمام سیاستدان اب اہل ہو چکے ہیں۔

الیکشن ایک 2017 کی شق (2) 232 جس کے تحت کسی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نااہلی کی مدت 5 سال رکھی گئی ہے، کیا اس کا اثر بھی ختم ہو چکا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا اثر بھی ختم ہو چکا ہے کیونکہ پارلیمان کو وضاحت کرنا پڑے گی کہ کورٹ آف لا سے کیا مراد ہے۔ سپریم کورٹ نے چونکہ 62 ون ایف کے تحت نااہلی کے پہلے مقدمے سمیع اللہ بلوچ کو ختم کر دیا ہے اس لیے اب یہ بنیاد ہی ختم ہو گئی ہے۔

ماہر قانون اور سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ ’بڑی مدت کے بعد سپریم کورٹ کی طرف سے ایسا فیصلہ ایا ہے جس میں سپریم کورٹ نے اپنے آپ کو آئین کی تشریح سے علیحدہ ہی رکھا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’جب آئین کے اس آرٹیکل میں سزا اور نااہلی کا ذکر ہی نہیں ہے تو پھر ججز کیسے اپنے طور پر آئین کے اس آرٹیکل کی تشریح کرتے ہوئے منتحب حکومتوں اور منتخب نمائندوں کو گھروں کو بھیجتے رہے۔‘

سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے میاں نواز شریف کے خلاف ایک فیصلے میں 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا اور پی ٹی ائی کے سابق رہنما فیصل ووڈا کا بھی کیس اسی نوعیت کا تھا لیکن اس میں انھوں نے نااہلی پانچ سال کے لیے کر دی۔‘سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے اسحاق خاکوانی کیس میں آئین کے اس آرٹیکل کی تشریح کے دوران کہا کہ اس قانون کے تحت رکن پارلیمان کے لیے جتنی سخت شرائط ہیں کہ وہ پارسا ہو، ایماندار ہو تو ایسی خوبیاں تو صرف پیغمبروں میں ہی ہو سکتی ہیں، انسانوں میں تو نہیں اور پھر اسی 62 ون ایف کے تحت ہی ارکان پارلیمان کو نااہل کیا گیا۔‘

سیاسی تجزیہ نگار سہیل ورائچ کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو گی۔انھوں نے کہا کہ یقینی طور پر سپریم کورٹ کے عدالتی فیصلے سے جن سیاستدانوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہو گا وہ نواز شریف اور جہانگیر خان ترین ہوں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’اگرچہ الیکشن ایکٹ میں نااہلی کی مدت پانچ سال رکھی گئی ہے اور سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں قانون سازی سے متعلق پارلیمان کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ ایک مسلمہ حقیقت تھی کہ تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے جس کی موجودگی میں ان دونوں رہنماؤں کی اہلیت پر سوالیہ نشان اٹھنے تھے۔‘انھوں نے کہا کہ ’آج کے عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ قانون سازی کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے اور عدلیہ کے پاس آئین کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کرنے کا اختیار نہیں ہے۔‘انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں عدالتیں لوگوں کو ریلیف فراہم کرتی ہیں اور خاص طور پر جب ریاست کی طرف سے عوام پر زیادتیاں کی جا رہی ہوں۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے 62 اور 63 شق آئین میں شامل کیں جو کہ اخلاق اور مذہب سے متعلق ہے۔‘جب ان سے پوچھا گیا کہ اٹھاویں ترمیم کے دوران اس قانون میں ردبدل کیوں نہیں کیا گیا تو سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ ایسا کرتے تو اس وقت ارکان پارلیمان کو خدشہ تھا کہ کوئی مذہبی جماعت ان کے خلاف احتجاج نہ شروع کر دے۔‘سہیل وڑائچ نے کہا کہ ’یہ ہوتا رہا ہے کہ عدالتوں کی جانب سے سیاست دانوں کو اسی قانون کے تحت نااہل کیا گیا۔‘انھوں نے کہا کہ ’آئین میں وزیر اعظم کو نکالنے کا طریقہ کار موجود ہے جس میں اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا کامیاب ہونا یا اس کا عہدے سے خود مستعفی ہونا بھی شامل ہے۔‘

سہیل وڑائچ کے مطابق تمام سیاست دانوں کو اس فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ نواز شریف کے خلاف جو فیصلہ آیا تھا وہ سیاسی بنیادوں پر تھا اور یہ جو اب عدالت نے ریلیف دیا ہے یہ بہت مثبت ہے۔ تمام سیاستدانوں کو اس فیصلے کا احترام کرنا چاہیے اور اس کا خیر مقدم بھی کرنا چاہیے۔‘‘ عدالت پر جانبداری کا الزام غلط ہے۔ ”دنیا بھر میں عدالتیں ریلیف دینے کے لیے ہوتی ہے۔ یہ ریلیف صرف نون لیگ کو ہی نہیں مل رہا بلکہ پی ٹی آئی کو بھی ریلیف مل رہا ہے۔‘‘سہیل وڑائچ کے مطابق پی ٹی آئی کے ہزاروں امیدواروں کے کاغذات کا منظور ہونا اس ریلف کی نشاندہی کرتا ہے۔ ”لہذا پی ٹی آئی کو عدالت پر الزامات نہیں لگانے نہیں چاہیے۔ یہ مناسب نہیں ہے۔‘‘

Back to top button