افغان طالبان کا 5 سالہ اقتدار: ملک تباہی کے دہانے پر کیوں؟

 

 

 

ایک جانب افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں واپسی کے پانچ سال مکمل ہونے پر سرکاری سطح پر امریکی تسلط سے آزادی کا جشن منایا گیا ہے تو دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ افغان معیشت تباہ ہو چکی ہے، عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور افغانستان کو مکمل سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں افغانستان میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران اور خواتین پر عائد سخت پابندیوں، قدرتی آفات اور معاشی بحران کو افغان حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہی ہیں جس سے نبرد آزما ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

 

یاد رہے کہ 15 اگست 2026 کو طالبان حکومت نے اپنے اقتدار کی پانچویں سالگرہ کو ’’یوم فتح‘‘ کے طور پر منایا۔ کابل میں سابق امریکی سفارت خانے کے باہر طالبان کی بکتر بند گاڑیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے پریڈ میں حصہ لیا، جبکہ شہر میں طالبان کے جھنڈے اور بینرز آویزاں کیے گئے۔ اس موقع پر طالبان قیادت نے 2021 میں امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد اقتدار سنبھالنے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا۔

 

طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اقتدار میں واپسی ان کی ’’حوصلے، جرات اور خدائی مدد‘‘ کا نتیجہ تھی۔ تاہم انہوں نے اس امر کا بھی نسبتاً غیر معمولی اعتراف کیا کہ افغانستان میں اب بھی بعض مسائل اور مشکلات موجود ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان حکومت خود بھی ملک کو درپیش تمام چیلنجز سے مکمل طور پر بے خبر نہیں۔

 

دوسری جانب اقوام متحدہ اور مختلف عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ طالبان گزشتہ پانچ برس کے دوران افغانستان کو درپیش انسانی اور قدرتی بحرانوں سے نمٹنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔

خشک سالی، زلزلوں، معاشی مشکلات اور پڑوسی ممالک سے افغان شہریوں کی واپسی یا بے دخلی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ عالمی امداد میں کمی نے بھی بحران کو بڑھا دیا ہے۔ افغانستان میں خواتین اور بچیوں کے حقوق کی صورتحال بھی عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد لاکھوں افغان لڑکیوں کو ثانوی تعلیم اور یونیورسٹیوں میں جانے سے روک دیا گیا، جبکہ خواتین کی نقل و حرکت، ملازمت اور مختلف شعبوں میں شرکت پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔

 

طالبان کا مؤقف ہے کہ خواتین کے حقوق شریعت کے مطابق محفوظ ہیں، تاہم عالمی ادارے ان پابندیوں کو افغان معاشرے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن کے مطابق افغانستان میں خواتین کی سماجی سرگرمیاں اس حد تک محدود ہوچکی ہیں کہ تقریباً نصف افغان خواتین اب اپنے گھروں سے مہینے میں صرف ایک یا دو مرتبہ باہر نکلتی ہیں۔ عالمی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ خواتین کو تعلیم، روزگار اور معاشرتی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے نتیجے میں افغانستان کی آئندہ نسلوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے پانچ سال بعد بھی ان کی حکومت کو عالمی سطح پر باضابطہ طور پر وسیع پیمانے پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے، جبکہ کابل میں کئی ممالک کے سابق سفارت خانے اب بھی بند یا خالی ہیں۔ سابق امریکی سفارت خانہ بھی اسی صورتحال کی علامت بنا ہوا ہے، جس کے سامنے طالبان نے اپنی پانچویں سالگرہ کی تقریب کے دوران طاقت کا مظاہرہ کیا۔

 

تاہم عالمی سطح پر عدم اعتراف کے باوجود طالبان نے سفارتی محاذ پر آہستہ آہستہ پیش رفت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق متعدد ممالک افغانستان میں طالبان کے اثر و رسوخ، جغرافیائی اہمیت اور اپنے مفادات کے پیش نظر کابل حکومت کے ساتھ محدود سطح پر روابط بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔ طالبان بھی ان روابط کو استعمال کرتے ہوئے اپنی حکومت کے لیے بین الاقوامی قبولیت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغان طالبان یورپی ممالک کے ساتھ بھی ایسے انتظامات کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جن کے ذریعے یورپ میں موجود افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجا جاسکے۔ اس کے علاوہ کابل حکومت افغانستان کے جغرافیائی محل وقوع کو بھی معاشی اور سفارتی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

 

افغانستان جنوبی اور وسطی ایشیا کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک اہم جغرافیائی رابطہ ہونے کے باعث علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ طالبان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ضیا احمد تکل کے مطابق حکومت کی پانچویں سالگرہ کے سلسلے میں پاکستان، چین، ازبکستان، ایران، ترکیہ اور ملائیشیا کے دارالحکومتوں میں بھی تقریبات متوقع تھیں۔ اس پیش رفت کو طالبان حکومت کی جانب سے علاقائی سطح پر اپنے سفارتی روابط مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 

طالبان کے اقتدار کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر کابل کے ایک 28 سالہ دکاندار نجیب اللہ غورزنگ نے مستقبل کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو اب ترقی کی جانب بڑھنا چاہیے۔ اس کے باوجود طالبان کے ایک اور بیانیے میں ماضی کی جنگی کامیابیوں کو نمایاں کیا گیا اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف فتح کو حکومت کی سب سے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔

 

دوسری جانب انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں انسانی امداد کی ضرورت ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ادارے کے مطابق 2021 کے مقابلے میں انسانی امداد کے محتاج افغان شہریوں کی تعداد میں تقریباً 35 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسی عرصے میں عالمی امدادی بجٹ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ خشک سالی، تباہ کن زلزلوں اور ایران و پاکستان سے افغان شہریوں کی واپسی نے پہلے سے موجود مسائل کو مزید گھمبیر کردیا ہے۔ افغانستان کو درپیش مشکلات میں سیکیورٹی کا مسئلہ بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے شمال مشرقی صوبہ بدخشاں میں اہم طالبان عہدیداروں کو نشانہ بنا کر کیے گئے حملوں نے حکومت کے لیے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ جولائی کے آخر میں بدخشاں کے طالبان انفارمیشن ڈائریکٹر کو ایک حملے میں قتل کردیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری بعد ازاں داعش نے قبول کی ہے۔

دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی فوجی صلاحیت کتنی ہے؟

اقوام متحدہ کی افغانستان کے لیے سینئر نمائندہ جارجٹ گگنون نے واضح کیا ہے کہ پائیدار امن اور خوشحالی صرف جنگ کے خاتمے سے حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے لیے ایسا معاشرہ تشکیل دینا ضروری ہے جہاں تمام افغان شہریوں کے حقوق اور صلاحیتوں کو بروئے کار آنے کا موقع ملے۔ افغانستان میں موجود انسانی بحران اس وقت مزید نمایاں ہوجاتا ہے جب ان خاندانوں کی مشکلات سامنے آتی ہیں جو روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

Back to top button