فوج کے 16 حراستی مراکز میں 8 ہزار قیدیوں کا انکشاف

خیبر پختونخواہ میں فوج کے زیرِ انتظام چلنے والے ایک حراستی مرکز سے تین برس سے لاپتہ شخص کی برآمدگی کے بعد سپریم کورٹ میں ایسے 16 حراستی مراکز کی قانونی حیثیت پر دوبارہ سوالات کھڑے ہو گے ہیں جہاں آٹھ ہزار سے زیادہ لوگ قید ہیں اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کسی مہذب ملک میں اس طرح کے غیر قانونی عقوبت خانوں کو کام کرنے کی اجازت کیسے مل سکتی یے۔

حال ہی میں سپریم کورٹ میں لاپتا افراد کے کیس کی سماعت کے دوران عارف گل نامی ملزم کو عدالتی حکم پر پیش کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ گزشتہ تین برس سے خیبر پختونخوا میں فوج کے زیرِ انتظام حراستی مرکز میں قید تھا۔

جب عدالت نے یہ سوال کیا کہ اس شخص کو کس قانون کے تحت تین برس سے ایک عقوبت خانے میں قید رکھا جا رہا ہے تو حکام نے یہ بھونڈا جواب دیا کہ خیبر پختونخوا میں فوج کے زیرِ انتظام حراستی مراکز نہیں بلکہ اصلاحی مراکز چل رہے ہیں، جہاں نہ تو تشدد کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ خلاف آئین سلوک کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب قانونی حلقے یہ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ کسی ملزم کو سیکیورٹی فورسز کے زیرِ انتظام چلنے والے حراستی مراکز میں بغیر ٹرائل کے کیسے رکھا جا سکتا ہے جب کہ ملکی قوانین میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے؟
یاد رہے کہ سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے ‘ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور’ کا قانون سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر ایسے قوانین حالتِ جنگ میں بنائے جاتے ہیں جہاں ان قوانین کی ضرورت پڑتی ہے۔ یا پھر ایسے حالات میں جب سول انتظامیہ خانہ جنگی کی روک تھام نہیں کر سکتی۔

لیکن اُن کے بقول پاکستان میں بدقسمتی سے مختلف قوانین لائے جاتے ہیں پھر ان میں توسیع ہوتی رہتی ہے اور ‘ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور’ بھی اسی نوعیت کا قانون ہے۔ یاد رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا نے اگست 2019 میں ایکشن ان ایڈ سول آف سول پاورز آرڈیننس 2019 نافذ کیا تھا جس کے تحت مسلح فورسز کو کسی بھی فرد کو صوبے میں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ بغیر وجہ بتائے اور ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر گرفتاری کے اختیارات حاصل ہو گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے اکتوبر 2019 میں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن آرڈینس کو ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کے لیے اکتوبر 2019 میں ہی ایک بڑا بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ یہ قانون چونکہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تھا اس لیے انہوں نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دراصل ابھی تک صورتِ حال مبہم ہے۔

ہائی کورٹ نے اسے ماورائے قانون قرار دیا جب کہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف حکم امتناع برقرار ہے اور اسکا فیصلہ نہیں کیا جا رہا حالانکہ ابھی تو یہ فیصلہ ہونا بھی باقی ہے کہ یہ قانون موجود بھی ہے یا نہیں؟ اُنہوں نے الزام لگایا کہ فوج ان نام نہاد حراستی مراکز کو ملکی آئین اور قانون کی خلاف ورزی میں چلا رہی ہے جہاں قید لوگوں کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا اور ان کا ٹرائل بھی نہیں ہونے دیا جاتا۔ اس لحاظ سے یہ ابہام ان قوتوں کو ایک طرح سے آزادی دیتا ہے جو خود کو آئین اور قانون سے ماورا سمجھتی ہیں۔

غیرملکی فنڈنگ کیس، رپورٹ کے خفیہ حصے بھی فریقین کو دینے کی ہدایت

پشاور ہائی کورٹ میں فوج داری، دہشت گردی، لاپتا افراد اور ملٹری کورٹ سے متعلق کیسز میں پیش ہونے والے سینئر وکیل شبیر حسین گگیانی کا کہنا ہے کہ بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے غائب کیے جانے کے بعد فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز میں بند ہیں اور ان کے گھر والوں کو بھی نہیں بتایا جاتا کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2008 کے بعد جب مالاکنڈ ڈویژن اور سابقہ فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں عروج پر تھیں تو وسیع پیمانے پر ملٹری آپریشن شروع ہوئے۔

جس کے بعد انہی علاقوں کے مختلف حصوں سے لوگوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب لاپتا افراد کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ گئیں تو ان کے لواحقین 2011 میں احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ شہروں اور بازاروں کے علاوہ مقامی افراد نے عدالتوں کے باہر بھی اپنے احتجاج ریکارڈ کرائے۔ جس کے بعد یہ معاملات عدالتوں میں آئے۔ شبیر حسین گگیانی کے مطابق ان حراستی مراکز کو قانونی تحفظ دینے کے لیے 2011 سے ہی یہ قانون مالاکنڈ اور فاٹا میں لاگو کر دیا گیا تھا۔ لیکن 2018 تک اس قانون کا کسی کو علم ہی نہیں تھا۔

اُن کے بقول 2018 میں قبائلی اضلاع کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد جب وہاں پولیٹیکل ایجنٹ، کمشنر کورٹ اور فاٹا ٹرییونلز غیر فعال ہوئے تو متاثرہ افراد نے ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کرنا شروع کر دیں۔ گگیانی کے بقول جب عدالتوں نے کے پی کے حکومت سے لوگوں کو طلب کرنا شروع کیا تو ریاستی اداروں نے حراستی مراکز میں رکھے جانے والے افراد کی گرفتاری کا دفاع ‘ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس’ کے تحت کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ قانون 2011 میں نافذ کیا گیا۔ تاہم 2008 سے 2011 تک جو لوگ حراست میں لیے گئے تھے ان پر بھی یہی قانوں نافذ کیا گیا۔

اس معاملے پر 2008 سے 2013 تک سابقہ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایم این اے اخونزادہ چٹان کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہوں نے الیکشن آزاد حیثیت میں لڑا تھا تاہم ان کا الحاق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا جس کی اس وقت مرکز میں حکومت تھی۔ اُن کے بقول اس دوران فاٹا اور پاٹا کے حالات بے قابو تھے۔ حکومت کی کوئی رٹ وہاں پر نہیں تھی۔ اس لیے حکومت نے وقتی طور پر اس قانون کے نفاذ میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔

اب سوال یہ ہے پہ پاکستان میں فوج کے زیرِ انتظام کتنے حراستی مراکز ہیں؟حراستی مراکز کی تعداد کے حوالے سے 2019 میں اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ خیبرپختونخوا میں حراستی مراکز کی تعداد 16 ہے اور ان میں رکھے جانے والے افراد تقریباً آٹھ ہزار ہیں۔

ان کے مطابق یہ تمام لوگ فاٹا اور پاٹا سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے بڑے حراستی مراکز کوہاٹ اور لکی مروت میں ہیں اور یہ دو مراکز سیٹل علاقوں میں آتے ہیں۔ شبیر حسین گگیانی کے مطابق اس قانون کے تحت عدالتوں سے تمام تر اختیارات لے لیے گئے تھے۔ حراستی مراکز میں قید ملزمان کو آئین کے تحت حقوق بھی نہیں دیے جا رہے تھے۔اس پر انہوں نے 2019 میں پشاور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن جمع کرائی۔

ایڈووکیٹ شبیر حسین گگیانی کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے گورنر اور صدرِ پاکستان کسی بھی قانون کو آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت ہی لاگو کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان تمام علاقوں کا 2018 میں صوبے میں انضمام ہو گیا تو آرٹیکل 147 خود بخود ختم ہو گیا۔ جس کے تحت ایف سی آر کا قانون اور ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی۔ تاہم حراستی مراکز پھر بھی قائم رہے۔ جس کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی گئی۔ اگست 2019 میں گورنر شاہ فرمان نے ایک آرڈیننس کے ذریعے اس قانون کا دائرہ کار پورے خیبرپختونخوا تک پھیلا دیا گیا۔ گگیانی کے مطابق انہوں نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں ایک بینچ نے اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے آئی جی خیبر پختونخوا کو ہدایت کی تھی کہ حراستی مراکز جس کسی کی بھی تحویل میں ہیں ان سے لے کر اسے سب جیل تصور کیا جائے اور اسکروٹنی کے بعد تمام ملزمان کو مجاز عدالت میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ریاست نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ جس کے بعد انہیں حکمِ امتناع ملا جو اب بھی برقرار ہے۔’

Back to top button