9مئی واقعات کی تفتیش مکمل،عمران خان قصور وار قرار

سانحہ9 مئی کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی نے تفتیش مکمل کرتے ہوئے عمران خان کو قصور وار قرار دے دیا۔جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق 9 مئی کے روز شرپسندانہواقعات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کئے گئے ،دوران تفتیش ڈیجیٹل شواہد ، موبائل ویڈیوز ، کلوزسرکٹ فوٹیجز سے موبائل رابطے ثابت ہوئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے 9مئی کے واقعات کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ تیار کرلی ہے, رپورٹ میں جناح ہاؤس حملہ مقدمہ 96/23 میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت نامزد ملزم قصور وار قرار دے دیئے گئے۔ پولیس تفتیش کے مطابق نامزد ملزموں کی جناح ہاؤس واقعہ میں منصوبہ بندی اور عملدرآمد ثابت ہوگیا ہے۔ ،جناح ہاؤس حملہ اور 9مئی کے دیگر واقعات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کئے گئے ،دوران تفتیش ڈیجیٹل شواہد ، موبائل ویڈیوز ، کلوزسرکٹ فوٹیجز سے باہمی موبائل رابطے ثابت ہوگئے۔ چئیرمین پی ٹی آئی کا جے آئی ٹی کے سامنے دیا گیابیان شواہد سے متضاد ثابت ہوا ،جے آئی ٹی کے سامنے پیش دیگر رہنماوں کے بیانات بھی حقائق کے برعکس ثابت ہوئے،پی ٹی آئی رہنماؤں کے بلوائیوں سے رابطے بھی موبائل کال ریکارڈ میں ثابت ہوئے ہیں۔
پولیس تفتیش کے مطابق پی ٹی آئی رہنما ڈیجیٹل و فرانزک شواہد کے سامنے سوالات کے مناسب جواب نہیں دے سکے،مقدمہ نمبر 96/23 کے علاؤہ دیگر مقدمات میں بھی پی ٹی آئی قیادت قصور وار پائی گئی،10مقدمات میں نامزد و گرفتار ملزموں کی حساس تنصیبات پر موجودگی جیوفینسنگ رپورٹ میں ثابت ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام مقدمات کی تفتیشی رپورٹ جلد عدالت میں پیش کردی جائے گی،مقدمہ میں چیئرمین پی ٹی آئی ، شاہ محمود قریشی ، حماد اظہر ، مراد سعید ، علی امین گنڈا پور نامزد ہیں۔
دوسری جانب لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس سمیت جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے پانچ مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔ تاہم پولیس کے سپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ نے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کو بتایا ہے کہ جناح ہاؤس سمیت جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے پانچ مقدمات میں پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے تفتیش مکمل کر لی ہے اور وہ قصور وار پائے گئے ہیں۔تاہم ڈیوٹی جج نے عمران خان کی عبوری ضمانتوں میں 8 اگست تک توسیع کر دی اور عدالت نے وکلاء کو دلائل کے لیے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف لاہور کے تھانہ سرور روڈ، گلبرگ، شادمان سمیت دیگر پولیس سٹیشنز میں مقدمات درج ہیں۔نگراں وزیر اعلٰی محسن نقوی نے کہا تھا کہ لاہور میں نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے واقعات کے 138 مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں 500 سے زائد خواتین بھی مطلوب تھیں۔جبکہ وزیر داخلہ رانا ثناللہ کے مطابق مجموعی طور پر 499 مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت تین ہزار 944 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ملک کے کئی شہروں میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران سرکاری و نجی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔نذرِآتش کی گئی املاک میں لاہور کا جناح ہاؤس (کور کمانڈر کا گھر)، پشاور کے ریڈیو پاکستان کی عمارت اور راولپنڈی میں میٹرو بس کے دو سٹیشن شامل ہیں۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو مقدمات میں گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے پنجاب کے کیسز یکجا کرنے اور کارروائی روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس عالیہ نیلم نے سابق وزیراعظم کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت وکیل چیئرمین پی ٹی آئی انتظار حسین نے کہا کہ سینئر وکیل دستیاب نہیں مہلت دی جائے اور عدالت تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم واپس نہ لے۔عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو مقدمات میں گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم واپس لے لیا اور درخواست کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔
