اعظم خان کی گواہی سے عمران کے نئےجرائم سامنے آنے کو ہیں

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله خان نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے بیان کے بعد کپتان کے کئی اقربا کے مزید اعترافی بیان سامنے آنے والے ہیں، اعظم خان کے اعترافی بیان کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ اس کے ذریعے عمران خان کے کئی اور نئے جرائم سامنے آنے کو ہیں ۔ خفیہ دستاویزات کا اپنی تحویل میں لینا اور پھر گُم کر دینا، اعظم خان کے اپنے کیرئیر کو تباہی سے ہمکنار کرنے کے لئے کافی ہے۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کوئی وزیراعظم قومی سلا متی کے راز طشت از بام کرتا رہا ۔ اپنے ایک کالم میں حفیظ الله خان نیازی لکھتے ہیں کہ عمران خان نے اقتدار کے حصول اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد وطن عزیز کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں کوئی بُخل نہیں دکھایا۔
ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا مراسلے کی حقانیت پر اعترافی بیان کوئی نئی خبر ہے نہ ہی اچنبھے کی بات ہے۔کئی ماہ پہلے آڈیو لیکس آئیں ، جن کی تردید ہوئی نہ فرانزک کا مطالبہ ہوا، عمران خان نے اعظم خان سے مِل کر جو کھیل کھیلا یہ لیکس اُسکی تفصیلات ،جُزئیات پہلی دفعہ منظر عام پر لے کر آئے۔ فواد حسن فواد اور احد چیمہ کو ہدیہ تبریک پیش کیا جانا چاہئیے کہ انہوں نے اپنے کیرئیر کو اپنے سامنے جیل میں خرچ ہوتے دیکھا ، دو تین سال جیل کاٹ لی مگر اعترافی بیان اس لئے نہ دیا کہ الزامات کو جھوٹ سمجھتے تھے۔
حفیظ الله خان نیازی کہتے ہیں کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کی جانب سے بھیجا گیا وہ مراسلہ ، جس میں امریکی نائب صدر ڈونلڈ لُو کے عمران خان بارے تحفظات درج تھے اس کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو بیرونِ ملک پاکستانی سفاتخانوں کی طرف ایسے درجنوں مراسلے آنا اور قابل اعتراض اقتباس پر درمیانے سے سخت احتجاج دینا ایک معمول ہے۔ عمران خان نے بات کا بتنگڑ بنایا۔ توڑ مروڑ، مبالغہ و حاشیہ آرائی کی۔ آج کی سیاست کی بنیاد اُسی جھوٹ اور دھوکہ پر استوار ہے ،عمران نے اس جہاد میں جھوٹ دھوکہ اور خود غرضی کے کسب میں کمال اور مہارت کو فنونِ لطیفہ کے درجہ پر پہنچا دیا۔ اس سے پہلے اقتدار سے علیحدگی کا جب یقین ہوچلا تو جہاں IMF معاہدے کی دھجیاں اُڑائیں وہیں معیشت کو تباہ کرنے کے لئے بارودی سُرنگوں کا جال بچھایا ۔ عمران خان کو خود معلوم تھا کہ ان کا ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت ملکی تاریخ کا کرپٹ ترین ۔بد انتظامی اور نالائقی میں ایک مثال رہا۔
انہیں معلوم تھا کہ کڑے وقت میں امریکی سازش ، اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ مع اسلامی ٹچ بیانیہ کار آمد رہنا ہے۔ 27مارچ 2022 کے جلسے کا نام ہی’’ اَمر بالمعروف‘‘ تھا اِسی سلسلے کی کڑی تھا تا کہ جھوٹ کی سیاست کو اسلامی نعروں کی آڑ میں پذیرائی ملے۔ حفیظ الله خان نیازی کہتے ہیں کہ میرا مقدمہ مگر یہ ہے کہ اعظم خان کا اعترافی بیان 27 مارچ کے فوراً بعد کیوں نہ لیا گیا ؟ اعظم خان تو ہمیشہ سے گھڑے کی مچھلی تھا ،ا۔ بُرائی کو جڑ سے کیوں نہ پکڑا گیا، 15 مہینے انتظار کیوں کیا گیا ، جب تک عمران خان عفریت نہ بن گیا . چند ماہ ہونے کو امریکہ سے خبر آئی کہ سابق صدر ٹرمپ کی ریاست فلوریڈا میں 20 ایکڑ پر پھیلی تفریحی رہائش گاہ پرامریکی FBI نے چھاپا مار کر وہاں سے درجنوں ایسی خفیہ دستاویزات قبضے میں لیں جو غیر قانونی طور پر ٹرمپ ہتھیا چُکا تھا۔پچھلے مہینے سے امریکی حکومت نے ٹرمپ کے اس مجرمانہ فعل کیخلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ ٹرمپ نے کارروائی رکوانے کے لئے تمام عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے، بے سود گئے۔ 234سال کی امریکی تاریخ میں 46 صدور گزرے ہیں مگر ، ٹرمپ اکلوتا ہے جو ایسے مجرمانہ فعل کا مرتکب ہوا ہے۔ امکان کہ وہ جلد از جلد جیل چلّ جاۓ گا کیوں کہ امریکہ میں قومی خفیہ دستاویزات سے کھیلنے والے کے لئے کڑی سزائیں متعین ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں اتنے بڑے واقعہ کے بعد جبکہ اداروں کے پاس آڈیو ریکارڈ نگ موجود تھیں ، اعظم خان کواُسی وقت سلطانی گواہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ عمران خان کے جھوٹ پر مبنی بیانیہ کو شعوری طور پر پنپنے دینا ہی آج کی تباہی وبربادی اور وطنِ عزیزکے بندگلی تک کے سفر کی اصل وجہ ہے۔ ۔ کریڈٹ عمران خان کو دینا ہوگا کہ جلسوں بازاروں میں جنرل باجوہ کی تفصیلی دُرگت بھی بنائی اور اُسکی مجبوری وخودغرضی اور مفاد پرستی پر اپنی سیاست کو چمکایا بھی ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے مفادات کے دباؤ میں مراسلہ کے اوپر عمران خان کے جھوٹ کو عام ہونے دیا۔ اسی تگ و دو میں اتحادی حکومت کو عمران خان کیخلاف ہر قسم کی فوجداری اور نیب کی کارروائی سے بھی روکے رکھا، بذریعہ جنرل فیض عمران خان کو فیض یاب رکھا۔ عدالتوں سے حق میں فیصلے آئے۔ ضمنی انتخابات میں موافق حالات مہیا کئے کیوں کہ جنرل باجوہ عمران خان کے دباؤ میں اتحادی حکومت کو الیکشن یا اپنی توسیع مدتِ ملازمت یا اپنی مرضی کا سربراہ بنوانے کے لئےمجبور رکھنا چاہتا تھا۔
حفیظ الله نیازی کے بقول یہی وجہ تھی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل بابر افتخار3 ماہ بعدسامنے آئے بھی توادب آداب کو ملحوظ خاطر رکھا۔ مراسلہ کو لغو قرار دیا تو عمران خان نے اگلے دن ہی عسکری قیادت کو جھاڑ پلا دی کہ’’ سیاست میں دخل مت دو‘‘، ہمارے عساکر نے اُسکا ہر گز بُرا نہ منایا کہ مفادات آڑے تھے۔ اعظم خان کا چشم کُشا اعترافی بیان سامنے آیا تو ہے مگر ، عمران خان پہلےسے ہی اپنے جھوٹ کو سیاست کی سیسہ پلائی دیوار بنا چُکا ہے۔ اگرچہ عمران کے لئے قانونی طور پر مشکلات نے بڑھنا ہے مگر سیاسی طور پر یہ سب بے اثر رہنا ہے۔ یقیناً اعظم خان کو مزید بڑھ چڑھ کر آگے آنا ہو گا۔ عمران خان کی ناک کے نیچے ہونے والے ہر مجرمانہ فعل میں اعظم خان کی گواہی معتبر ہے۔ دیر آید کی درستی کرنا ہو گی۔ ہر صورت میں ہر کیس میں عدالتی نظام کو بھی سُرعت کیساتھ کارروائی مکمل کرنا ہو گی۔ اس سے پہلے کہ 9مئی سمیت باقی سارے جرائم قصہ پارینہ بنیں۔ ملکی سیاست سے جرائم کے ناسور کا قلع قمع نہ ہوا تو ریاست کا اللہ ہی حافظ۔
