وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسرائیل نامی ناجائز یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالےسے امریکی دباؤ کے اعتراف کے بعد پاکستانی عوام کو خدشہ کہ کہیں عمران خان اس معاملے میں بھی یوٹرن لے کر اسرائیل کو تسلیم ہی نہ کر لیں۔
اہلیان پاکستان کو پاک اسرائیل تعلقات کے حوالے سے اس لئے تشویش لاحق ہوگئی ہے کہ عمران خان جو کام بھی نہ کرنے کا یقین دلاتے ہیں بعد میں یوٹرن لے کر وہی کام کر بھی جاتے ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے امریکی دبائو کے اعتراف اور حال ہی میں کئی عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کپتان نے یہ بیان شاید عوام کا ردعمل جانچنے کے لئے کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس حوالے سے کوئی اہم فیصلہ کیا جائے۔
وزیر اعظم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو بطور ریاست اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گا جب تک وہ فلسطین کو آزادی نہیں دے دیتا۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں تین مسلم ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے بعد پاکستان کے بعض حلقوں کا اصرار تھا کہ پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
ادھر پہلی مرتبہ وزیراعظم عمران خان نے یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کو امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے بالخصوص حال ہی میں تین عرب ممالک کے تل ابیب کے ساتھ امن معاہدوں کے تناظر میں، لیکن عمران خان کے بقول ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایسا تصفیہ نہ ہو جو فلسطین کو مطمئن کرسکے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ صدارتی انتخابات میں دوسری مدت کے لئے وائٹ ہاوس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہنے والےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ غیر معمولی تھا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا کسی اور مسلمان ملک کو بھی پاکستان جیسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسی چیزیں ہم نہیں کہہ سکتے، ہمارے ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد فلسطین کے حوالے سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نقش قدم پر چلتا رہے گا یعنی جب تک عرب حصے کے لیے انصاف نہ ہو، پاکستان یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب، بنگہ دیش، عراق، ایران، کویت، لبنان، لیبیا، ملائیشیا، شام، یمن اور الجیریا ناجائز یہودی ریاست اسرائیل اور اسکے پاسپورٹ کو تسلیم نہیں کرتے لیکن حال ہی میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات ایک تاریخی امن معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔ بحرین نے بھی صیہونی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ افریقہ کے بڑے مسلم ملک سوڈان نے بھی حال ہی میں اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔ یعنی مصر، اردن، ترکی، البانیہ، سوڈان، متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے مسلم ممالک اسرائیل کو باقاعدہ ایک جائز ریاست تسلیم کرچکے ہیں۔ دونوں عرب ملکوں کے اور اسرائیل کے درمیان یہ تاریخی معاہدے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پائے ہیں۔ اس لئے یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر بھی ایسا کرنے کے حوالے سے دبائو ڈالتی رہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان بھی ان اسلامی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا بلکہ پاکستان کے پاسپورٹ پر واضح طور پر درج ہے کہ اس دستاویز پر اسرائیل کے سوا دنیا کے سبھی ممالک کا سفر کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اب پاکستان میں بھی امریکی سوچ کے زیر اثر طاقتور حلقوں کا یہ موقف ہے کہ اسرائیل ایک اہم معاشی اور فوجی طاقت ہے جس کے ساتھ تعلقات سے بھارت، مصر اور ترکی سمیت کئی ممالک نے فوائد حاصل کئے ہیں تو ایسے میں پاکستان کو بھی اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اب یہ سوال بھی پوچھا جاتا ہے کہ کیا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کو ان عرب ممالک کی طرف سے کوئی فائدہ پہنچا ہے جو اسرائیل کے خلاف ہیں؟ اب متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ اگر برادر اسلامی ممالک اپنی پالیسی تبدیل کر رہے ہیں تو ہمیں بھی ایسا سوچنا چاہیے۔ اگرچہ عمران خان نے اس کی نفی کی ہے تاہم ناقدین کو خدشہ ہے کہ جس طرح کپتان پہلے بھی کئی اہم معاملات پر یوٹرن لے چکے ہیں ، ممکنہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بھی اپنا موقف تبدیل کرسکتے ہیں اور ان کی جانب سے کھلے عام یہ اقرار کہ امریکہ ایسا کرنے کے لئےا دبائو ڈال رہا ہے۔ شاید عوامی دعمل جانچنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی دباؤ تھا بھی تو اب ٹرمپ کا اقتدار ختم ہو جانے کے بعد اس کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔
