شہباز شریف اور ترین ملاقات میں بڑا بریک تھرو ہو گیا؟

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور جہانگیر خان ترین کے مابین ایک انتہائی خفیہ ملاقات کے بعد مسلم لیگ نون کی جانب سے مرکز اور پنجاب میں عدم اعتماد کی تحاریک کامیاب بنانے کے لیے نمبرز گیم مکمل ہونے کا دعویٰ کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد سے اپوزیشن جماعتوں کی قیادت حکومتی اتحادیوں کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی یا خفیہ رابطوں میں مصروف تھی لیکن اب ان رابطوں کی خبریں باہر آنا شروع ہوگئی ہیں۔ اس حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی خبر یہ ہے سامنے آئی ہے کہ شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر خان ترین سے خفیہ ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے موقف کی تائید کی ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف نے تحریک عدم اعتماد کی یقینی کامیابی کے لیے خفیہ رابطوں کی سٹریٹجی سوچ سمجھ کر اپنائی ہے تا کہ دشمن کو اندھیرے میں رکھ کر مارا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس شخص کو خفیہ ہاتھ نے وزیر اعظم بنوایا ہو اسے اقتدار سے نکالنے کے لیے خفیہ طریقے سے ہی چلنا پڑتا ہے۔
جب شہباز شریف سے ملاقات کی تصدیق کے لیے سینیئر صحافی انصار عباسی نے جہانگیر ترین سے رابطہ کیا تو انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک لانے کے حوالے سے کوئی موقف تو نہ دیا لیکن اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستانی عوام اس وقت حکومت کی ناکامیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں جس کا حل نکالنا ضروری ہے۔
شہباز شریف سے ملاقات کی تصدیق یا تردید کیے بغیر ترین نے کہا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ان کے گروپ کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے انہیں کوئی بھی سیاسی فیصلہ کرنے کا مینڈیٹ دے دیا ہے جسے عوام کے بہترین مفاد میں استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاست دان کی حیثیت سے وہ دیگر سیاست دانوں کے ساتھ بات چیت پر یقین رکھتے ہیں اور ایسے رابطے سیاست کا حصہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی ملک کی معاشی صورتحال اور بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہے اور انکے ساتھیوں بھی عوام کی پریشانیوں اور مشکلات سے لا تعلق نہیں رہ سکتے۔ یاد رہے کہ اعداد و شمار کے آئینے میں اگر جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اور پنجاب اسمبلی حکومت سے علیحدہ ہو جائیں تو مرکز اور صوبے میں عمران اور بزدار کی حکومتیں ختم ہو جائیں گے۔
21 سے 25 فروری کے دوران تحریک عدم اعتماد لانے کا امکان
دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللّٰہ نے دعوی کیا یے کہ وفاق اور پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ نمبرز حاصل کر لیے گے ہیں۔ جیونیوز کے پروگرام’ آج شاہ زیب خان زادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ اپوزیشن میجک نمبر حاصل کرنے کے بعد بھی چاہتی ہے کہ ’’کمفرٹیبل زون‘‘ میں جا کر تحریک عدم اعتماد لائے تاکہ اگر دو چار لوگ آگے پیچھے بھی ہو جائیں تو کوئی فرق نہ پڑے۔ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو 4 اور پنجاب میں 18 ووٹ درکار تھے لہذا اب مرکز اور پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانا کوئی مشکل کام نہیں رہ گیا۔
دوسری جانب شہباز شریف کے ساتھ اپنی ملاقات کی خبریں سامنے آنے کے بعد جہانگیر ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گروپ میں شامل ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 30 سے زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کی ایک بڑی تعداد نے پچھلے دس دن میں دو مرتبہ لاہور میں ملاقات کی ہے اور جہانگیر ترین پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے یہ ارکان پارلیمنٹ پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی اور ترین کے قریبی ساتھی امین چوہدری کے بھائی عون چوہدری کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں شریک ہوئے۔
جن لوگوں نے لاہور میں ہونے والی ملاقات میں شرکت کی ان میں ارکان قومی اسمبلی خواجہ شیراز، سردار ریاض مزاری، راجہ ریاض، مبین عالم انور، غلام لالی، صوبائی وزراء نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ، وزیراعلیٰ کے مشیر فیصل جبونا، عبدالحئی دستی، ارکان صوبائی اسمبلی چوہدری زوار، اسلم بھروانہ، طاہر رندھاوا، سلمان نعیم، عمر آفتاب ڈھلون، اسحاق خاکوانی اور دیگر شامل تھے۔ اس سے پہلے جہانگیر ترین کی قیادت میں اس گروپ نے قذافی اسٹیڈیم کے لائونج میں ملتان سلطان کا کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے بھی ایک ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں سب نے مل کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور جہانگیر ترین کی قیادت پر اعتماد کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب شہباز شریف کے ساتھ اپنی خفیہ ملاقات بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ سیاست دان ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور آج کل کافی ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ تاہم، شہباز شریف اور جہانگیر ترین کے درمیان ہونے والی ملاقات کا پارٹی رہنماؤں کو بھی علم نہیں تھا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین اور شہباز شریف کی ملاقات کا اصل ایجنڈا تحریک عدم اعتماد ہی تھا لیکن اس حوالے سے تمام تر معاملات کو انتہائی خفیہ رکھا جا رہا ہے۔
نون لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف کے کچھ سیاست دانوں کو معلوم ہے کہ پس منظر میں کیا کچھڑی پک رہی ہے۔ ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کئی سینئر رہنماؤں کو بھی علم نہیں کہ پس منظر میں کیا ہو رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں لائی جانے والی تحاریک عدم اعتماد کے لیے تمام تر سیاسی ملاقاتیں اور جوڑ توڑ کھلے عام کیا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ اپوزیشن نے خفیہ ایجنسیوں والا خفیہ طریقہ کار اپنایا ہے تاکہ مخالف بے خبری میں مارا جائے۔ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اپوزیشن کی خفیہ حکمت عملی دراصل خفیہ والوں کی یے جو کہ خفیہ طریقے سے اپوزیشن کا خفیہ ساتھ دینے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔
