21 سے 25 فروری کے دوران تحریک عدم اعتماد لانے کا امکان

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور جہانگیر خان ترین کی خفیہ ملاقات کی خبر سامنے آ جانے کے بعد اب اپوزیشن حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان مخالف تحریک عدم اعتماد 21 سے 25 فروری کے دوران کسی بھی روز دائر کر دی جائے گی جس کا اعلان اپوزیشن کی قیادت اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کرے گی۔ حزب اختلاف کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے لیے نمبرز گیم ہوری کر لی ہے اور اب ان کا بچنا محال ہے۔

اپوزیشن والے جس اعتماد سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات کا اظہار کر رہے ہیں اس سے یہ شک بھی پڑتا ہے کہ شائد حزب اختلاف اور طاقت ور فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ایک صفحے پر آ چکے ہیں۔ اسلام آباد میں اس وقت اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ہی سب سے اہم ترین موضوع ہے اور ’’ملین ڈالرز کوئسچن‘‘ یہی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کب دائر کی جائے گی۔

حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار اپوزیشن جماعتوں کے قائدین مطلوبہ نتائج کے یقینی حصول کیلئے پھونک پھونک کر قدم بڑھا رہے ہیں تاکہ عمران خان کو کاؤنٹر اسٹریٹجی بنانے میں مشکل ہو اور انہیں حزب اختلاف کی منصوبہ بندی بارے آخری لمحے تک لاعلم رکھا جا سکے۔ اسی لیے نہ تو جہانگیر ترین اور شہباز شریف کی ملاقات کھلے عام ہوئی اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں کے قائدین عمران کی دیگر اتحادی جماعتوں کی قیادت سے سرعام ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

اس دوران ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی اسلام آباد میں موجود اعلیٰ قیادت کی کچھ اہم ترین خفیہ رابطے بھی ہو چکے ہیں جن کے بعد حزب اختلاف کو اپنی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا اور بھی یقین ہو گیا ہے۔ اس سارے تناظر میں اگر اپوزیشن ذرائع اپنی متوقع کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں تو انہیں یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

سیندک منصوبے میں توسیع آئین و قانون کی خلاف ورزی قرار

اپوزیشن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مطلوبہ نمبرز گیم پوری ہو جانے کے باوجود کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے 172 کی میجک فگر میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ ناکامی کے امکانات کو صفر کیا جا سکے۔ دوسری طرف حکومت کی اتحادی جماعتوں اور قومی و پنجاب اسمبلی میں عددی اعتبار سے ایک بڑے پارلیمانی گروپ کی سیاست پر دسترس رکھنے والے جہانگیر ترین خان نے بھی یہ مشترکہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ وہ اپنے فیصلے کا اعلان وقت آنے پر کریں گے اس طرح حکومت مخالف اور حکومتی اتحاد میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے راہنمائوں نے اپنے اپنے کارڈ سینے سے لگا رکھے ہیں.

جس سے حکومت بھی گومگو اور تذبذب کا شکار ہے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے کپتان کی تحریک انصاف کے اندر ایک گروپ علیحدہ ہو کر سامنے آئے گا جس کے بعد ان کے چاروں اتحادی ٹوٹ کر ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک صورتحال واضح نہیں کہ تحریک عدم اعتماد سب سے پہلے پنجاب میں لائی جائے گی، سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف یا پھر وزیر اعظم کے خلاف لائی جائے گی؟ اس حوالے سے اسٹریٹجی کو خفیہ رکھا جا رہا ہے لیکن فی الحال جو حالات نظر آرہے ہیں.

ان میں یہ امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ اپوزیشن اور جہانگیر ترین پہلے پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لائیں۔ یوں ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے، پنجاب کی حکومت گرانے کا مقصد ”شاہ“ کو شہ دینا بھی ہو گا کہ تمھارا اہم پیادہ مارا گیا اب تم اپنی خیر مناؤ، پنجاب حکومت کو الٹانا اپوزیشن کے لئے ذیادہ آسان ہے اور اگر اپوزیشن یہ معرکہ مار لیتی ہے تو پھر وفاق میں عمران خان کو گرانا اور بھی زیادہ آسان ہو جائے گا۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ وفاق ہو یا پنجاب، موجودہ سیاسی ہلچل میں جہانگیر ترین کا طیارہ ”اقتدار کی ہما“ کا درجہ حاصل کر گیا ہے کیونکہ جہاں ترین کا جہاز لینڈ کرے گا، اقتدار کا ہما اسی جماعت کے سر بیٹھے گا۔

Back to top button