عمران خان کا جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر یوٹرن

اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان کے مشورے پر وزیراعظم عمران خان نے آن لائن نیوز ایجنسی کے زیر حراست مالک محسن بیگ کے گھر چھاپے کو غیر قانونی قرار دینے والے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی تجویز اب بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو متعلقہ جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا مشورہ وزیر قانون فروغ نسیم نے دیا تھا جس کے بعد وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں یہ اعلان کردیا گیا تھا۔ تاہم اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اس عمل کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعظم کو یہ قانونی نقطہ سمجھایا ہے کسی بھی عدالت کے جج کے خلاف کسی فیصلے کی بنیاد پر کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا موقف تھا کہ اگر ایسا کوئی ریفرنس اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کیا گیا تو عدالت اسے مسترد کر دی گی جس سے حکومت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے 2019 میں بھی وزیر قانون فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان کو جسٹس وقار سیٹھ کے مشرف کو پھانسی دینے کے فیصلے کے بعد ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن ایسا نہ ہو پایا۔
وجہ یہی تھی کہ کسی جج کے خلاف اس کے فیصلے کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ 18 فروری کے روز محسن بیگ کی اہلیہ کی جانب سے ان کے خلاف درج کیس ختم کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے واضح طور پر یہ ریمارکس دیئے تھے کہ جج حکومتی اقدامات سے گھبرانے والے نہیں اور اگر حکومت کوئی ریفرنس دائر کرنا چاہتی ہے تو کر کے دیکھ لے۔
اب اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے خود واضح کر دیا یے کہ محسن بیگ کے گھر پر مارے جانے والے چھاپے کو غیرقانونی قرار دینے والے ایڈیشل سیشن جج کے خلاف ریفرنس فائل نہیں کیا جا رہا، جیو نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے، ایسا کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا جا رہا، تاہم حکومت چاہے تو فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
جمعے کو جب اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے سامنے وزیراعظم سے ملاقات میں ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے کی بات رکھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں کچھ غلط فہمی ہو گئی، انفرادی کیسز کو ڈسکس کرنا وزیر اعظم کا کام نہیں ہے، شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہو، جو انہوں نے ایسی بات کہہ دی تھی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے حکومت نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن پھر اسے بھاگنا پڑ گیا۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے اپنے تحریری فیصلے میں سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزائے موت سناتے ہوئے پیرا 66 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سزا پر عملدآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’اگر جنرل پرویز مشرف کی لاش بھی ملے تو گھسیٹ کر ڈی چوک اسلام آباد لائی جائے اور تین روز تک لٹکائی جائے۔‘ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ کے لکھے گئے پیرا 66 پر نہ صرف حکومت بلکہ افواج پاکستان نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔
بعد ازاں فروغ نسیم اور فواد چوہدری نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں جسٹس وقار سیٹھ کی ذہنی کیفیت کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ایسا نہ ہو پایا۔ تاہم اس پریس کانفرنس کی بنیاد پر وفاقی وزراء کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ضرور شروع کر دی گئی تھی جو پشاور ہائی کورٹ میں اب بھی جاری ہے۔
عمران خان کی ذلت کے دن جلد شروع ہونے والے ہیں
آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو مسترد کرتے ہوئے بھی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ صدر پاکستان اور وزیر قانون سمیت کوئی بھی شخص کسی ادارے کو جج کے خلاف انکوائری کا حکم نہیں دے سکتا۔ عدالت نے کہا تھا کہ آرٹیکل 209 کی شق 5 اور 6 کے مطابق کسی جج کے خلاف انکوائری صرف سپریم جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے اور صدر پاکستان، وزیر قانون سمیت کوئی بھی شخص کسی ادارے کو جج کے خلاف انکوائری کا حکم نہیں دے سکتا۔ خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف اثاثے ظاہر نہ کرنے پر مخلتف اداروں کو انکوائری کا حکم دیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اسے غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔
یاد رہے کہ 17 فروری کو پی ایم ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان سے ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی کی ملاقات کے بعد وزارت قانون کے ایک اہلکار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حکومت نے محسن بیگ کے گھر پر چھاپے کو غیر قانونی قرار دینے والے جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی نے کہا تھا کہ ’وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قانون سے باتر نہیں، محسن بیگ نے اہلکاروں پر فائرنگ کی جبکہ ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلے میں جو کچھ لکھا ہے وہ مینڈیٹ سے تجاوز ہے۔
جب بندہ آپ کے سامنے آ گیا تو آپ کا مینڈیٹ ختم ہو گیا۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف انتظامی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دی جائے گی اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف کارروائی کی درخواست کریں گے۔
یاد رہے 16 فروری کو ایف آئی اے کی جانب سے تجزیہ کار اور میڈیا مالک محسن کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور مزاحمت پر ان کے خلاف اقدام قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا۔ جس کے بعد ان کے اہل خانہ نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر ایڈیشنل سیشن جج نے چھاپے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے محسن بیگ کی گرفتاری کے خلاف دائر ایک پیٹیشن پر سماعت کے بعد جاری ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے میں کہا تھا کہ چھاپہ مار ٹیم میں جو لوگ شامل تھے انہیں ایسی کسی بھی کارروائی کا اختیار حاصل ہی نہیں تھا۔
ایڈیشنل سیشن جج نے ظفر اقبال نے اپنے فیصلے میں سوال اٹھایا کہ محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے لاہور نے 9 بجے مقدمہ درج کیا ساڑھے نو بجے ٹیمیں اسلام آباد کیسے پہنچی؟فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد پولیس کو محسن بیگ کے بجائے غیر قانونی طور پر چھاپہ مارنے والوں کے خلاف غیر قانونی چھاپہ مارنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی چاہیے۔
