اہم عہدوں پر فائز رہنے والا شخص خواتین کو ہراساں کرتاہے
قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین نو رعالم نے کہا ہے کچھ اداروں اور افراد کو آئین میں مداخلت کا شوق ہے، ہم تمام اداروں بشمول سپریم کورت، نیب اور وزارت دفاع، سب سے ان کی کارکردگی سے متعلق پوچھ سکتے ہیں۔
راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں انکا کہناتھا ایک عوامی شکایت ہمارے پاس آئی، ہم نے متاثرہ فریق کو پی اے سی میں بلایا، اس نے ہمیں سابق چیئرمین نیب کی ویڈیو دیکھائی، جس میں وہ کچھ نازیبا گفتگو اور حرکات و سکنات کر رہے تھےتو ہم نے اس کو طلبی کا نوٹس دیا۔
انہوں نے کہا بطور چیئرمین پی ای سی ایک عوامی شکایت کا نوٹس لیا تو وہ افسران جن کے خلاف نوٹس لیا گیا تو عدالت چلے گئے کہ ہم سے سوال نہ پوچھا جائے، ہمیں اثاثے ظاہر کرنے کا نہ کہا جائے، ہمارے خلاف عوامی شکایت نہ سنی جائے۔
نور عالم خان نے کہا کہ ایک شخص جو ملک کے اتنے اہم ترین عہدوں پر رہا ہو، وہ خواتین کو ہراساں کرتا ہے، لاپتا لوگوں کے لیے کام کرنے والی معروف رہنما آمنہ جنجوعہ نے بھی کہا ہے کہ مسنگ پرسنز کمیشن میں جاوید اقبال نے اپنے لاپنا شوہر کی متلاشی ایک خاتون کو کہا کہ آپ اتنی خوبصورت ہیں، آپ کو شوہر کی کیا ضرورت ہے،پی اے سی نے رولز کے تحت مجھے انصاف مانگنے والی خاتون کو بلانے کا اختیار دیا، جب اس خاتون کو بلاکر سنا تو رونگٹے کھڑے ہوگئے،ایسے شخص کو مسنگ پرسنز کمیشن کا سربراہ بنانا چاہیے جو خواتین کو ہراساں کرنے میں ملوث ہو، ہمیں ان چیزوں پر غور کرنا چاہیے۔
چیئرمین پی اے سی نے کہا میں خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں، میرے اثاثوں کا حساب لی جائے، میرا گناہ یہ ہے کہ میں کرپشن کے خلاف بولتا ہوں، غریب کے لیے آواز اٹھاتا ہوں، میں نے سابق حکومت کے وزرا کے خلاف آواز اٹھائی اور میں اس حکومت میں کوئی غیر قانونی کام دیکھوں گا تو آواز ضرور اٹھاؤں گا، میں آئین کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہوں، کرپشن کے خلاف خاموش نہیں بیٹھوں گا۔
یوم تکبیر کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا
انکا کہنا تھا ملک میں امیر اور طاقتور لوگ کرپشن میں ملوث ہیں، ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، صرف غریب کو پکڑا جاتا ہے تو ملک کی معیشت کیسے ٹھیک ہوگی، مختلف مافیاز ٹیکس نہیں دیتے اور ملک کے وسائل کو استعمال کرتے ہیں، اگر ملک کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے اور میں بطور چیئرمین پی اے سی نوٹس لیتا ہوں تو کونسا گناہ کرتا ہوں، یاتو پھر ملک کی عدالتیں بتادیں کہ کرپشن کی اجازت ہے۔
نور عالم نے کہاتمام اداروں کو چاہیے کہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر ملک کے لیے کام کریں، عدالتیں آئین کی تشریح کرسکتی ہیں لیکن آئین بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے، عدالتیں آئین میں تبدیلی نہیں کرسکتا،آئین پی اے سی کو عوامی شکایت سننے کی اجازت دیتا ہے، میں اپنا سر کٹوادوں گا لیکن ملک کی بہن، بیٹی کے سر پر چادر ضرور ڈالوں گا، ایک افسر اگر اپنے اثاثہ جات دے سکتا ہے تو نیب کے افسران کیوں نہیں دے سکتے، نیب کے افسران اگر پہلے فوج میں تھے تو اس دورانیے کے اثاثے نہ دیں، نیب افسران جب سے سول افسران بنے ہیں تو اس کے بعدتو اپنے اثاثے وزارت قانون یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں جمع کرائیں۔
انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا کہ نیب اپنے افسران کے اثاثوں کا ریکارڈ اپنے پاس ہی جمع کرکے رکھ لے، مہمند ڈیم میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اس کی تحقیقات کرنا چاہتا ہوں میں کسی صورت سمجھوتہ نہیں کروں گا ، بے شک مجھے عدالت بلاکر نااہل قرار دے دیں میں پیچھے نہیں ہٹوں گا، کار ساز کمپنیوں اور سگریٹ والوں پر ہاتھ ڈالتا ہوں تو سفارشیں آتی ہیں۔
نور عالم نے کہا نیب اور سپریم کورٹ حساب دینے کو تیار نہیں، مجھے عدالت بلائیں اور چھ ماہ کیلئے جیل بھیج دیں ، وزیر قانون عدالتوں کو بتادیں کہ آئین پارلیمنٹ کو کیا اختیار دیتا ہے ، تمام ادارے اپنی حدود میں رہیں ، عدالتیں آئین کی تشریح کریں، آئین ہم بناسکتے ہیں، آئین بنانا پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔
