عبداللہ شفیق کی شاندار سنچری، پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف مضبوط پوزیشن سنبھال لی

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے اور آخری مقابلے میں شاندار کم بیک کرتے ہوئے دوسرے روز کے اختتام تک پہلی اننگز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز بنا لیے۔ اوپنر عبداللہ شفیق کی ذمہ دارانہ سنچری اور بابر اعظم کے ساتھ تیسری وکٹ پر ناقابلِ شکست 168 رنز کی شراکت نے قومی ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ کھیل کے اختتام پر عبداللہ شفیق 107 اور بابر اعظم 86 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے، جبکہ پاکستان کو ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کا خسارہ ختم کرنے کے لیے مزید 78 رنز درکار ہیں۔
اس سے قبل دوسرے روز ویسٹ انڈیز نے اپنی نامکمل اننگز 239 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ پر دوبارہ شروع کی۔ جسٹن گریوز اور کپتان روسٹن چیس نے اننگز کو آگے بڑھانے کی کوشش کی، تاہم پاکستانی باؤلرز نے وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو 344 رنز پر محدود کر دیا۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے جسٹن گریوز نے 73 اور کپتان روسٹن چیس نے 70 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلیں، جبکہ برینڈن کنگ 46، شائے ہوپ 29 اور عامر جنگو 26 رنز بنا سکے۔
پاکستانی باؤلنگ اٹیک میں آف اسپنر ساجد خان سب سے کامیاب رہے، جنہوں نے 32.4 اوورز میں 85 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ فاسٹ باؤلرز محمد علی، عبید شاہ اور علی عثمان نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے ویسٹ انڈیز کی اننگز سمیٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
344 رنز کے تعاقب میں پاکستان کی جانب سے امام الحق اور اذان اویس نے اننگز کا آغاز کیا۔ دونوں نے پہلی وکٹ پر 34 رنز کا اضافہ کیا، تاہم امام الحق 14 رنز بنا کر شیمار جوزف کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔
اس کے بعد نوجوان بیٹر اذان اویس نے پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی۔ انہوں نے 55 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر ٹیم کو مستحکم بنیاد فراہم کی، جس کے بعد وہ پویلین لوٹ گئے۔
اذان اویس کے آؤٹ ہونے کے بعد عبداللہ شفیق اور بابر اعظم نے ذمہ داری سنبھالی اور ویسٹ انڈیز کے باؤلرز کو کسی کامیابی کا موقع نہ دیتے ہوئے تیسری وکٹ پر 168 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کر دی۔ دونوں بیٹرز نے صبر آزما بیٹنگ کے ساتھ ساتھ جارحانہ اسٹروکس بھی کھیلے اور اسکور کو تیزی سے آگے بڑھایا۔
عبداللہ شفیق نے شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی چھٹی سنچری مکمل کی۔ انہوں نے 107 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز میں عمدہ تکنیک اور اعتماد کا مظاہرہ کیا، جبکہ کپتان بابر اعظم بھی بہترین ردھم میں دکھائی دیے اور 86 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
دوسرے روز کے اختتام پر پاکستان کا اسکور 266 رنز دو وکٹوں کے نقصان پر تھا اور قومی ٹیم ویسٹ انڈیز کے پہلی اننگز کے اسکور سے صرف 78 رنز پیچھے تھی۔ اگر تیسرے روز عبداللہ شفیق اور بابر اعظم اپنی شراکت کو مزید آگے بڑھاتے ہیں تو پاکستان نہ صرف خسارہ ختم کر سکتا ہے بلکہ پہلی اننگز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنے کی بھی مضبوط پوزیشن میں آ جائے گا۔
