قائم مقام صدر آزادکشمیرلطیف اکبر پر حملہ،حلقے میں پیپلز پارٹی کارکن قتل

قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چودھری لطیف اکبر پر حملہ کیا گیا جب کہ پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کو ہنگامی شکایت کرتے ہوئے فوری کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا۔
پیپلز پارٹی کے مطابق پولنگ کے روز انتخابی عمل کے دوران قائم مقام صدر آزاد کشمیر اور پارٹی امیدوار چوہدری لطیف اکبر پر جسمانی حملہ کیا گیا، جو نہ صرف انتخابی عمل بلکہ ریاست کے آئینی وقار پر بھی حملہ ہے۔
پیپلز پارٹی کے مطابق یاسر شاہ، احمد شاہ اور فواد شاہ نے چوہدری لطیف اکبر پر حملہ کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ قائم مقام صدر پر حملہ محض ایک انتخابی بے ضابطگی نہیں بلکہ ریاست کے آئینی منصب اور ریاستی نظم پر حملہ ہے، اس لیے اعلیٰ ترین سطح پر فوری ادارہ جاتی ردعمل ناگزیر ہے۔
پیپلز پارٹی کے مطابق نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
پارٹی نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن حملے کا فوری اور اعلیٰ سطح پر نوٹس لے اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کر کے یاسر شاہ، احمد شاہ اور فواد شاہ کے خلاف مقدمہ درج کرائے۔
دوسری جانب صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملے کے بعد ان کے انتخابی حلقہ ایل اے 31 میں پیپلز پارٹی کارکن مشتاق شاہ کو قاتلانہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایل اے 31 میں پیپلز پارٹی کارکن مشتاق شاہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے شہید کارکن کے لواحقین سے اظہار رنج و غم کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پہلے صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ اور پھر انہی کے حلقہ انتخاب میں کارکن مشتاق شاہ کی شہادت سے مسلم لیگ (ن) کی نیت واضح ہوگئی۔ مسلم لیگ (ن) کا نام آزاد کشمیر میں گالی کے مترادف ہے، یہاں سے دھاندلی کرکے مسلم لیگ (ن) کا جیتنا عوام کا ریاست پر اعتماد ختم کر دے گا۔
