اداکارہ کے بولڈ لباس کا تنازع

تحریر: وجاہت مسعود
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ملتان کے ایک حاجی صاحب ہر برس کچھ مدت کیلئے دیار غرب کا سفر کیا کرتے تھے۔ ملتان میں بفضل خدا ایک چھوڑ دو دو مسنونہ بیویاں موجود تھیں لیکن حاجی صاحب التزام سے ہر سال عازم ولایت ہوتے تھے۔ ہمایوں روڈ پر چمڑے کا کاروبار بزرگوں کی دعا سے پھل پھول رہا تھا۔ مختار مسعود کے لفظوں میں جیسا کاروبار تھا، قرین قیاس ہے کہ تفریح کی نوعیت بھی کچھ اسی طرح کی ہو گی۔ دونوں مسنونہ بیگمات میں حاجی صاحب کے لندن پلان کے بارے میں مسکوٹ ہوا کرتی تھی۔ براہ راست سوال جواب کی جرأت تھی اور نہ روایت۔ بالآخر ایک مقسومہ شام جب بادل گلگشت کالونی پر گھر کر آئے تھے، چھوٹی بیگم نے ابر و ماہتاب سے تحریک پا کر حاجی صاحب سے لندن کا راز پوچھ لیا۔ حاجی صاحب نے قصاب جیسی بے مہر آنکھوں سے منکوحہ کی طرف دیکھ کر بے اعتنائی سے فرمایا، ’تم لوگ نہیں سمجھو گی۔ ولایت میں خواتین کے نخرے ہی الگ ہوتے ہیں‘۔ بات نکل گئی اور ملتان میں مقیم مسنونہ بیگمات کے جگر کا گھائو بن گئی۔ دونوں چار دیواری میں قید مستورات، کس سے پوچھیں اور کیونکر ولایت کے نخروں کی تفصیل دریافت کریں۔ بالآخر دونوں نے اپنی باپردہ تربیت کے موافق ولایتی غمزوں کا ایک نقشہ مرتب کر لیا۔ حاجی صاحب لندن سے لوٹے تو ایک شب، عین ہنگام خاص میں، بڑی بیگم نے اچانک حاجت خانہ جانے کی اجازت چاہی۔ حاجی صاحب بدمزہ تو ہوئے لیکن مثانے کا دبائو جانتے تھے اور بزعم خود نیک دل تھے۔ مصنوعی کشاد سے اجازت مرحمت فرمائی۔ بیگم صاحبہ مگر غسل خانے کے راستے ہی سے پلٹ آئیں۔ حاجی صاحب نے اس بے مقصد کارروائی کا سبب جاننا چاہا۔ بیگم صاحبہ نے شرما کر بتایا کہ وہ نخرہ کر رہی تھیں۔

صاحبان، بندہ بے مایہ اردو اخبارات کے صفحہ اول پر فلاں فلاں اداکارہ کے ’بولڈ لباس‘ پر اٹھنے والے تنازعات کی پھیکی سیٹھی خبریں پڑھتا ہے تو ملتان کے حاجی صاحب کی اہلیہ کے تخیل کی تنک پروازی یاد آتی ہے۔ ہمارے صحافی کو کسی نے بتا دیا ہو گا کہ دیار مغرب میں فلمی اداکارائوں کے لباس کے بنائو بگاڑ پر جو ہنگامے اٹھتے ہیں، ان میں تشہیر کا سامان بھی ہوتا ہے اور بہ قدر لب و دنداں یاروں کا کام بھی نکلتا ہے۔ ہمارے اخبار کی خبر پرائے طشت میں رکھے شرار کی آنچ سے اپنے بھیتر کی بجھی راکھ کو ہوا دینے کا لاحاصل شغل ہے۔ سلیم احمد نے لکھا تھا، ’زور وہ اور ہے، پاتا ہے بدن جس سے نمو‘ (مصرع ثانی حیدر تقی مرحوم نے اپنے حین حیات بربنائے ذم حذف کر دیا تھا۔ آج بھی متروک ہی سمجھئے۔) نارووال سے منصوبہ بندی کے دانشور وفاقی وزیر نے اعلان کیا ہے کہ حکومت پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو نیٹ فلیکس پر جگہ دلوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ قبلہ وفاقی وزیر نیک نامی کی شہرت رکھتے ہیں۔ انہیں شاید پاکستانی اور غیر ملکی فلموں اور ڈراموں کے بارے میں زیادہ معلومات نہ ہوں، درویش تجویز دیتا ہے کہ اب سے کوئی چار عشرے قبل بننے والی فلم ’انٹرنیشنل گوریلے‘ بین الاقوامی فلمی میلوں میں بھیجی جائے۔ مزید علمی مشاورت کے لیے پنجاب پولیس میں زیر زمین ثقافت کے شناور کرداروں سے رابطہ کیا جائے۔

قوم کی تعمیر باہم غیر منقطع دائروں میں اور لمحاتی ہیجان کے تابع نہیں ہوتی۔ ایسا نہیں کہ آج اقامت صلوٰۃ کے لیے اتاولے ہو رہے ہیں تو کل بجلی کے کھمبوں سے فلمی پوسٹر نوچنے نکل کھڑے ہوں۔ کبھی طالبان کے حق میں برہان قاطع تراشیں تو کبھی طالبان کے خلاف سینکڑوں صفحوں پر محیط ضخیم فتویٰ رقم فرمائیں ۔ نارووال والوں سے بہتر کون جانتا ہے کہ پارسائی کی باسی کڑھی میں ابال آنے پر جو قانون سازی کی جاتی ہے اس سے بچائو کے لیے حادثاتی طور پر آڑے آنے والے موبائل فون کا منت کش ہونا پڑتا ہے۔ بنیادی قضیہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہم ایک ہمہ جہت اخلاقی بحران کا شکار ہیں۔ ہماری تاریخ عدل میں دیانت کو کم ہی دخل رہا ہے۔ ہماری سیاست کا اڑنے سے پیشتر ہی رنگ زرد تھا۔ ہماری صحافت من حیث المجموع ابتذال کی تلہٹی کی خبر لاتی ہے۔ ہمارے سرکاری اہلکاروں نے اس دھرتی میں باوا کی جاگیر سمجھ کر ہل چلایا ہے۔ہمارے زمیندار طبقے کو ہم عصر اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں ، بھلے آکسفورڈ سے تعلیم پائیں یا برکلے سے اسناد سمیٹ لائیں۔ ہمارے ادیب نے اپنا قلم ہجوم کے بے سمت خروش کے قدموں پر رہن رکھ دیا ہے۔ ہمارے استا د کی علمی قامت پر دھبے ہیں۔ ہمارا عام شہری اجتماعی ذمہ داری سے لاتعلق ہے۔ ان سب خرابیوں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اجتماعی بندوبست کی تعمیر میں کسی اصول ضابطے کو مدنظر نہیں رکھا۔ ہم اہرام مصر کی تعمیر میں چوٹی سے بنیاد کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ علم کی دنیا میں ہم نے اپنے گردوپیش سے مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ معیشت کی منطق سے دست و گریباں ہونا ہمیں مرغوب ہے۔ خارجہ پالیسی میں ہم انا کی شاخ نازک پہ مورچہ باندھتے ہیں۔ پھر اس میں کیا تعجب کہ انسانی ترقی میں ہم 168 ویں نمبر پر ہیں۔ فی کس عرفی آمدنی میں ہمارا نمبر 162 ہے۔ بنیادی اشاریوں پر ہم کس برتے پر دنیا کا مقابلہ کریں گے۔ ہم جنوبی ایشیا میں بھی افغانستان کو چھوڑ کر سب ممالک سے پیچھے ہیں۔ فلم کے شعبے پر توجہ دینا نہایت احسن ہے ۔ فلم اور دیگر فنون عالیہ کسی قوم کی سافٹ پاور کا آئینہ ہوتے ہیں لیکن اس تخلیقی سرگرمی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے۔ کسی ملک میں تخلیقی سرگرمی کا معیار ناگزیر طور پر اجتماعی بندوبست کی توانائی سے بندھا ہے۔ ہم نے جو اجتماعی ذہن مرتب کیا ہے وہ تخلیقی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکا اور سوویت یونین میں فلم کے میدان میں کڑا مقابلہ رہا اور بازی امریکا کے ہاتھ رہی۔ وجہ یہ کہ سوویت یونین میں تخلیقی سرگرمی پر نظریاتی قبا اوڑھے ہوئے کم سواد ، خوشامدی اور جعل ساز اہلکاروں کا اجارہ تھا۔ ایسی مفلوج مخلوق کی تخلیقی کاوش بھیگے ہوئے چوپائے کی طرح غیر فعال ہو جاتی ہے۔آپ فلم کے شعبے پر ضرور توجہ دیں لیکن آپ کی فلم دیکھنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی جس شرح سے اہل پاکستان سرکاری اداروں کی نشریات میں دلچسپی لیتے ہیں۔

 

Back to top button