10 اموات کے بعد آزاد کشمیر خونریز بحران کی لپیٹ میں

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ سرکار کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے راولاکوٹ سے مظفرآباد لانگ مارچ کے اعلان اور اس سے قبل مظاہرین و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان خونریز جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد کی ہلاکت نے پورے خطے کو کشیدگی کی نئی لہر میں دھکیل دیا ہے۔
تاہم بدھ کے روز شروع ہونے والا لانگ مارچ تاحال شروع نہیں ہو سکا اور عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح پر جاری مذاکرات کے نتیجے کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری جانب حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ مظاہرین کو مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل پیدا ہونے والی صورتحال نے امن و امان اور انتخابی عمل پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد منگل کو راولاکوٹ اور سدنوتی میں دو الگ الگ مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ سرکاری حکام کے مطابق ان واقعات میں آٹھ شہری، ایک رینجرز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار سمیت مجموعی طور پر 10 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مرنے والوں میں رینجرز کے نائک امتیاز علی اور کشمیر پولیس کے کانسٹیبل عاقب بھی شامل ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سدنوتی کے علاقے بیٹھک بلوچ کے قریب تقریباً ساڑھے چار سو رینجرز اہلکاروں پر مشتمل قافلے کا راستہ روک کر مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور فائرنگ بھی کی، جس کے بعد جوابی کارروائی میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔راولاکوٹ میں بھی نیو بس ٹرمینل اور دیگر مقامات پر راستے کھلوانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کی تو حکام کے مطابق مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ جوابی کارروائی میں ایک مظاہر ہلاک ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر مسلح افراد نے براہِ راست سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، دھماکہ خیز مواد استعمال کیا اور اہم شاہراہیں بند کر کے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے۔
کشمیر پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈرون نگرانی کے دوران حاصل ہونے والی ویڈیو میں مسلح افراد کی موجودگی دیکھی گئی اور سکیورٹی فورسز پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔ پولیس کے مطابق بیٹھک بلوچ میں ہونے والی فائرنگ سے ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک جبکہ آٹھ پولیس اہلکار، ایف سی کا ایک اہلکار اور محکمہ پی ڈبلیو ڈی کے دو ملازمین زخمی ہوئے۔ آئی جی کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے بھی موقف اختیار کیا کہ یہ گروہ پُرامن نہیں بلکہ مسلح جتھوں کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سکیورٹی اداروں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نہتے تھے اور ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر وہ مسلح ہوتے تو اپنے کارکنوں کی لاشیں نہ اٹھاتے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ بدھ کے روز راولاکوٹ سے مظفر آباد لانگ مارچ شروع ہونا تھا، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی رکن عابد شاہین نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور انہی کے نتائج کی بنیاد پر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے مذاکرات کی نوعیت یا حکومتی نمائندوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب کمشنر پونچھ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر مذاکرات کی کامیابی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر کسی ایسے مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ حکومت نے لانگ مارچ روکنے کے لیے سخت انتظامات کیے ہیں۔ رینجرز، پولیس اور ایف سی کے تقریباً چار ہزار اہلکار حساس مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں جبکہ کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان کے مطابق راولاکوٹ شہر کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور مظاہرین کو مرکزی شاہراہوں کے ذریعے مظفرآباد جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے بقول اگر مظاہرین آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو صرف دشوار گزار پگڈنڈیوں کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
لانگ مارچ کے شرکا کی تعداد کے حوالے سے بھی متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق راولاکوٹ کے علاقے دریک میں ایک ہزار سے پندرہ سو افراد موجود ہیں جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ دھرنے میں تقریباً 40 ہزار افراد شریک ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے شہر میں داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی کے باعث ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ مظفر آباد میں اگرچہ حالات معمول کے مطابق بتائے جا رہے ہیں تاہم شہر بھر میں پولیس، رینجرز اور ایف سی کا گشت جاری ہے۔ بیشتر کاروباری مراکز کھلے ہیں، البتہ بعض مرکزی تجارتی علاقوں میں دکانیں بند رہیں جبکہ بینکوں کی اے ٹی ایمز کے باہر شہریوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔
یہ احتجاج ابتدا میں بجلی کی قیمتوں، مہنگائی اور معاشی مسائل کے خلاف شروع ہوا تھا، تاہم بعد ازاں اس کا محور قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کے لیے مختص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بن گیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں، ترقیاتی فنڈز اور بعض انتظامی فیصلوں سے مقامی وسائل پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔ تنظیم نے 38 نکاتی مطالبات بھی پیش کیے ہیں جن میں حکمران طبقے کی مراعات میں کمی، وزرا اور سیاسی تقرریوں کی تعداد گھٹانے، سرکاری وسائل کے کفایتی استعمال، مفت تعلیم و علاج، صحت کی سہولتوں میں بہتری، بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قیام، نوجوانوں کے لیے روزگار، بلاسود قرضوں، ٹیکسوں میں رعایت، انتظامی و عدالتی اصلاحات، کرپشن کے خاتمے، قدرتی وسائل پر مقامی اختیار، منگلا ڈیم معاوضوں کی ادائیگی اور دیگر اصلاحات شامل ہیں۔
حکومت اور عدالتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے، جبکہ حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث قرار دے کر اس پر پابندی بھی عائد کر رکھی ہے، جسے تنظیم مسترد کرتی ہے۔
صورتحال کے پیش نظر حکومت نے تعلیمی اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے طلبہ و طالبات کو احتجاجی سرگرمیوں سے دور رکھنے، والدین کو آگاہ کرنے اور طلبہ کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ احتجاج کے دوران خواتین، بچوں اور طلبہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم احتجاجی قیادت نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ادھر سیاسی سطح پر بھی بحران کے حل کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ مہاجرینِ کشمیر کی نمائندگی ختم کرنے کے حق میں نہیں، تاہم آزاد کشمیر میں تشدد کی سیاست بھی قبول نہیں کی جا سکتی۔ ان کے بقول وفاقی وزرا کے بعض بیانات نے بحران میں اضافہ کیا اور مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام ہی کریں گے۔
